کیا پاکستان میں کرونا وائرس کا عروج آ کر گزر چکا ہے؟

https://www.youtube.com/watch?v=PS5fXu1iN10&t=1s
حکومتی دعوؤں کے مطابق پاکستان میں کرونا کا عروج گزر چکا ہے اور اب یہ وائرس اپنے زوال کی طرف گامزن ہے۔
حکومتی ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن حفاظتی اعر تدابیر پر عملدرآمد کی وجہ سے پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے تاہم اگر عوام کی طرف سے عید کے موقع پر احتیاط کا دامن چھوڑ دیا تو حالات خطرناک ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان میں کرونا ٹیسٹوں کی کم شرح کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور حکومت کو ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے کیلئے اقدامات کرنے چاہیں۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان ان ممالک میں سامل ہوا ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
لیکن حکومتی عہدیداروں کا دعوی ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں متواتر اضافے کے بعد حالیہ دنوں میں مصدقہ متاثرین کی تعداد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اس کمی کا براہِ راست اثر ملک کے نظامِ صحت پر پڑا ہے جو ماہرین صحت کے مطابق تقریباً مفلوج ہونے کے قریب تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے مختص 40 سے 50 فیصد انتہائی نگہداشت کے بستر اور یونٹس اب زیادہ تر خالی ہو گئے ہیں۔ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سیکریٹری نبیل اعوان کے مطابق محض چند روز قبل تک ہسپتالوں میں کرونا وارڈز 90 سے 95 فیصد تک مریضوں سے بھر چکے تھے۔ تاہم ’اس وقت ہمارے پاس ہسپتالوں میں مریض کم آ رہے ہیں اور ہائی ڈیپینڈنسی یونٹس، آئی سی یو بستر اور وینٹیلیٹرز 50 فیصد کے قریب دستیاب ہیں۔‘ جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو گھروں میں قرنطینہ کیے ہوئے ہیں۔
مریضوں کے اعداد و شمار میں حالیہ کمی کے ساتھ صوبوں میں کرونا کے ٹیسٹ کرنے کی یومیہ شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کم ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے مریض سامنے نہیں آ رہے ہیں؟ محکمہ صحت کے حکام کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ در حقیقت ’ٹیسٹ اس لیے کم ہو رہے ہیں کیونکہ مریض کم سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے ٹیسٹ کے اعداد و شمار میں حالیہ کمی کا مطلب یہ ہے کہ مریض نہیں ہیں جو آ کر ٹیسٹ کروائیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں لگایا جانے والا حالیہ سمارٹ لاک ڈاؤن تاحال قائم ہے تاہم لاہور میں حال ہی میں چند ایسے علاقوں کو کھولا گیا جہاں سب سے پہلے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم وزیرِ اعظم پاکستان کے کرونا وائرس کے حوالے سے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سلطان ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ کی حکمتِ عملی کو کورونا کے مریضوں کی تعداد میں حالیہ کمی کا سبب ماننے کے حوالے سے محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں کمی کی وجوہات میں سمارٹ لاک ڈاؤن ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے مکمل یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم محکمہ صحت کے حکام متفق ہیں کہ اس کے پیچھے ایک سے زیادہ عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں اب تک کرونا وائرس کے 2 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ کیسز ریکارڈ کئے جا چکے ہیں جب کہ اموات ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق وائرس کے ابتدائی دنوں میں پاکستان میں صورتِ حال بہت گھمبیر تھی مگر اب کچھ بہتری آئی ہے۔ سامنے آنے والے مریضوں کے نہ صرف ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں بلکہ رزلٹ مثبت آنے کے بعد ان کے باقی گھر والوں کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اس عمل سے بھی وائرس کو محدود رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیسٹ کے ذریعہ ہی کرونا سے متاثرہ شخص کی تشخیص ہو سکتی ہے اس لئے حکومت کو ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے کیلئے اقدامات کرنے چاہیں کیونکہ اس وقت ملک میں ٹائیفائیڈ اور ڈینگی کے مریض بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اس میں اگر صرف دس سے پندرہ فیصد افراد کے ٹیسٹ پازیٹیو ہوئے تو دو لاکھ پندرہ ہزار کیسز کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً چھ یا آٹھ لاکھ کے قریب ٹیسٹ ہوئے۔ ان کے مطابق یہ انتہائی کم تعداد ہے اور پانچ فیصد ٹیسٹنگ بھی نہیں ظاہر ہوتی۔ اور یہ ملک کے لئے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ موسم شدید گرم ہے اور ساتھ ہی عید ایک مرتبہ پھر آ رہی ہے۔ قربانی کے جانور منڈیوں میں لانے کی اجازت مزید خطرات پیدا کرے گی۔ اور کرونا وائرس کے ساتھ ہی کانگو وائرس کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ورنہ وہ محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
کے پی کے میں کرونا وائرس کی صورت حال کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات جوں کے توں ہیں۔ اسپتالوں میں جگہ نہیں اور ڈاکٹر خود بیمار ہو رہے ہیں۔ اور حکومت ابھی تک کسی ایک مشترکہ پالیسی پر عمل نہیں کروا سکی۔ لہذا ہر صوبے کی اپنی پالیسی ہے اور اپنے مسائل اور کوئی نہیں جانتا کہ آئندہ کیا ہو گا۔
صوبہ سندھ کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں عید الفطر کے بعد جب وبا کا زور ہوا تو صورت حال واقعی بہت پریشان کن ہو گئی تھی مگر پھر حکومت نے انتظامات کا دائرہ بڑھایا اور بہتر اقدامات کئے جن کی وجہ سے اب حالات قابو میں ہیں۔
کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اس حالیہ کمی کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت دیگر ماہرینِ صحت کا استدلال ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ میں کمی آنے کے باوجود عوام کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عوام کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس وبا کا ایک لمبے عرصے تک مقابلہ کرنا ہو گا جب تک کہ اس کا علاج نہیں آ جاتا۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کورونا کا عروج آ کر گزر بھی گیا ہو تو ’ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دوبارہ بھی وائرس کا پھیلاؤ سامنے آ سکتا ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘
