معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کی ناکام شادیوں کی کہانی

کسی بھی انسانی معاشرے میں کوئی مرد یا عورت ایسی نہیں جس کے ساتھ کوئی کہانی نہ جُڑی ہو لیکن عورت کی کہانی میں چونکہ مصالحے کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں، اس لئے وہ چٹخارے دار ہوتی ہے۔۔ کچھ ایسا ہی مصالحہ حدیقہ کیانی کی کہانی میں ہے، یہ تب کی بات ہے جب تھری ڈی اینی میٹر حماد حسن حدیقہ کے گانے کی ایک ویڈیو پر کام کر رہے تھے۔ اسی دوران وہ حدیقہ کو دل دے بیٹھے۔ کراچی کی ایک میک اپ آرٹسٹ صائمہ رشید دونوں کی دوست تھیں، انھوں نے دونوں کے رشتے کی بات کی۔ حدیقہ کا نِک نیم ”کیٹو“ ہے، صائمہ نے کہا ”کہ حماد اچھا لڑکا ہے“۔ حدیقہ نے جواب میں کہا کہ نہیں پہلے انھیں لالہ بھائی سے ملنا چاہیئے کیونکہ وہ میرے گھر کے بڑے ہیں۔
ان دنوں حدیقہ کے کئی رشتے آ رہے تھے۔ لہٰذا جب حماد کے گھر والے ان کی امی سے ملے تو انھیں وہ پسند آ گئے۔ چنانچہ حدیقہ 23 برس کی تھیں جب پیا دیس سدھاریں۔ شادی کے وقت ان کی ایک شرط تھی کہ میں نے میوزک نہیں چھوڑنا۔۔ وہ جانتی تھیں کہ چیزیں تبھی آگے بڑھیں گی جب ہر بات پہلے سے کلیئر ہو گی۔ ابتداء میں حماد کو کسی بات پر اعتراض نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے کبھی روک ٹوک کی۔ لیکن آہستہ آہستہ جب دونوں کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا تو چیزیں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ سب سے بڑا اختلاف یہ ہوا کہ حماد کی امی کو حدیقہ کا گانا پسند نہیں تھا۔ بظاہر محبت میں جو وعدے دعوے کئے گئے تھے وہ سب جھاگ کی طرح بیٹھنے لگے، حماد کسی بھی بات پر سٹینڈ نہیں لے سکے۔اسی لئے کہتے ہیں کبھی ایسی کمٹ منٹ نہ کریں جو نبھا نہ سکیں۔
اب حدیقہ کا ماننا ہے کہ اگر آپ نے شادی کو بچانا ہے تو اس میں تین مراحل آتے ہیں، جنھیں سمجھداری سے عبور کر لیں تو شادی کامیاب ہے۔ پہلا مرحلہ محبت اور جسم کی ہوس ہے جو جلد ہی ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد اکثر سب ٹھیک نہیں رہتا۔ دوسرے مرحلے میں انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے، آپ کو سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں اور تیسرے مرحلے میں آپ اس دور میں داخل ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے دکھ سکھ شیئر کرسکیں، یہی مرحلہ ہے جو رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔
ان کی شادی ساڑھے پانچ برس رہی، حدیقہ سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ جب اڑھائی برس ان کی منگنی رہی تو اس دوران حماد نے حدیقہ کے لئے خود کشی کی کوشش بھی کی۔ یہ وہ وقت تھا جب حدیقہ پیچھے ہٹ سکتی تھیں لیکن وہ اُلٹا ہمدرد بن گئیں کہ ایک بندہ ان کے لئے جان دے رہا ہے تو پتا نہیں کتنا وفادار ہو گا؟لیکن شادی کے بعد بہت کچھ بدل گیا، شاید حدیقہ کیانی کی شہرت نےانھیں کسی کمپلیکس میں مبتلا کر دیا تھا۔ حدیقہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے رشتہ بچانے کی بہت کوشش کی۔ کہیں بھی شو کے لئے جانا ہوتا وہ ان کے سب کام کر کے جاتیں، حتیٰ کہ کھانے بنا کر فریز کر دیتیں۔ مگر سب بے سود رہا، کچھ مہینوں تک دونوں میں علیحدگی رہی اور پھر ہمیشہ کے لئے راہیں جدا ہو گئیں۔ زندگی کب کسی کے لئے رُکتی ہے، اسے آگے بڑھنا تھا، بڑھ گئی۔
