مولانا طارق جمیل کو والدین سے لگاؤ کیوں نہیں تھا؟

بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی کے لمحات ہی فیملی کو ایک رشتے میں پروتے ہیں، خوشی، غمی کو ایک ساتھ برداشت کرنا ہی خاندان میں تعلق کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے لیکن معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے مطابق صرف گیارہ برس کی عمر میں ہاسٹل بھیجے جانے پر ان کو اپنے والدین سے کبھی وہ لگائو اور محبت نہیں ہوئی جو عام بچوں کو ہوتی ہے۔
مولانا طارق جمیل پاکستان کی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا مختلف فرقوں اور مذاہب کے افراد انتہائی احترام کرتے ہیں اور نہ صرف ملک میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
انہوں نے ہمیشہ عوام کے درمیان اتحاد اور محبت کو فروغ دیا ہے اور ان کا خوبصورت بیان لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیا کرتا ہے، مولانا طارق جمیل اپنے خطبات اور انٹرویوز میں اپنی ذاتی زندگی سے بھی مثالیں دیا کرتے ہیں۔ وہ حال ہی میں حافظ احمد کے پوڈ کاسٹ کے مہمان تھے اور اس گفتگو کے دوران انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ حقائق شیئر کیے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والدین سے کبھی بھی دوسرے لوگوں کی طرح محبت نہیں کی اور وہ اب بھی اپنے دل میں ان کے لیے اس طرح کی محبت محسوس نہیں کرتے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ وہ صرف 11 برس کی عمر میں ہی حصول تعلیم کے سلسلے میں ہاسٹل بھیج دیے گئے تھے اور اس طرح وہ اپنے والدین کے ساتھ اس طرح کا لگاؤ پیدا نہیں کر سکے جیسا دوسرے بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔
اپنے تجربے کی روشنی میں مولانا طارق جمیل نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں خود سے دور نہ بھیجیں کیوںکہ اس طرح ان کے بچے ان کے ساتھ وہ قربت کبھی محسوس نہیں کر سکیں گے جس طرح دوسرے بچے کرتے ہیں۔

Back to top button