مغربی ممالک نے کابل ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کردیا

مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر کابل ائیر پورٹ کے اطراف سے نکل جائیں۔

15 اگست کو طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے تقریبا 90 ہزار افغانی اور غیر ملکی امریکی قیادت میں جاری فلائٹ آپریشن کے ذریعے افغانستان سے نکل چکے ہیں۔

ہوائی اڈے پر اور اس کے ارد گرد بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا ہے، امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ڈیڈلائن سے قبل پروازیں بند کرنے کے فیصلے کے بعد دیگر غیر ملکی پروازوں کے آپریشن بھی بند ہوگئے ہیں۔

رواں ہفتے جوبائیڈن اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بیان کردہ ڈیڈ لائن کی ایک وجہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی جانب سے ’شدید‘ دہشت گردی کا خطرہ تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے نامعلوم ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ایبی گیٹ، جنوبی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔

افغانستان، پاکستان میں دہشت گرد تنظیم آئی ایس حالیہ برسوں میں خطر ناک حملوں کا ذمہ دار رہی ہے۔

اس نے دونوں ممالک میں مساجد، مزارات، عوامی مقامات اور یہاں تک کہ ہسپتالوں میں شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔

علاوہ ازیں آسٹریلیا کے خارجہ امور کے محکمے نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ جاری ہے اور بہت زیادہ ہے اس لیے کابل حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سفر نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہوائی اڈے کے علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں اور مزید مشورے کا انتظار کریں۔

دوسری جانب ترکی کے 500 سے زائد غیر جنگی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں، جس پر انقرہ نے گزشتہ روز کہا کہ اس نے اپنی افواج کا انخلا شروع کر دیا ہے۔

ترکی جانب سے واضح اشارہ ہے کہ وہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کی سیکیورٹی سے متعلق مذاکرات سے دستبردارہورہا ہے۔

علاوہ ازیں بیلجیئم نے کہا کہ وہ حالیہ دنوں میں اپنے فوجی طیاروں سے تقریبا ایک ہزار افراد بشمول یورپی اور افغانیوں کو ہوائی اڈے سے منتقل کرےگا۔

فرانس نے کہا کہ وہ جمعرات کو اپنی پروازیں ختم کر دے گا۔

اس ضمن میں کابل کے تمام ہوائی اڈوں کا انتظام سنبھالنے والاپینٹاگون نے کہا کہ اسے 31 اگست سے کئی دن پہلے انخلا ختم کرنا پڑے گا۔

بشکریہ: ڈان نیوز

Back to top button