مولانا عبدالعزیز نے فرار کے لئے برقعہ خود پہنا تھا یا پہنایا گیا


2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں کیے گئے فوجی آپریشن کے 13 سال گزرنے کے بعد مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسجد سے چھپ کر فرار ہونے کے لئے برقعہ پہنا نہیں تھا بلکہ انہیں گرفتار کرنے کے بعد زبردستی پہنایا گیا تھا۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو مسجد سے نکلنے والی درجنوں لڑکیوں کے جھرمٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے اسی برقعے میں پی ٹی وی پر بیٹھ کر اس حقیقت کا اقرار بھی کیا تھا۔

تاہم اب مولانا کا دعوی یے کہ لال مسجد آپریشن کے دوران اُنھیں مسجد کے باہر سے گرفتار کیا گیا اور وہاں پر موجود سکیورٹی فورسز نے ایک برقعہ منگوایا اور اُنھیں برقعہ پہننے پر مجبور کیا گیا۔
ان سے پوچھا گیا کہ گرفتاری کے بعد جب وہ سرکاری ٹی وی پر انٹرویو دے رہے تھے تو اس وقت اُنھوں نے برقعہ کیوں نہیں اتارا تو اس سوال پر مولانا عبدالعزیز خاموش رہے۔
مولانا کے دعوے کے برعکس اس وقت اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ برقعہ پہن کر جامعہ حفصہ کی ان طالبات کے ساتھ جانے کی کوشش کرر ہے تھے جنھیں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق جب مولانا عبدالعزیز خواتین کے لیے بنائے گئے واک تھرو گیٹ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے تو وہاں پر تعینات ایک لیڈی کانسٹیبل نے مشکوک جانتے ہوئے اس کی اطلاع وہاں کے سیکیورٹی اہلکاروں کو دی جنھوں نے برقعہ اتارا تو اندر سے مولانا عبدالعزیز برآمد ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ مولانا کے چھوٹے بھائی عبدالرشید غازی نے مسجد ہی میں رہ کر سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور بعد میں کئی ایس ایس جی کمانڈوز کو شہید کرنے کے بعد خود بھی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے۔

جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد پر کیے جانے والے فوجی آپریشن کو 13 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا۔ آج بھی اس دھوئیں سے کبھی کبھی چنگاری نکلتی ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ کچھ لوگ اس آپریشن کے حق میں بات کرتے ہیں تو کچھ لوگ اس معاملے کو کسی تادیبی کارروائی کے بغیر حل کرنے کا گلہ کرتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس فوجی آپریشن کے محرکات آخر کیا تھے؟

مئی اور جون 2007 میں لال مسجد کی انتظامیہ کے زیر انتظام چلنے والے مختلف مدارس کے طلبا اسلام کی ترویج، ملک میں اسلامی نظام کے قیام اور وفاقی دارالحکومت کو ’بےحیائی سے پاک‘ کرنے کے لیے متحرک تھے۔
یہ افراد کبھی ویڈیو اور سی ڈیز کی دکانوں پر رکھی ہوئی سی ڈیز کو آگ لگاتے اور کبھی وہ شہر کے مختلف سیکٹرز میں قائم مساج سینٹرز میں بلا اجازت گھس کر وہاں پر کام کرنے والے عملے کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بناتے بلکہ اُنھیں اغوا کر کے اپنے ساتھ بھی لے جاتے۔ لال مسجد انتظامیہ کے کرتا دھرتا یعنی مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی کی طرف سے ایسے اقدامات میں ملوث افراد کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی تھی۔ مداراس کے ان طالبعلموں کی طرف سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں واقع مساج سینٹرز سے کچھ چینی باشندوں کو بھی اغوا کیا گیا جس پر چین نے پاکستانی حکومت سے احتجاج کیا تھا۔ کاروباری طبقہ بھی مدارس کے ان طالبعلموں سے خوف زدہ تھا۔ وہ یا تو اپنی دکانیں کھولتے ہی نہیں تھے اور اگر ایسا کرتے بھی تو وقت سے پہلے بند کرکے چلے جاتے۔
اسلام آباد کی پولیس ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے سے ڈرتی تھی اور ایسا نہ کرنے کی وجہ اسے ایک ’حساس معاملہ‘ قرار دیتی تھی۔