چند برس یونہی گزر گئے اور پھر حدیقہ کی زندگی میں ایک خوبصورت انسان کی انٹری ہوتی ہے، اس مرتبہ انکا دل جیتنے والے فرید سروری افغانی تھے۔ یہاں حدیقہ دوبارہ غلطی کر گیئں، وہ فرید کے ظاہری حسن کو ہی دیکھ سکیں۔ لیخن دوسری شادی سے پہلے اخک بچہ نادِر علی حدیقہ کی زندگی میں آ چکا تھا۔ دراصل جب حماد سے ان کا بریک اپ ہوا تو ان کا دل چاہا کہ کاش وہ ماں ہوتیں تو انھوں نے نادِر کو گود لے لیا جس کا خاندان 2006 کے آزاد کشمیر کے زلزلے میں گزر گیا تھا۔ نادر اب 16 برس کا ہے۔
حدیقہ کا فرید سے نکاح فون پر ہوا تھا اور مولانا مودودی مرحوم کے صاحبزادے حیدر فاروق مودودی نے پڑھوایا تھا۔ فرید لندن میں تھے اور ویزہ ایشوز کی وجہ سے پاکستان نہیں آ سکتے تھے۔لیکن فرید حدیقہ کے پہلے شوہر سے بھی زیادہ قدر قدامت پسند تھے، یہ بات حدیقہ کو کافی دیر بعد پتا چلی لیکن انھیں بچے کے لئے باپ کا نام چاہیئے تھا، اس لئے یہ بھی سہہ گیئں۔ یہ شادی دو سال چلی اور دونوں کی ملاقات صرف تین چار مرتبہ ہوئی۔ شاید ایک ساتھ رہتے تو شادی قائم ہوتی لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ دسمبر میں ان کی شادی ہوئی اور فروری میں حدیقہ کی امی، جو کہ ایک معروف لکھاری تھیں، معذور ہو گیئں اور وہ ان کی خدمت میں مصروف ہوگئیں۔ یعن وہ شادی کو ذیادہ وقت نہیں دے پائیں۔ بالآخر دونوں الگ ہو گئے۔
حدیقہ کی والدہ خاور کیانی 16 سال پہلے معذور ہو گئی تھیں پھر ان کی یادداشت چلی گئی اور 2023 میں وہ دنیا ہی چھوڑ گئیں۔ حدیقہ کا بلاک بسٹر گانا ”بوہے باریاں“ ان کی امی خاور نے ہی لکھا تھا جو شاعرہ بھی تھیں۔ حدیقہ نے اپنی امی کی بہت خدمت کی، وہ اکثر کہتی ہیں کہ وہ اولاد بدقسمت ترین ہے جو والدین کی خدمت نہ کر سکے۔ حدیقہ معاشرے کی اس سوچ سے بھی متفق نہیں کہ ہمارے مرد قدامت پسند ہیں۔ ان کے خیال میں یہ غلط ہے کہ پاکستانی مرد قدامت پسند ہیں، بہت سارے مرد اندر سے آزاد خیال اور کھلے ذہن کے مالک ہوتے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ مردوں کو اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے لئے کچھ حدود طے کرنا پڑتی ہیں۔ یہیں سے ان کی آزاد خیالی قدامت پسندی میں ڈھلنا شروع ہوتی ہے۔ حدیقہ نے جب اپنا پہلا گانا ریکارڈ کرنے کا پلان بنایا تو تب وہ کنیئرڈ کالج میں پڑھتی تھیں، ان کے بڑے بھائی عرفان کیانی موسیقار تھے۔ حدیقہ نے بھائی سے بات کی تو انھوں نے بہین کی خواہش پوری کر دی۔ اور تو اور، حدیقہ کی بڑی بہن ساشا بھی بہت اچھی سنگر تھیں۔ شروع میں انھوں نے حدیقہ کے ساتھ مل کر گایا بھی لیکن وہ شادی کے بعد امریکہ چلی گیئں اور ان کا یہ شوق ادھورا رہ گیا۔
حدیقہ نے بھی معاشرے کے کھوکھلے اقدار سے بچ بچا کر اپنا سفر بہت آہستگی سے شروع کیا کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ عرفان کی بہن تو سنگر ہے۔ کیا سنگر ہونا واقعی شرم کی بات ہے؟ حدیقہ معاشرے کے اس سوال کا پورے اعتماد سے سامنا کرنا چاہتی تھیں اور آنے والے برسوں میں انھوں نے ثابت کر دیا کہ محنت اور سچائی سے کیا گیا کوئی بھی کام باعث شرمندگی نہیں ہوتا، شرمندہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں خود پر اعتماد نہیں ہوتا! آج حدیقہ کیانی کا نام اپنے خاندان کے لیے باعث فخر ہے۔
