مفادات کا ٹکراؤ PPP اور PMLN میں دوریوں کی بڑی وجہ


کپتان حکومت کے خلاف اپوزیشن کے سیاسی اتحاد نے جہاں ایک جانب اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیا ہے وہیں اس اتحاد میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں دوریاں بڑھتی دکھائی دیتی ہیں جس کی بنیادی وجہ دونوں جماعتوں کے مفادات کا ٹکراؤ ہے لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں قربتیں بڑھنے اور دوریاں پیدا ہونے کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں، ماضی کی بات کی جائے تو ملک کے سیاسی افق پر ان دونوں نے گہرے سیاسی نقوش چھوڑے ہیں۔ برسوں ایک دوسرے کے مخالف اور ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے باوجود مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اب بھی کبھی اختلاف تو کبھی اتفاق ہوتا ہے کیونکہ بنیادی بات یہ ہے کہ اگر ایک جماعت کو فائدہ ہوتا ہے تو دوسری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ میرا نقصان ہے۔ اگر دوسرے کو فائدہ ہو تو پہلے کو نقصان کا گمان ہوتا ہے۔ بے شک اس وقت سیاسی منظر نامے پر تحریک انصاف تیسری بڑی جماعت ہے لیکن آج بھی ذیادہ تر انتخابی حلقوں میں مقابلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ ’دونوں جماعتوں میں لو اینڈ ہیٹ ریلیشن شپ چلتا رہتا ہے، یہ مفادات کا کھیل ہے، جہاں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے دونوں علیحدہ ہو جاتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے اور مفاد مشترک ہو تو یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہاں دونوں جماعتوں کے مفاد سے مراد اقتدار اور حکومت کا حصول ہے اور ان کی قربتوں اور دوریوں کا المیہ یہ ہے کہ جب بھی اقتدار میں آنے کی بات ہوتی ہے تو جس کو اقتدار مل رہا ہوتا ہے وہ سارے اصول بھول جاتا ہے اور جس کا اقتدار چھن رہا ہوتا ہے اس کو سارے اصول یاد آ جاتے ہیں۔
یاد ریے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی، اٹھارویں ترمیم، مل کر حکومت بنانا اور دونوں جماعتوں کے پانچ پانچ سالہ دور حکومت کا مکمل ہونا، ان تمام فوائد میں شامل ہے جو انھوں نے مشترکہ مفادات کے اتحاد سے حاصل کیے۔ ماضی میں اے آر ڈی کی تحریک ہو، سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے اقتدار کو کمزور کرنا یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی ملکی سیاست میں مداخلت اور ان کے کردار کو کم کرنا ہوں، یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہیں۔ اگر آج پیپلزپارٹی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینا چاہتی اور نون لیگ ایسا کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے تو یہ معاملہ بھی مفادات کے تکراؤ کا ہے۔
پیپلز پارٹی جس کی بنیاد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، ایک عوامی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ سنہ 1977 میں سابق فوجی آمر ضیا الحق کے اقتدار پر قبضہ اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے عدالتی فیصلے کے بعد بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا سفر شامل ہے۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اپنی سیاست کا سفر اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں 1980 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت شروع کیا جب پیپلزپارٹی اسی سابق فوجی آمر ضیا الحق کی حکومت میں عتاب کا شکار تھی۔ نوے کی دہائی میں دونوں حریف جماعتوں کا ایک دوسرے کی حکومت کے خلاف سیاسی تحریک چلانے اور الزامات لگانا آج بھی سب کو یاد ہے لیکن نوے کی دہائی میں دو مخالف انتہاؤں پر کھڑے نواز شریف اور بینظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں سویلین حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب بھی آئے۔
90 کی دہائی کے دوران دونوں جماعتیں باہمی مخالفت میں ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے میں کامیاب ہو چکی تھی لیکن اس سے جمہوری عمل اور نظام کو نہ صرف نقصان پہچنا بلکہ یہ کمزور بھی ہوا اور اس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا۔ پہلی مرتبہ چھ اگست 1990 کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2) بی کے تحت بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی جبکہ 18 اگست 1993 کو ایک بار پھر صدر غلام اسحاق خان نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے نواز شریف حکومت کو برطرف کیا لیکن اس بار سپریم کورٹ نے نہ صرف فیصلہ غیر آئینی قرار دیا بلکہ حکومت بحال کر دی۔ پانچ نومبر 1996 کو اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو اسی آئینی شق کے تحت برطرف کر دیا۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آئین میں ترمیم کے لیے پہلی مرتبہ سیاسی تعاون کیا اور نواز شریف کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد دو تہائی اکثریت سے اپریل 1997 میں 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کے صوابدیدی اختیار 58(2) بی کو ختم کر دیا۔ اس وقت صدر فاروق لغاری اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت تھے۔