پولیس حکام کے دعوؤں کے برعکس دو مرتبہ پولیس کی ٹیم جب ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کے لیے لال مسجد پہنچی تو وہاں پناہ لیے ہوئے ملزمان نے ان پولیس اہلکاروں کو نہ صرف زردکوب کیا بلکہ انھیں یرغمال بھی بنایا لیا جس کے بعد اس وقت کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے اپنا اثر و رسوخ استمعال کرتے ہوئے ان پولیس اہلکاروں کو ان کے چنگل سے آزاد کروایا۔ رہائی سے پہلے کچھ مسلح افراد نے اس عمارت کو بھی آگ لگا دی تھی جس میں ان پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ ’زبردستی دین پھیلانے‘ اور مبینہ طور پر لوگوں کے گھروں میں گھسنے جیسے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دور میں اسلام آباد میں دنیا کے مختلف سفارت کاروں نے ان واقعات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے علاوہ ملک کے خفیہ اداروں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ جس طرح مدارس کے طلبا سرعام اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں تو ایسے حالات میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ طلبا اسلام آباد میں مختلف اور بالخصوص غیر مسلم ممالک کے سفارت خانوں کا رخ کر سکتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات کے بعد اس وقت کے فوجی صدر پر دنیا کی طرف سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھتا چلا گیا۔

ان تمام واقعات کو دیکھتے ہوئے صدر پرویز مشرف، جو اس وقت آرمی چیف بھی تھے، نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی ڈویژن کے ایک اہلکار کے مطابق لال مسجد میں چھپے ہوئے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی سے پہلے پورے اسلام آباد اور بالخصوص لال مسجد کے قریب چار سیکٹرز کی ریکی کی گئی اور ریکی کے لیے نہ صرف متعلقہ تھانے کے انچارج سٹی سرکل کے ایس پی کے علاوہ اس کام کے لیے لاہور سے بھی خصوصی ٹیمیں بلوائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ اس 120 سپیشل گاڑیاں بھی لاہور سے منگوائی گئی تھیں۔ اہلکار نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے ریکی کا کام مکمل کر کے کارروائی کے لیے لال مسجد سے کچھ فاصلے پر مختلف مقامات پر مورچے بھی بنائے تھے تاہم لال مسجد میں چھپے ہوئے لوگوں کو ان مورچوں کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا جس کے بعد ان مورچوں میں کسی پولیس اہلکار کو نہیں بھیجا گیا۔ سیکیورٹی ڈویژن کے اہلکار کے مطابق پولیس نے پہلے اپنی مدد کے لیے رینجرز کو طلب کیا تھا لیکن جب لال مسجد کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ریجنرز اہلکار ہلاک ہوا تو اس کے بعد فوج کو بلانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ سیکورٹی ڈویژن کے اہلکار کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے پہلے لال مسجد اور اسلام آباد کی ضعلی انتظامیہ کے ذمہ داران ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور جب فوج کو طلب کیا گیا تو اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی نے ضلعی انتظامیہ کے افسر سے فوج بلانے کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ چونکہ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے اس لیے ممکنہ سیلاب کی تیاریوں کے سلسلے میں فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

آپریشن شروع ہونے سے پہلے لال مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کو خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا اور ان قریبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو کچھ دنوں کا راشن اکھٹا کرنے اور گھروں سے نہ نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔
سکیورٹی ڈویژن کے اہلکار کے مطابق لال مسجد کے قریب سکول اور سرکاری عمارتوں پر سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز اور ماہر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ اس آپریشن کے لیے ٹرپل ون برگیڈ سے تین یونٹس بلائے گئے تھے۔
یہ فوجی آپریشن تین جولائی سے شروع ہوا اور ایک ہفتے بعد 10 جولائی کو ختم کیا گیا۔آپریشن کے دوران فوج سے تعلق رکھنے واکے ایک آئس ایس جی کمانڈو لیفٹیننٹ کرنل ہارون ہلاک ہوئے جبکہ اس آپریشن کے دوران لال مسجد میں ہلاک ہونے والوں سے متعلق متضاد دعوے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ ابھی بھی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس آپریشن کے دوران دو سو کے قریب طلبا اور طالبات ہلاک ہوئے تھے۔ اس آپریشن کے دوسرے روز یعنی چار جولائی کو لال مسجد میں پناہ لیے ہوئے مبینہ شدت پسند اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک نجی ٹی وی کے کیمرہ مین اور ڈرائیور کو کمر پر گولیاں لگیں جن میں سے ایک آج بھی بستر پر ہیں جبکہ دوسرے زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو گئے ہیں۔
جب تک آپریشن جاری رہا تب تک کتنی ہلاکتیں ہوئیں کسی کو معلوم نہیں تھا تاہم یہ معلومات آپریشن ختم ہونے کے بعد ملیں۔

