کیا ترین گروپ شوکت ترین کو سینیٹر منتخب کروائے گا؟

کپتان حکومت نے وزیر خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کے لیے اسحق ڈار کی نااہلی کی خاطر صدارتی آرڈیننس تو نافذ کر دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ شوکت ترین کو جتوانے کے لئے ترین گروپ کے ممبران پنجاب اسمبلی کی حمایت حاصل کر پائے گی یا نہیں؟
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے الیکشن آرڈیننس (تیسری ترمیم) کی منظوری کے بعد ن لیگ کے سینیٹر اسحق ٰ ڈار اپنی قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے جا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اب تک بطور رکن اسمبلی حلف نہیں اٹھایا۔انکی خالی ہو نے والی ایوان بالا کی نشست پر حکومت وزیر خزانہ شوکت ترین کو منتخب کروانے چاہتی ہے۔ نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت جو اراکین پارلیمنٹ 60 دن میں حلف نہیں لیتے ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔
اسحق ڈار کی رکنیت ختم ہونے سے خالی ہونے والی نشست پرحکومت وزیر خزانہ شوکت ترین کو اس لیے لازمی منتخب کروانا چاہتی ہے کہ ان کے پاس بطور نامزد وزیر رکن پارلیمنٹ رہنے کیلئے صرف دو ماہ کی مہلت باقی رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ کوئی بھی غیر منتخب شخص چھ ماہ سے زیادہ کابینہ کا حصہ نہیں رہ سکتا اور شوکت ترین کے چھ ماہ اکتوبر میں پورے ہو رہے ہیں۔
اس آرڈیننس کے آنے سے پہلے وزیر خزانہ شوکت ترین کو یہ پریشانی لاحق ہو چکی تھی کہ اگر وہ چھ ماہ کے اندر سینیٹر منتخب نہ ہوئے تو انہیں بھی حفیظ شیخ کی طرح وزارت خزانہ سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے۔ تاہم دوسری جانب پارلیمنٹ کے منتخب اراکین کو حلف نہ اٹھانے کی بنیاد پر ڈی سیٹ کروانے کا آرڈیننس لانے والی حکومت کو اب جو نیا چیلنج درپیش ہوگا وہ شوکت ترین کے لئے جہانگیر ترین گروپ کے ممبران پنجاب اسمبلی کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ کہیں کپتان سے ناراض ترین گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی بغاوت کرتے ہوئے شوکت ترین کے ساتھ بھی حفیظ شیخ والی واردات نہ ڈال دیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مشیر کی حیثیت سے 27 جولائی 2009 کو شوکت ترین کو ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص سینیٹ کی نشست پر سندھ سے بلامقابلہ منتخب کروایا گیا تھا جس کے بعد انہیں خزانہ امور کا وفاقی وزیر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم عمران خان کی کابینہ کا حصہ بننے کے بعد جب انہیں چھ ماہ کے اندر سینٹر منتخب کروانے کی کوشش کی گئی تو وہ یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست کھا گے اور کابینہ سے باہر کر دیے گئے۔ حفیظ شیخ کی شکست کے بعد جہانگیر ترین پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے گروپ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے حفیظ کی جگہ گیلانی کو ووٹ دیے تھے۔ چنانچہ یہ بات سامنے آنے کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین میں اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی اور کپتان حکومت نے ترین کے خلاف شوگر انکوائری میں کارروائی تیز کردی۔ ردعمل کے طور پر جہانگیر ترین نے باقاعدہ اپنا گروپ تشکیل دے دیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف چلنے والے کیس میں انصاف کیا جائے۔ تاہم ابھی تک اس معاملے میں ترین اور کپتان میں تناؤ عروج پر ہے اور ایسا امکان بہت کم ہے کہ اگر حکومت شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کی کوشش کرے تو ترین گروپ ان کا ساتھ دے۔
تاہم دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کے نذیر چوہان کی جانب سے بغاوت کے بعد اس گروپ میں دراڑ پڑ جانے سے انہیں قوی امید ہے کہ شوکت ترین پنجاب اسمبلی سے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نذیر چوہان کو اسی لئے مقصد کے لیے پنجاب کابینہ میں وزیر بنایا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کیونکہ شوکت بھی جہانگیر کی طرح ترین ہیں اس لئے وہ خود بھی اپنے لیے ان کے گروپ کے ووٹ ضرور مانگیں گے۔
یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس کے اجراء سے مسلم لیگ (ن) کے اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ ختم ہو جائے گی، اسی خطرے کے پیش نظر چوہدری نثار نے بطور رکن پنجاب اسمبلی تین برس تک نہ نہ کرنے کے بعد حلف اٹھا لیا تھا، حکومتی پلان کے مطابق اسحاق ڈار کے ڈی سیٹ ہونے پر الیکشن کمیشن 45 دن کے اندر پنجاب سے سنیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب کرانے کا پابند ہوگا۔ تاہم دوسری جانب ترین گروپ کا اصرار ہے کہ نذیر چوہان نے خود کو ایک گندی مچھلی ثابت کردیا لہذا اسی لئے اب وہ تالاب سے باہر ہے اور اکیلا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کو شوکت ترین کو جتوانے کے لیے جہانگیرترین گروپ کی حمایت لازمی چاہیئے ورنہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ شوکت ترین کا حشر بھی عبدالحفیظ شیخ والا ہو۔
