مولانا اور نواز شریف نے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ اور میل ملاقاتوں کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) فضل الرحمٰن کے اتحاد اور ملاقاتوں سے سیاسی منظر نامہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو بڑی سیاسی جماعتوں میں اتحاد کن شرائط پر ہو رہا ہے۔
مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے بقول تمام سیاسی اتحادیوں کے ساتھ معاملات کو حتمی طور پر طے کر لیا گیا ہے۔ ’اتحادیوں کے ساتھ مل کر انتخابی حکمت عملی بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کہیں اتحادی ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں اور کئی جگہ ہم اپنے اتحادیوں کی حمایت کریں گے، تاہم حکومت کی تشکیل سے متعلق فیصلے انتخابی نتائج کے بعد ہی کیے جائیں گے۔‘
دوسری جانب جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن سے ہمارا اتحاد پی ڈی ایم سے بھی پہلے کا ہے۔ ’ہم نے ان کے ساتھ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں نہ صرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بلکہ متحد ہو کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں ہمارے امیدوار مضبوط ہوں گے، وہاں مسلم لیگ ن اور جس حلقے میں مسلم لیگ ن کا امیدوار ہوگا وہاں ہم ان کی حمایت کریں گے۔ حلقوں سے متعلق جائزہ لینے کے لیے صوبائی سطح پر مشترکہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست میں لین دین کے بغیر اتحاد نہیں بنتے، اس لیے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی میں اتحاد سے ویسے تو دونوں کو فائدہ ہے، لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حمایت ملنے پر جے یو آئی کو زیادہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں تو وہ حکومتی عہدوں میں نمایاں حصہ لینے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔تاہم مولانا فضل الرحمٰن کے کامیابی کی صورت میں ان کے صدر مملکت بننے کے امکان پر تجزیہ کاروں کی رائے منقسم ہے۔
تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کا کا اتحاد پہلے ہی مضبوط ہے۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ پی ڈے ایم کی تشکیل سے لے کر پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم سے نکلنے تک جے یو آئی، مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ اتحادی حکومت کے دوران بھی مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کے بعد ہی شہباز شریف بڑے فیصلے کرتے رہے۔ ان کا اتحاد تو کافی مضبوط ہے، اسی لیے دونوں مل کر انتخابی اتحاد بنا رہے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا: ’ماضی کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔ یہاں انہیں جے یو آئی کی حمایت کی شاید زیادہ ضرورت نہ ہو مگر باقی تینوں صوبوں میں مسلم لیگ ن کو مولانا کی حمایت ملنے سے سپورٹ ملے گی۔’بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جے یو آئی نے اگر ماضی کے مطابق نشستیں حاصل کر لیں تو وہ دو صوبوں میں حکومت بنانے کے لیے وہ مسلم لیگ ن کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔‘
سلمان غنی کے مطابق: ’وفاقی سطح پر تو مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کو بھی فائدہ ہوگا لیکن حکومت بنانے میں نہیں، شاید دو تہائی اکثریت میں اتحادیوں کا کردار ہو، لہذا دو صوبوں میں جے یو آئی کو حکومتی تشکیل میں زیادہ فائدے میں رہے گا کیونکہ وہ اکیلے شاید حکومت نہ بنا سکیں۔ دوسری بات جو مولانا کے صدر بننے کی ہو رہی ہے تو یہ مشکل ہے کیونکہ الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی بھی حکمران اتحاد کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے اور زرداری صاحب صدر کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔‘
اس تمام صورت حال پر تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ماضی میں دو تہائی اکثریت سے بھی حکومت بنا چکی ہے اور سادہ اکثریت سے بھی بناتی رہی ہے۔ تاہم آمدہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے درمیان سب سے بڑا اتحاد سمجھا جا رہا ہے۔ جس طرح چاروں صوبوں میں مسلم لیگ ن مختلف جماعتوں سے اتحاد کر چکی ہے، اس سے ان کی پوزیشن کافی واضح ہوچکی ہے، مگر مسلم لیگ ن ماضی میں دو تہائی اکثریت سے بھی حکومت بنا چکی ہے اور سادہ اکثریت سے بھی بناتی رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 نشستوں کی تعداد بھی ہے، لہذا اس بار بھی ان کی پوزیشن اچھی ہے، تاہم دیگر تینوں صوبوں میں اتحادی جماعتوں خاص طور پر جے یو آئی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔‘انہوں نے مزید کہا: ’جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کو صدر بنانے کا تعلق ہے تو اگر پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو وہ اتحادی حکومت کی جانب سے مضبوط صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے انتخابی نشان پر کتنی نشستیں جیت کر ایوان میں پہنچتی ہیں۔ سیاست کا سیدھا اصول ہے، ’حصہ بقدر جسہ‘ یعنی جس کی جتنی سیٹیں، اتنا بڑا عہدہ ملتا ہے۔‘
