کیا اپوزیشن وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے؟


اتحادی جماعتوں کی ناراضی سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھوتے نظر آتے ہیں لیکن فوری طور پر اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی ارادہ اس لئے نہیں رکھتی کہ ماضی قریب میں چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد سے انھیں یہ خدشہ ہے کہ سٹیٹ مشینری استعمال کر کے اس تحریک کو بھی ناکام بنا دیا جائے گا. چنانچہ اپوزیشن کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرے گی اور لوہا گرم دیکھ کر ہی چوٹ لگائی گئی تاکہ کہ اسکا وار رائیگاں نہ جائے۔

یاد رہے کہ عمران خان مقتدر حلقوں کے مکمل تعاون اور اتحادی جماعتوں کی سپورٹ کے بعد 186 اراکین اسمبلی کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم حال ہی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے بعد اب انکے حمایتی ممبران قومی اسمبلی کی تعداد سکڑ کر 182 رہ گئی ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے چار ارکان ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے 7، مسلم لیگ ق کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 3 جبکہ جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کے ایک ایک رکن اسمبلی کی سپورٹ تاحال تحریک انصاف کے ساتھ ہے اور 4 آزاد امیدوار بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے پاس قومی اسمبلی میں مجموعی نشستوں کی تعداد 156 ہے جن میں سے ن لیگ کی 84، پیپلز پارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل کی 16 اور عوامی نیشنل پارٹی کی ایک نشست ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ق کی طرف سے بھی حکومتی اقدامات پر اظہار ناراضی کیا جا چکا ہے جبکہ جمہوری وطن پارٹی بھی اپنا مسکن تبدیل کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کا گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بھی حکومت کی طرف سے مطالبات پورے نہ کرنے پر حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا عندیہ دے چکا ہے۔ حکومت سازی کےلیے کسی بھی جماعت کو 172 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، اور اگر حکومتی اتحادی جماعتیں تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کی حمایت کردیں تو تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا تاحال ابھی کوئی مطالبہ اس لئے سامنے نہیں آ رہا ہے کہ اپوزیشن شکوک و شبہات کا شکار نظر آتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو خدشات لاحق ہیں کہ اگر مقتدر حلقوں کے تعاون سے اپوزیشن اس تحریک میں بھی ناکام ہو گئی تو حکومتی سیاسی انتقام میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانا مشکل ہے۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ حکومت نیب اور پولیس کو استعمال کر رہی ہے، اپوزیشن تحریک چلانا چاہے گی تو کچھ ارکان کو پکڑ لیا جائے گا جس کے بعد اپوزیشن کو اسمبلی میں اکثریت نہیں ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو 172 ووٹوں کی ضرورت ہے، اگر وہ پورے ہو بھی جائیں تو حکومت اپوزیشن ارکان کو پکڑ لے گی تاکہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے پاس وفاق میں حکومت ہے اور نہ ہی کسی صوبے میں، اس لئے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو گی لہذا ہمیں مناسب وقت کے لیے انتظار کرنا چاہیے اور جب لوہا گرم ہو تب وار کرنا چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button