کالعدم جماعت الدعوۃ کے مزیدتین رہنماؤں کو قید کی سزا

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم جماعة الدعوة کے تین مرکزی رہنماؤں کے خلاف غیر قانونی فنڈنگ کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حافظ عبدالسلام بن محمد اور پروفیسر ظفر اقبال کو مجموعی طور پر ساڑھے سولہ سال قید اور ڈیڑھ ، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کو ڈیڑھ سال قید اور بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
کالعدم جماعة الدعوة کے رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3 میں گزشتہ ہفتے کالعدم جماعت کے لیے غیرقانونی فنڈنگ کی فرد جرم عائد کی گئی اور مقدمہ نمبر 91/19 کا ٹرائل شروع کیا گیا تھا۔
صوبائی دارالحکومت کی عدالت میں جج اعجاز احمد بٹر نے جماعت الدعوۃ کے 3 رہنماؤں کے خلاف کیس کی سماعت کی، جس کے بعد فیصلہ جاری کیا۔اے ٹی سی نے فیصلہ سناتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ عبدالسلام اور پروفیسر ظفر اقبال کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ساتھ ہی انہیں اے ٹی سی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 آئی (2) (بی) کے تحت 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔اس کے علاوہ ان دونوں رہنماؤں کو اے ٹی سی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 ایچ کے تحت 5 سال کی سزا دی گئی جبکہ 50 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔اے ٹی سی عدالت نے ان دونوں رہنماؤں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 جے کے تحت مزید 5 سال کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ عائد کیا۔یوں ان دونوں رہنماؤں کو مختلف سیکشن کے تحت مجموعی طور پر ساڑھے 16 سال قید اور ایک لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
مزید برآں عدالت نے جماعت الدعوۃ کے تیسرے رہنما عبدالرحمٰن مکی کو اے ٹی سی ایکٹ کے سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران محکمہ انسداد دہشت گردی نے 10 سے زائد گواہوں کو پیش کیا جبکہ جماعت الدعوۃ کی طرف سے نصیر الدین نیئر اور محمد عمران گل ایڈووکیٹ نے گواہوں کے بیانات پر جرح کی اور ملزمان کے حق میں دفاعی دلائل مکمل کیے۔جمعے کو تین گھنٹے تک کیس کی سماعت جاری رہی جس کے بعد اے ٹی سی کورٹ نمبر 3کے جج اعجاز احمد بٹر نے فیصلہ سنایا۔
یاد رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے سال 2019 کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، ساہیوال اور سردگودھا کے تھانوں میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور دیگر رہنماؤں کے خلاف 23 ایف آئی آرز درج کی تھیں۔سی ڈی ٹی کی جانب سے ان پر مدارس اور مساجد کی زمینوں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔فروری کے مہینے میں عدالت نے ایسے ہی 2 مقدمات میں حافظ سعید اور ملک ظفر اقبال کو ہر کیس میں ساڑھے 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔عدالت کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 11 این کے تحت سزا سنائی گئی تھی اور ہر ایک کو 5 سال قید بامشقت اور 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا جبکہ شق 11 ایف (2) کے تحت 6 ماہ مزید قید بامشقت اور 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔عدالت نے کیس میں نامزد ایک اور ملزم یحییٰ مجاہد کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اب جماعة الدعوة کے تین رہنماﺅں کے خلاف کالعدم جماعت سے تعلق اور غیر قانونی فنڈنگ کے مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button