جج ارشد ملک کی برطرفی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا


سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی نے حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ اس فیصلے کے بعد نواز شریف کو دی گئی سزا ختم ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والےویڈیو سکینڈل میں ملوث احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو 3 جولائی 2020 کر روز نوکری سے برطرف کردیا. چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کی برطرفی کے بعد نواز شریف کو سنائی گئی سزا کے فیصلے کی ساکھ بھی ختم ہو گئی یے جس کو انہوں نے چیلنج کر رکھا ہے۔ ارشد ملک کی برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ اب نواز شریف کو سنائی گئی سزا کو بھی ختم کیا جائے۔ 3 جولائی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان کی زیر صدارت منعقدہ انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے سات سنئیر ججز نے شرکت کی۔ انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک پر عائد تمام تر الزامات ثابت ہونے کے بعد انکو برطرف کرنے کی منظوری دی جس سے نون لیگ کی صفوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شہبازشریف نے ارشد ملک کی برطرفی کے فیصلے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالی کے حضور سر بسجود ہوں کہ اس نے ملک و قوم کی مخلصانہ خدمت کرنے والے نوازشریف کی بے گناہی کو ثابت کردیا۔ انہوں نے کہا آج ثابت ہو گیا کہ جج نے دباو کے تحت انصاف کے منافی فیصلہ دیا اور تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم کو ناحق سزا دی گئی، انہوں نے کہا کہ اب سچائی سامنے آنے پر انصاف کا تقاضا ہے کہ نواز شریف کو دی گئی سزا کو ختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایک پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں ، انہوں نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ ویڈیو میں جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ ‘نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔ ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا اور انکے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں دیا گیا۔

تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگے الزامات کا جواب دیا اور ایک پریس ریلیز جاری کی۔ جج نے مریم نواز کی پریس کانفرنس کے دوران دکھائی جانے والی ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس بارے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔ بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانےکا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

لیکن اسی روز ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا جس میں ویڈیو کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ جج نے اپنے جھوٹے بیان حلفی میں دعویٰ کیا گیا کہ نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ ارشد ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔ ارشد ملک نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ وہ اس دوران سعودی عرب جا کر حسین نواز شریف سے بھی ملے۔ جج کے اس اعتراف کے بعد ان کے بیان حلفی کی ساکھ ختم ہو گئی تھیں اور یہ سوال کیا گیا کہ آخر وہ اس شخص کے بیٹے سے ایک دوسرے ملک جا کر ملے ہی کیوں جس کو انہوں نے سزا سنائی ہو۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جج ارشد ملک کو عدلیہ کے ماتھے کا داغ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کیا تھا۔ تب کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ اس ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیئے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر نواز شریف کی سزا کو ختم کردے، یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ چاہے تو نواز شریف کی سزا کے فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا اور ساتھ ساتھ تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کیا۔ بعد ازاں 6 جولائی 2019 کو سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاناما مقدمے میں نواز شریف کو جیل بھیجنے والے جج ارشد ملک پر ’نامعلوم افراد‘ کی طرف سے دباؤ تھا۔ مریم نواز نے پریس کانفرنس میں ارشد ملک کی ایک خفیہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے ’اعتراف‘ کیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کو سزا اپنی ایک نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیے جانے پر سنائی۔ ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں نشہ آور ادویات دے کر ٹریپ کیا گیا۔ واضح رہے کہ جج ارشد ملک کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔۔ بعدازاں انھیں او ایس ڈی بنا کر لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا تاہم 3 جولائی کے روز لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے انھیں برطرف کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button