نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی بھٹو کیس جیسا متنازعہ؟

پاناما پیپر کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلے کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گے پھاندی کے فیصلے کی طرح متنازع سمجھتے ہوئے یاد رکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) اعجاز احمد چوہدری نے یہی بات وائس آف امریکا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ 2015 میں ریٹائر ہوجانے والے جسٹس اعجاز احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر بھی بات کی اور اسے ایک ایسا واقعہ قرار دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایجنسیز ججز کی تعیناتی اور فراغت میں مداخلت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں اسلام آباد کے دھرنے میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار سے باہر کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سن کر سپریم کورٹ کے ججز حیران رہ گئے کیوںکہ اس وقت جسٹس ناصر الملک چیف جسٹس پاکستان تھے اور وہ ایک ’اپ رائٹ آدمی‘ سمجھے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے بالآخر نواز شریف کو 2018 میں پاناما پیپر کیس میں نااہل قرار دے کر وزارت عظمی کے عہدے سے برطرف کردیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پانامہ پیپرز کیس کا فیصلہ درست تھا تو سابق جج نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے بہت سے ایسے فیصلے ہیں جنہیں عوام قبول نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ مثلاً ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ۔۔۔۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کی وزارت عظمی سے نا اہلی کا کیس بھی ایسا ہی ایک معاملہ تھا‘۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے جج جسٹس ریٹائرڈ اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس تو ختم کردیا لیکن اپنی طرف سے انہوں نے ان کی اہلیہ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں پیش ہونے کا کہہ دیا ہے اب ایف بی آر کے فیصلے کی روشنی میں سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس اس معاملے کو دیکھیں گے۔
ججز کی تعیناتی کے معاملے میں مقتدر حلقوں کی مداخلت بارے انھوں نے ایک واقعہ دہرایا کہ جب وہ کچھ ججز تعینات کررہے تھے تو انٹرسروسزانٹیلیجنس کے ایک جنرل کی ان کے پاس ٹیلی فون کال آئی۔ ’کال پر آئی ایس آئی جنرل نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ جج رکھ رہے ہیں تو میں نے کہا ہاں، جس پر انہوں نے مجھے کسی کو جج بنانے کو کہا‘۔ سابق جج نے کہا کہ ’میں نے انہیں جواب میں ایک شخص کو لیفٹننٹ جنرل بنانے کو کہا جس پر انہوں نے مجھے جواب دیا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا تو میں نے بھی کہا یہ بھی نہیں ہوسکتا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں عدلیہ میں کوئی مداخلت نہیں تھی اور جب کسی نے موقع دیا تو دوسروں نے مداخلت کی۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ نے جسٹس اعجاز احمد کے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو متعدد مرتبہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ ججز کی تعناتی میں خفیہ اداروں کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم سے قبل خفیہ ادارے ججز کی تعیناتی میں ساز باز کرسکتے تھے کیوں کہ حکومت جج مقرر کرتے وقت ان کی رپورٹ پر انحصار کرتی تھی۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) حکومت میں مشیر قانون رہنے والے بیرسٹر ظفر اللہ خان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپر کیس کا فیصلہ انصاف کے قدرتی اصولوں کے خلاف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ جس کی کوئی مثال نیں ملتی جس میں حکومت کے سربراہ کو اس انداز میں نا اہل قرار دیا گیا۔ بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کو اقامہ پر برطرف کیا لیکن دوسروں کو اسی کیس میں چھوڑ دیا گیا ایک وفاقی وزیر کا کیس کئی ماہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
یاد رہے کہ 28 جولائی 2017 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ جج صاحبان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔
23 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ سنائی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔
بعد ازاں 6 جولائی 2019 کو سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاناما مقدمے میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک پر ’نامعلوم افراد‘ کی طرف سے دباؤ تھا۔ مریم نواز نے پریس کانفرنس میں ارشد ملک کی ایک خفیہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے ’اعتراف‘ کیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کو سزا اپنی ایک نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیے جانے پر سنائی۔ ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں نشہ آور ادویات دے کر ٹریپ کیا گیا۔ اویڈیو میں نظر آنے والے جج نے ناصر بٹ کو بتایا کہ ‘میاں نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔ جج ارشد ملک نے یہ بھی اعتراف کیا کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا بھی ثبوت نہیں تھا۔ واضح رہے کہ جج ارشد ملک کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔۔
