معروف گلوکارہ نیّرہ نور کراچی میں انتقال کر گئیں

ماضی کی معروف گلوکارہ نیّرہ نور کراچی میں 71 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
گلوکارہ نیرہ نور کے اہل خانہ اور دوست احباب نے بتایا کہ نیّرہ نور کا ہفتہ کو مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا تاہم ان کی بیماری کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔
1950 میں بھارتی ریاست آسام میں پیدا ہونے والی نیّرہ نور 50 کی دہائی کے آخر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئی تھیں۔سروں کی دلداد نیّرہ نے بہت کم عمری میں ہی موسیقی سیکھنا شروع کردی اور 1968 میں ریڈیو پاکستان پر انہیں پہلا بریک ملا جس کے 3 سال بعد وہ پی ٹی وی میں متعارف ہوئیں۔
انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران کئی ایوارڈز اور تعریفیں سمیٹیں، ساتھ ہی صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی بھی وصول کیا۔ ان کی خوبصورت اور مترنم آواز کی وجہ سے انہیں بلبل پاکستان کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ان کے پسماندگان میں شوہر شہریار زیدی اور دو بیٹے علی اورجعفر شامل ہیں۔
دوسری جانب نامور گلوکارہ نیرہ نور کی وفات پر صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدرعارف علوی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے، نیرہ نور نے فن گائیکی میں خاص مقام حاصل کیا، ان کے لازوال نغمے اور غزلیں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیرہ نور کا انتقال موسیقی کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان ہے، انکی آواز میں ترنم اور سوز کی خاص پہچان رکھتی تھی، اللہ تعالیٰ نیرہ نور مرحومہ کو جنت میں جگہ دے۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے نیّرہ نور کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیرہ نور کی وفات سے پاکستانی موسیقی کا ایک عہد تمام ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خبر سن کر بے حد دکھ اور افسوس ہوا، سریلی آواز، گائیکی کا منفرد انداز اور عمدہ کلام کا انتخاب ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