ہارون غازی اس فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہیں۔ جس وقت یہ آپریشن شروع ہوا تو وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اپنے گھر میں موجود تھے جو کہ لال مسجد سے ملحقہ تھا۔
اُن کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز بھی ان کے ہمراہ رہتے تھے اور جس وقت آپریشن شروع ہوا تو دونوں بھائیوں یعنی مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے خاندان وہاں پر موجود تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ آپریشن شروع ہونے سے پہلے راشن اکھٹا کر لیا گیا تھا لیکن انتظامیہ کی طرف سے فوجی کارروائی سے پہلے لال مسجد اور اس سے ملحقہ عمارت جہاں طالبات کا مدرسہ جامعہ حفصہ واقع تھا، اور ان کے گھروں کی بجلی اور گیس منقطع کر دی گئی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ آپریشن کے دوسرے دن تین درجن سے زائد افراد کی لاشیں ان کے گھر کے صحن اور جامعہ حفصہ میں پڑی ہوئی تھیں۔ ہارون غازی کے بقول اس آپریشن کے دوران وہاں پر تعینات سکیورٹی گارڈز کے پاس 14 کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ موجود تھا جو کہ لائسنس یافتہ تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ لال مسجد میں موجود ایک طالب علم نے واکی ٹاکی کے ذریعے اطلاع دی کہ اندر اسلحہ ختم ہو گیا ہے تاہم مولانا عبدالرشید غازی نے واکی ٹاکی کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی تاکہ کہیں آپریشن میں شدت نہ آجائے۔
ہارون غازی کہتے ہیں کہ اس آپریشن کے دوران جب کرفیو میں نرمی کی گئی تو اس موقع پر ان گھروں میں مقید دونوں بھائیوں کی فیملی جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہاں سے نکلیں اور وہ یعنی ہارون غازی بھی اپنی والدہ کے ساتھ وہاں سے نکل گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ کو اس بات کا علم ہوتا تو وہ اُنھیں فوری گرفتار کرلیتے کیونکہ ان کے اور ان کی والدہ کے خلاف بھی مقدمات درج تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ جس روز ان کے والد اس آپریشن میں ہلاک ہوئے تو اس سے پہلے بھی وہ اپنے بچوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ مولانا رشید غازی جس روز ہلاک ہوئے تو اس وقت کالعدم تنظیم القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ایک پیغام بھی آیا تھا جس میں اُنھوں نے عبدالرشید غازی کو اسلام کا ہیرو قرار دینے کے ساتھ ساتھ پاکستانی مسلح افواج کے خلاف اعلان جنگ بھی کیا۔

اس فوجی آپریشن میں ہلاک والے زیادہ تر افراد کی شناخت ڈی این اے ٹسیٹ کے ذریعے کروائی گئی تھی۔ لال مسجد آپریشن کے مرکزی کردار مولانا عبدالعزیز نے مدارس کے طالب علموں کی طرف سے دین اسلام کی ترویج اور فحاشی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو آپریشن کی وجہ قرار نہیں دیا بلکہ ان کے بقول ان کے خلاف آپریشن افغان جہاد کی حمایت کرنے کی بنا پر کیا گیا۔

اس مذاکراتی عمل کے عینی شاہد اور دینی جماعتوں کی سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے صحافی علی شیر کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان جس معاہدے پر اتفاق ہوا تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مولانا عبدالرشید غازی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد سے اپنے آبائی علاقے رجھان جمالی، جوکہ جنوبی پنجاب میں واقع ہے، میں چلے جائیں گے اور دوبارہ کبھی بھی وہ اسلام آباد کا رخ نہیں کریں گے۔ علی شیر کے مطابق سابق فوجی صدر نے اس معاہدے کی منظوری نہیں دی تھی جس کے بعد آپریشن شروع کیا گیا۔ اس آپریشن کے خاتمے کے بعد ایک طویل عدالتی جنگ کا آغاز ہوگیا اور لال مسجد آپریشن کی حقائق معلوم کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا اور اس کمیشن میں پیش ہونے والے افراد کی ایک لمبی فہرست بھی موجود ہے۔
اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو معاوضے کے اعلان کے علاوہ اس آپریشن کے دوران منہدم ہونے والے خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیکٹر ایچ ایٹ میں 20 کنال کا ایک پلاٹ بھی دیا گیا۔ لال مسجد انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے کسی بھی شخص کے ورثا کو معاوضہ نہیں دیا گیا۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے مختص کیا جانے والا پلاٹ منسوخ کردیا اور ضلعی انتظامیہ نے اُنھیں اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں خواتین کے مدرسے کے لیے 10مرلے کا پلاٹ دینے کی پیشکش کی ہے جسے لال مسجد کی انتظامیہ ابھی تک قبول نہیں کرررہی۔ لال مسجد آپریشن کے مرکزی کردار مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمات محتلف عدالتوں میں چلائے گئے اور وہ ان تمام مقدمات میں باعزت بری ہوگئے۔

مبصرین کے مطابق لال مسجد آپریشن کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے اور درجنوں افراد کی ہلاکتوں کے باوجود آج بھی لال مسجد کا مسئلہ موجود ہے۔
کبھی لال مسجد کی انتظامیہ اپنے حقوق کے لیے مظاہروں کے علاوہ سڑکیں بلاک کردیتی ہے اور کبھی ریاست لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کی آڑ میں سڑکوں کو بند دیتی ہے جس کا خمیازہ عوام کو ہی بگھتنا پڑتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button