مگر 2000 کی دہائی کے اوائل میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے 58(2) بی کا گڑھا مردہ نکالا اور اسے جھاڑ پونچھ کر 17ویں آئینی ترمیم کے تحت اسمبلی اور وزیرِاعظم کے سر پر داموکلس کی تلوار کی طرح لٹکا دیا۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سنیئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ’لو اینڈ ہیٹ‘ یعنی محبت اور نفرت کی ایک لمبی کہانی ہے۔ سنہ 1977 کے بعد کی ملکی سیاست کا دور جو سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے اقتدار سے شروع ہوا اور 1988 میں ان کے موت کے ساتھ ختم ہوا، اس وقت پیپلز پارٹی کے مقابلے میں جو ایک سیاسی طاقت ابھری اس کی سربراہی آج کی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کر رہے تھے۔
سہیل وڑائچ نے ماضی میں دونوں جماعتوں کی ایک دوسرے کی مخالفت کی تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس مخالفت کے نتیجہ میں دونوں نے ایک دوسرے کی حکومت کو دو دو مرتبہ گرایا اور یہ ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے پر منتج ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سنہ 1988 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی، 1990 میں مسلم لیگ نون حکومت بنانے میں کامیاب رہی، پیپلز پارٹی نے 1993 میں نواز حکومت گرا کر اپنی حکومت بنائی اور پھر ایک بار دوبارہ 1997 میں نواز شریف پیپلز پارٹی کی حکومت گرا کر اپنی حکومت بنانے میں کامیاب رہے جس کا تختہ سنہ 1999 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے الٹا دیا تھا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق دونوں سیاسی حریف جماعتوں میں قربت کا آغاز سنہ 1999 میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی حکومت کے آغاز میں ہی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں قربت پیدا ہو گئی اور انھوں نے مشرف حکومت کے خلاف الائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی یا اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کا سیاسی اتحاد قائم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے اے آر ڈی کے تحت مل کر جنرل پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کی اور اسی دوران دونوں جماعتوں کے درمیان چارٹر آف ڈیموکریسی(میثاق جمہوریت) پر دستخط ہوئے اور دونوں میں سیاسی محبت مزید پروان چڑھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس چارٹر آف ڈیموکریسی کی بہت سے شقوں پر عمل ہوا، بہت سی پر عمل نہیں بھی ہوا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پرویز مشرف کے دور حکمرانی کے آخری عرصے میں جب سنہ 2007 میں جنرل مشرف کے خلاف وکلا تحریک کا آغاز ہوا تو اس میں بھی دونوں جماعتوں نے مل کر وکلا کی حمایت کی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سنہ 2007 کے آخر میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اور 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی بننے والی حکومت میں آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کو وفاق اور پنجاب میں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی۔ ’چنانچہ مرکز میں دونوں جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کے لوگ شامل تھے لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور کچھ عرصہ بعد نواز شریف نے وفاق سے اپنے ارکان واپس بلا لیے اور اسی طرح پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کی جو وزارتیں تھیں انھیں ختم کر دیا گیا۔‘
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2007 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے دوران جب پارلیمنٹ کو بااختیار کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی تھی اور آئین کے آرٹیکل 58(2) بی کو ایک مرتبہ دوبارہ ختم کر کے صدر کے اختیارات کو محدود کر کے ملک میں حکومت توڑنے کا راستہ روکا جا رہا تھا یا جب اٹھارویں ترمیم کے وقت قانون سازی کی جا رہی تھی اس وقت دونوں جماعتوں کے تعلقات بہت اچھے تھے۔‘ ’حالانکہ مسلم لیگ ن اپوزیشن میں تھی لیکن ایک ایک شق پر مشاورت ہو رہی تھی، ہر شق پر اتفاق رائے ہو رہا تھا۔ نواز شریف کی مرضی سے اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی۔‘
