مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی اقدامات پر اقوام متحدہ کی توجہ مبذول کرائی گئی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط لکھ کر ان کی توجہ بھارت کی جانب سے کشمیر کے متنازع خطے کے الحاق کے بعد وہاں نوآبادیاتی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے ‘غیر قانونی’ اقدامات کی جانب مبذول کروائی ہے۔
مطابق ان اقدامات میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کو مزید پسماندگی سے دوچار کرنے اور ان کا آزادی کا مطالبہ دبانے کے لیے آبادیاتی ڈھانچے اور انتخابی حدود میں تبدیلی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں اٹھائے گئے اس قسم، کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین بشمول سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی ہیں اور، حقیقت میں، قانونی اور مادی طور پر، کالعدم اور باطل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے فروغ اور مالی اعانت میں بھارت کے کردار کی جانب نشاندہی کی جس میں لاہور میں ہونے والا حالیہ دھماکا بھی شامل ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ بھارت سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد اور تخریبی مہم بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ وزیر خارجہ کا یہ خط اگست 2019 سے پاکستان کے باقاعدہ رابطوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد اقوامِ متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورتحال سے آگاہ کرنا اور سلامتی کونسل کو اس کی قراردادوں کے ذریے مسئلہ کشمیر کا پُر امن اور منصفانہ حل نکالنا یاد دلانا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں مقبوضہ کشمیر کے الحاق کو دوسرا سال مکمل ہونے پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے عوام کی قیمت پر بھارت سے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان اپنی توجہ جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی جانب مرکوز کرنا چاہتا ہے، ہم بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن کشمیریوں کی قیمت پر نہیں’۔

خیال رہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جغرافیائی معیشت کی جانب پیراڈائم شفٹ رواں سال اس وقت سامنے آیا تھا جب پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی بحال کی گئی تھی۔’

تاہم معاملات فوراً ہی رک گئے تھے کیوں کہ بھارت 5 اگست کے اقدامات واپس لے کر کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے اقدامات کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت سے پاکستان کا مطالبہ دہرایا کہ وہ اپنے یکطرفہ اقدامات اور جبر اور ریاستی دہشت گردی کے تمام متعلقہ اقدامات کو واپس لے۔

او آئی سی وفد
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم کے کمیشن برائے آزاد اور مستقل انسانی حقوق کے 12 اراکین پر مشتمل وفد زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرے گا۔

اس ضمن میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئی پی ایچ آر سہ وفد مظفرآباد اور ایل او سی جائے گا، کشمیری قیادتر، مقبوضہ کشمیر کےمہاجرین اور بھارتی مظلالم کا نشانہ بننے والے شہریوں سے ملاقات کرے گا۔

Back to top button