موجودہ حکومت بھی شوگر مافیا کے اشاروں پر ناچتی رہی

شوگر کمیشن کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ شوگر کارٹل پچھلی کئی دھایئوں سے برسر اقتدار حکومتوں کو بلیک میل کرتا رہا ہے اور انہیں ڈکٹیشن دیتا رہا ہے تاکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے۔
شوگر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ نے یہ ہوشربا انکشاف بھی کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ اور نون لیگ کی سابقہ حکومتیں شوگر لابی کے اشاروں پر ناچتی رہیں اور ایسے فیصلے کیے جن کی وجہ سے شوگر مل مالکان کے مفادات پورے ہوئے لیکن عوام کی چیخیں نکل گیئں۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر اب وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر کی تمام شوگر ملز کا 1985 سے اب تک کا آڈٹ کیا جائے اور بدعنوانی کے کیسز کو قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو بھیجے جائیں۔
شوگر سکینڈل تحقیقاتی کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کرشنگ سیزن کے آغاز سے قبل ہی پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن حکومت پر دبائو ڈالتی ہے کہ سبسڈی کے ساتھ چینی کی برآمد کی اجازت دی جائے اور ہر حکومت دباؤ میں آ کر اس کی اجازت دے دیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی موجودہ دور حکومت میں ہوا جب وزیر برائے خوراک اور سیکریٹری فنانس کی مخالفت کے باوجود کابینہ نے 11؍ ستمبر 2018ء کو اکنامک کوآرڈینیشن کونسل کو اپنی سفارشات بھجوائیں جس نے 2؍ اکتوبر 2018ء کو ایک ملین میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی حالانکہ خود اپنے ملک میں چینی کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
3؍ دسمبر 2018ء کو پی ایس ایم اے کے ایک وفد نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت اور وزیر برائے فوڈ سیکورٹی سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ مزید ایک ملین میٹرک ٹن چینی کی برآمد کیلئے شرائط نرم کی جائیں جبکہ مزید 0.1؍ ملین میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی جائے۔پی ایس ایم اے نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر 2؍ ارب روپے سبسڈی کی مد میں بقایہ جات کے جاری کرے اور ساتھ ہی صوبوں سے کہا جائے کہ وہ فریٹ سپورٹ ادا کریں۔
4؍ دسمبر 2018ء کو ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں ایکسپورٹ کوٹہ میں 0.1؍ ملین میٹرک ٹن کا اضافہ کیا گیا۔ ای سی سی نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ سبسڈی کی مد میں دو ارب روپے کی بقایہ جات جاری کریں۔
ای سی سی نے یہ بات صوبوں پر چھوڑ دی کہ وہ سبسڈی شوگر مل مالکان کو دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ بعد میں پنجاب حکومت کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے توسط سے پی ایس ایم اے والوں نے رابطہ کیا اور ان سے تین ارب روپے کی سبسڈی منظور کرائی۔ یوں شوگر مل مالکان نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اپنی جیبیں پھر سے بھر لیں۔
