منگلا ڈیم 5 سال بعد مکمل طور پر بھرگیا

ملک میں جاری مون سون کی بارشوں کے باعث منگلا ڈیم 5 سال بعد مکمل طور پر بھر گیا، ڈیم میں مزید پانی اسٹور کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی، حکام نے ہنگامی اقدامات کی تیاریاں شروع کردیں، تباہی مچنے کا خدشہ۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ بارشوں سے منگلا ڈیم کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منگلا میں واقع ملک کا دوسرا بڑا ڈیم مکمل طور پر پانی سے بھر گیا ہے۔
واپڈا منگلا فلڈ کاسٹنگ کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1239فٹ سے ریکارڈ کی گئی جو کہ انتہائی خطرناک سطح میں شامل ہے۔ گزشتہ روز منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 25ہزار کیوسک جب کہ ڈیم سے پانی کا اخراج 4800 کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا ڈیم میں مزید پانی کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 5 سال بعد منگلا ڈیم مکمل طور پر بھر گیا ہے۔
موجودہ صورتحال اور کسی بھی ہنگامی حالات سے بچنے کےلیے آئندہ 48گھنٹوں میں منگلا ڈیم سے ایک لاکھ کیوسک تک پانی کا ریلہ چھوڑا جا سکتا ہے جس سے منگلا ڈیم میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے متعلقہ حکام کی میٹنگ طلب کی گئی ہے جس کے بعد ڈیم میں پانی کی صورت حال پہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ 48گھنٹو ں میں کسی وقت بھی ڈیم سے پانی کا اخراج شروع کیا جا سکتا ہے جس سے دریائے جہلم میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا رہا ہے۔ سیلابی صورت حال سے آبادی والے علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ملک کے بیشتر علاقوں میں طوفانی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ کراچی اور چترال کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ کراچی کے قریب واقع حب ڈیم بھی 13 سال بعد مکمل طور پر بھر گیا۔ جب کہ کراچی میں ایک دن کے دوران زیادہ سے زیادہ بارش کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ کراچی میں صرف ایک دن کے دوران 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ جب کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز الرٹ جاری کیا گیا تھا کہ ملک کے تمام بڑے دریاوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال پیشن گوئی کی گئی تھی کہ مون سون سیزن کے دوران توقع سے زائد بارشیں ہوں گی۔
