منظور پشتین کی اہلیہ کہتی ہیں انکا شوہر غدار نہیں ہے

پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرداں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منطور پشتین کی اہلیہ کہتی ہیں کہ
ان کے شوہر پر غداری کے الزامات وہ لوگ لگاتے ہیں جو انہیں دور سے جانتے ہیں لیکن جو انہیں قریب سے جانتے ہیں وہ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا کبھی ایسا آدمی بھی غدار ہو سکتا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کا تعلق جنوبی وزیرستان کے گاؤں ریشوڑہ تحصیل سروکئی شمن خیل قوم سے ہے۔ آج وہ دنیا بھر میں پشتونوں کی آواز بن چکے ہیں۔ تاہم دوسری جانب منظور کی بیوی آسیہ ایک سادہ سی قبائلی زندگی گزار رہی ہیں اور روایتی بہو کی طرح اپنے ساس اور سسر کا دل جیتنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ ایک زیر عتاب پشتون سیاسی رہنما کی بیوی کا مشکل کردار ادا کر رہی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ منظور پشتین نے پشتون قوم کے مسائل اور تکالیف دور کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ایک تعلیم یافتہ استاد کے گھر پیدا ہونے والے منظور پشتین کی شادی 2016 میں اس وقت ہوئی جب وہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی ظفر آباد کالونی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ پشتون خصوصا قبائلی معاشرے میں عورتیں عوامی مقامات پر نہیں دیکھی جاتی ہیں اسی لیے آسیہ بھی زیادہ وقت گھر کے معاملات پر صرف کرتی ہیں۔ منظور کی 26 سالہ اہلیہ نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ اللہ نے انہیں ایک بیٹی اور بیٹے سے نوازا ہے۔ آسیہ اپنے شوہر منظور کے کردار سے بہت متاثر دکھائی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں منظور جیسا شوہر اور پیار کرنے والا خاندان ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ منظور کی سادگی اور اچھائی کا یہ عالم ہے کہ اس کے منہ سے آج تک میرے لیے برے الفاظ نہیں نکلے ہیں۔ منظور ایک سادہ اور وسیع سوچ رکھنے والا انسان ہے۔
البتی یہ بھی ایک سچ ہے کہ اپنے سیاسی خیالات اور پستون تحریک کی وجہ سے منظور پشتین کافی خطرناک صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں اور مہینوں میں وہ کئی مرتبہ ریاستی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں اور لمبی جیل بھی کاٹی ہے لیکن ان کی کمٹمنٹ متزلزل نہیں ہوئی۔ منظور پشتین کہتے ہیں کہ پاکستان کے پشتونوں کے ساتھ کافی ظلم ہوئے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔البتہ انکی اہلیہ آسیہ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ منظور کے محفوظ رہنے کی دعا کرتی رہتی ہیں اور دوسروں کو بھی دعا کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔ آسیہ کو منظور سے کوئی گلہ نہیں۔ ان کے بقول منظور نے اپنے لیے جو راستہ چنا ہے میں اس حوالے سے منظور کی پشت پناہی کرتی ہوں اور میں کبھی بھی ان کی جدوجہد کے ساتھ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی۔دیگر قبائلی والدین کی طرح آسیہ بھی اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہیں تاکہ وہ بھی شعور حاصل کر کے اپنے علاقے اور دکھی لوگوں کی خدمت کر سکیں۔
آسیہ اپنے شوہر منظور پشتین کے بارے میں بہت پرامید نظر آتی ہیں۔ منظور پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے آسیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر بہت سادہ اور نرم دل انسان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مشکل کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی تکلیف کو دل سے محسوس کرتے ہیں اور شاید یہی احساس ان پر لگنے والے الزامات کی بنیادی وجہ ہے۔ منظور کو غدار قرار دیئے جانے کے الزامات کے حوالے سے آسیہ نے کہا کہ منظور پر دور سے الزامات لگائے جا سکتے ہیں لیکن جو قریب سے انکو جان لے تو منظور کی حقیقت اس پر واضح ہو جاتی ہے کہ کیا ایسا آدمی بھی غدار ہو سکتا ہے۔
آسیہ کا کہنا ہے کہ منظور جب گھر واپس آ جاتے ہیں تو بھی لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار تھک ہار کر جب منظور چارپائی پر لیٹ جاتے ہیں اور ان کی آنکھ لگ جاتی ہیں تو گھر میں کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ منظور کو جگائے اور کہے کہ مہمان آئے ہیں۔ ان کی تھکاوٹ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کوئی اس کو جگانے کی ہمت نہیں کرتا۔ آسیہ کا کہنا ہے کہ وہ منظور کی مصروفیات کو اچھی طرح سے سمجھتی ہیں اور انہوں نے شوہر سے اپنے لیے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ مجھے وقت کیوں نہیں دیتے۔ وہ کہتی ہیں کہ منظور کروڑوں پشتونوں کی امید ہے اور وہ انہیں ان کے حقوق دلوانے کے لئے شب و روز کوششیں کررہے ہیں۔
