ملک ریاض سے 38 ارب روپے لے کر اسی کو واپس کئے جارہے ہیں

برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے 38 ارب روپوں کے تصفیے کا معاملہ پراسراریت میں گھرا نظر آتا کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک کا تصفیہ حکومت برطانیہ کے ساتھ طے ہوا ہے یا حکومت پاکستان کے ساتھ۔ بظاہر سپریم کورٹ کا کیس اور برطانوی کرائم ایجنسی کا کیس دونوں الگ الگ ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک ریاض کی سیٹلمنٹ دونوں کیسوں میں علیحدہ علیحدہ ہونی چاہیئے۔ اگر برطانیہ سے واپس آنے والی رقم سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں سیٹلمنٹ کے طور پر جمع کروا دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک ریاض کا پیسہ ملک ریاض کو ہی واپس کر دیا گیا۔ اس طرح ملک ریاض کو 38 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں:
حکام نے بتایا کہ وسط ایشیائی ملک قازقستان میں ٹیک آف کے فورا بعد طیارہ حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ جب نور سلطان نذر بائی نے ٹیک آف کیا اور کنکریٹ کی باڑ سے ٹکرا گیا ، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ، طیارہ طلوع آفتاب اور دھند سے پہلے لینڈ کر گیا۔ حادثہ اس وقت اس علاقے میں ہوا تھا
