فوج کی پہلی خاتون لیفٹننٹ جنرل سے استعفی دینے کا مطالبہ

https://www.youtube.com/watch?v=s-7z0huQt7c
جنوری 2005 میں بلوچستان میں پاک فوج کے کیپٹن حماد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر شازیہ خالد نے ملک کی پہلی خاتون لیفٹننٹ جنرل نگار جوہر کے نام ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ
وہ مظلوم پاکستانی عورتوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے عہدے سے احتجاجاً مستعفی ہو جائیں۔

یاد رہے کہ کہ ڈاکٹر شازیہ کو ریپ کرنے والے کیپٹن حماد کے خلاف مشرف حکومت نے کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی تھی جس کے بعد ڈاکٹر شازیہ کو پاکستان سے جلاوطن ہونا پڑا۔ دوسری طرف ڈاکٹر شازیہ کی خاطر آواز اٹھانے پر مشرف کے عتاب کا نشانہ بننے کے بعد بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی ڈیرہ بگٹی کی غار میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوگئے تھے۔

کیپٹن حماد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے پندرہ برس بعد چار جولائی 2020 کو پاکستان آرمی کی پہلی لیفٹیننٹ جنرل بننے والی نگار جوہر کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر شازیہ خالد نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی مظلوم عورتوں اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اپنے عہدے سے فورا استعفی دے دیں۔ نگار جوہر کے نام خط میں ڈاکٹر شازیہ خالد لکھتی ہیں:

"امید ہے آپ اپنے کاندھے پہ غیر موجود فرشتوں کی انانیت کا سر ان تین ستاروں کے آگے جھکنے پر فرط و انبساط کے ہلکوروں میں جھوم رہی ہونگی جو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کی علامت اور پاکستان میں انسانی حقوق کی ندامت ہیں۔عورت اور ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ہم میں صرف ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ آپ اور میں اس ریاست پاکستان کی شہری ہیں جہاں ہر نئے دن کا سورج کیلنڈر پر تاریخ تو بدلتا ہے مگر مظلوموں کی تقدیر نہیں۔دو جنوری 2005 کی رات میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے بلوچستان کے علاقے سوئی ڈیرہ بگٹی میں سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد میں سو رہی تھی جب پاک فوج کا کیپٹن حماد زبردستی میرے کمرے میں گھس آیا۔ اس کے ہاتھ میں تیس بور کا رشین سروس ریوالور اور آنکھ میں وہی شہوانیت تھی جس کا ڈھنڈورا دن رات پی ٹی وی انڈین آرمی سے منسوب کرتا نہیں تھکتا۔حماد بن شہوت نے میرے ہاتھ فون کے تار سے باندھ کر میرے منہ پر میرا پیلا شیفون کا دوپٹہ کس کر باندھ دیا۔ میں زور زور سے چلا رہی تھی مگر میری ہر آواز واپس صرف میرے کانوں تک ہی پہنچ رہی تھی۔ دور سے فجر کی اذان کی آواز آ رہی تھی اور خدا بھی نیند سے جاگنے والا تھا مگر اس سے پہلے ہی حماد میری ہستی میری روح میرے جسم کو پامال اور بھنبھوڑنے کے بعد نہایت اطیمنان سے جھومتا جھامتا جا چکا تھا۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے ہاتھ کھولے منہ سے دوپٹہ اتارا اور سسٹر فردوس کا دروازہ پیٹا۔ اس نے پلانٹ مینیجر کو کال کی اور اس کے آنے سے پہلے میں بے ہوش ہو چکی تھی۔ اگلے تین دن مجھے پلانٹ میں سیڈیٹوز دیکر بیہوش رکھا گیا اور پھر کراچی کے اصغر سائیکیٹرک کلینک منتقل کیا گیا جہاں اگلے دو ماہ تک مجھے آئی ایس آئی کے ایجنٹس نے غیر قانونی حراست میں رکھا۔ بگٹی قبیلے اور سردار اکبر خان بگٹی کو میرے حق میں آواز اٹھانے کی جو سزا دی گئی وہ تو تاریخ کا حصہ ہے ہی مگر میرے شوہر نے لیبیا سے واپس آ کر اپنے سارے خاندان کی مخالفت کے باوجود مجھے جس طرح سنبھالا اس سے میری نظروں میں ان کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا”۔

ڈاکٹر شازیہ نے اپنے خط میں نگار جوہر کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا: "جس مشرف نے آپ کو فل کرنل پروموٹ کیا اس نے نیشنل ٹی وی پر حماد کو بیگناہ قرار دیکر ثابت کیا کہ مافیا ہر قیمت پر اپنے کارندوں کی حفاظت کرتا ہے جیسے مشرف کو پھانسی کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد تحفظ فراہم کیا گیا اور سزا سنانے والے جج جسٹس وقار سیٹھ کو ہونے میں دھکیل دیا گیا ۔
آج میں لندن میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ کیپٹن حماد کیڈٹ کالج حسن ابدال میں لیفٹننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہو کر اسلامیات کا مضمون پڑھاتا ہے تو میرے کانوں میں بار بار صرف یہی سوال گونجتا ہے کہ کہاں ہے ارض وسما کا مالک مگر جب کارل سیگن بتاتا ہے کہ ارض و سما کا مالک اس تیرہ ارب اسی کروڑ سال قدیم کائنات میں صرف ساڑھے تین ہزار سال پہلے پروہت کے دماغ میں پیدا ہوا تو سارتر کی بینگ اینڈ نتھنگنیس میں موُخرالذکر مجھے اپنی ہستی کی تشہیر لگتی ہے”۔

ڈاکٹر شازیہ خالد نے لیفٹیننٹ جنرل گوہر نگار کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا:

اگر آپ لیفٹننٹ جنرل بن کر سمجھتی ہیں کہ یہ آپ کے لیے فخر و مباہات کا باعث ہے تو یاد رکھئے کہ آپ کی تنخواہ اور مراعات کا ایک ایک روپیہ پاکستان کے عوام کا لہو نچوڑ کے حکیم عزیز جگرانوی کے عرق گلاب کی مانند کشید کیا گیا ہے۔ اگر آپ میں ضمیر نام کی کوئی شے موجود ہے تو فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر اپنی زندگی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی مظلوم پاکستانی عورتوں کی فلاح کے لیے وقف کریں وگرنہ میں یہ سمجھوں گی کہ اخلاقیات کا شعور انسانوں میں نہیں صرف کتابوں میں لکھا پایا جاتس ہے۔ اگر استعفیٰ دینے کے بعد کبھی آپ کا لندن آنا ہو تو بتائیے گا۔ میں آپ کو پکاڈلی سرکس دکھاوُں گی جس میں جب جب ٹرینر جیری کے اشارے پہ عمر رسیدہ چمپینزی سائیکل چلا کر ٹوکری میں سے پیلی گیندیں نکالتا ہے تو بالکل عمران خان لگتا ہے جو چیف کے اشاروں پہ ناچتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی کبھی چمپینزی جیری کی بات نہیں بھی مانتا”۔

آپ کی دکھیاری بہن
ڈاکٹر شازیہ خالد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button