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ دونوں سیاسی جماعتوں میں محبت و ہم آہنگی کا سلسلہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے جب پیپلز پارٹی کے دور میں آرمی چیف کی تبدیلی اور امریکہ میں ایک خط لکھنے کا معاملہ عدالتوں میں چلا تو اس وقت میاں نواز شریف، آصف زرداری کے خلاف باقاعدہ کالا کوٹ پہن کر عدالت گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے نواز شریف نے ایک طرح سے پیپلز پارٹی کی مخالفت کا عندیہ دیا۔ اسی طرح عدلیہ کی بحالی کے لیے بھی وکلا کا لانگ مارچ لے کر گئے تھے اور گوجرانوالہ کے قریب ہی تھے تو پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کی آزادی اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا اعلان کر دیا اور یوں یہ معاملہ ٹل گیا۔ سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ سنہ 2013 کے انتخابات کے بعد جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس وقت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے شروع میں ان کے ساتھ بہت تعاون کیا۔ ’آصف زرداری بہت اچھے بیانات اور تقریریں کرتے رہے بلکہ جہاں نواز شریف کو ضرورت ہوتی وہ بیان دیتے یا تقریر کرتے۔‘
سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ نون کے تیسرے دور حکمرانی میں دونوں جماعتوں میں ایک مرتبہ دوریاں اس وقت بڑھی جب ان کے درمیان فوج کے معاملے پر اختلاف رائے سامنے آیا۔ ’سندھ حکومت میں جب نیب نے چھاپے مارنے شروع کیے، جب رینجرز نے چھاپے مارنے شروع کیے تو آصف زرداری نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور آخر کار دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کو عدالتی فیصلے کے ذریعے اقتدار سے رخصت کیا گیا تو اس وقت پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری ان کے ساتھ نہیں بلکہ مخالف صفوں میں کھڑے تھے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق سنہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو دوبارہ ایک ساتھ متحد ہونے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اسی ضرورت کے تحت پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد وجود میں آیا جس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علما اسلام (ف) سمیت حزب مخالف کی دس جماعتیں شامل ہیں۔
سنیئر صحافی و تجزیہ کار نسیم زہرہ نے دونوں جماعتوں کی قربت اور دوریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں ہیں جن کا بہت دیر ایک ساتھ چلنا ممکن نہیں۔ انتخابات میں دونوں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں گی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی سیاسی سوچ بہت مختلف ہے خصوصاً موجودہ حالات میں کیونکہ آصف زرداری نے بڑے واضح انداز میں کہہ دیا کہ ہم پارلیمان سے لڑیں گے یعنی وہ نظام میں رہتے ہوئے لڑیں گے۔‘ ’اسی طرح جب مسلم لیگ ن کے قائد نے اپنی تقریر میں فوجی قیادت اور جرنیلوں کے نام لیے تھے تو اس وقت بلاول بھٹو نے جلسے میں کہا تھا کہ نام لینا مناسب نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت ملکی اسٹیبلشمنٹ سے ’آل آؤٹ وار‘ نہیں چاہتی کیونکہ ان کے ممکنہ طور پر اسٹیبلیشمنٹ کے ایک حلقے سے رابطے بھی ہیں۔’ نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے اپنی ایک سیاسی حکمت عملی بنائی اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا جس کا ان کے مطابق مطلب یہ ہے ووٹ کو اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے عزت نہیں دی جاتی۔‘ نسیم زہرہ کا کہنا تھا کہ ’دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی مختلف ہے اور دونوں ہی مختلف سطحوں پر اسٹیبلشمنٹ کے مخصوص حلقے سے رابطوں میں ہیں۔ مسلم لیگ کے لوگ انھی رابطوں کے باعث ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوئے۔‘ نسیم زہرہ کا کہنا تھا کہ ماضی کی بات کی جائے تو دونوں جماعتوں میں اتفاق اور اختلاف کے سفر میں دونوں جماعتوں نے اپنا مفاد سامنے رکھا، دونوں جماعتیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اکٹھی ہوئی اور انھی کی بنیاد پر جدا ہوئی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر اب دونوں جماعتوں کی راہیں جدا ہوں گی تو حکمت عملی پر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آصف زرداری کو استعفے دینے اور سڑکوں پر آنے کا فیصلہ مناسب نہیں لگتا جبکہ مسلم لیگ ن سمجھتی ہے ایسے حکومت مخالف تحریک کو تقویت دی جا سکتی ہے۔‘ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد ٹوٹ جائے گا یا بچ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button