مفاہمتی گروپ کی نوازشریف کو وطن واپسی موخر کرنیکی تجویز

مسلم لیگ ن کےمفاہمتی گروپ نے نوازشریف کو وطن واپسی موخر کرنے کی تجویز دیدی۔اندرونی کہانی کے مطابق مفاہمتی گروپ نے قائد ن لیگ نوازشریف کو آگاہ کردیا کہ حالات سازگار نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بے تحاشا یوٹیلیٹی بلز سے پریشان عوام کو نواز شریف کی وطن واپسی میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز لاہور میں عوامی رابطہ مہم شروع کر کے عوامی رائے بھانپ چکے ہیں اس لیے موجودہ حالات میں عوام کی جانب سے نواز شریف کے شایان شان استقبال کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ عام انتخابات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا، عام انتخابات کے قریب یا باقاعدہ تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد نواز شریف وطن واپس آئیں تو زیادہ بہتر ہے۔
مفاہمتی گروپ نے اپنی تجویز نواز شریف تک پہنچا بھی دی ہے تاہم نواز شریف نے تجویز پر فوری طور پر ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی لندن میں نواز شریف سے ملاقات میں یہی موقف دہرا چکے ہیں تاہم نواز شریف واپسی کا ذہن بنا کے اور پارٹی کو استقبال کی تیاری کا کہہ چکے ہیں۔
ن لیگ میں موجود دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کو ملتوی کیا گیا تو عوام میں ہمارا اچھا تاثر نہیں جائے گا اس لیے قائد وطن واپسی کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے وطن واپسی کے پروگرام میں کسی بھی تبدیلی کی تردید کردی۔عرفان صدیقی کاکہنا تھاہ نوازشریف کی وطن واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دےدی گئی، ان کا 21 اکتوبر کو واپسی کا پروگرام فائنل ہے۔ نواز شریف آئندہ چند روز میں عمرےکیلئے سعودی عرب روانہ ہوں گے، عمرہ ادائیگی کے بعد وہ متحدہ عرب امارات جائیں گے۔
