ممکنہ حملوں کے خطرے پیش نظرپاسداران انقلاب کی بڑی جنگی مشق

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی خطرات کے مقابلے کے لیے دارالحکومت تہران میں بڑے پیمانے پر جنگی تیاریوں کی مشق کی۔
فارس کے مطابق مشق کے نگران اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ تمام طے شدہ جنگی منصوبے، حکمت عملیاں اور تکنیکیں کامیابی سے آزما کر ان کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مشق میں پاسدارن انقلاب اور بسیج کی ریپڈ رسپانس یونٹس نے حصہ لیا۔ مشق کا مقصد دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کے خلاف جنگی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا تھا۔
بریگیڈیئر جنرل حسن زادہ نے کہا کہ ’امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی تیاریوں کو بہتر بنانا اس مشق کے اہم اہداف میں شامل تھا اور تمام اہداف مکمل طور پر حاصل کر لیے گئے ہیں‘۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ملک 90 فیصد یورینیم افزودگی کی جانب جاسکتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ’ایران پر ایک اور حملے کی صورت میں ہمارے آپشنز میں سے ایک 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتی ہے اور پارلیمنٹ میں اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Back to top button