مولانا عبدالعزیز لال مسجد پر بزور بازو قابض، صورتحال کشیدہ

جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں اپنے بھائی مولانا عبدالرشید غازی سمیت سینکڑوں لوگوں کو مروانے والے لال مسجد کے معزول خطیب مولانا عبدالعزیز نے ایک مرتبہ پھر قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے سرکاری ملکیت کی مسجد پر زبردستی قبضہ کر کے وہاں کے امام ہونے کا دعویٰ کردیا ہے جس کے بعد صورتحال کشیدگی اختیار کر گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2007 میں مولانا عبدالعزیز نے اپنے چھوٹے بھائی مولانا عبدالرشید غازی کو آگے لگایا اور افواج پاکستان کے ساتھ خونی مقابلے پر آمادہ کیا لیکن جب فوجی آپریشن شروع ہوا تو مولانا عبدالعزیز خود برقع پہن کر مسجد سے نکلنے کی کوشش میں پکڑے گئے تھےاور پھر اسی برقعے میں مولانا کو پاکستان ٹیلی ویژن پر بٹھا کر ان کا انٹرویو لیا گیا جس میں انہوں نے اپنے بھائی ہی کی مذمت کردی جو چند روز بعد فوجی آپریشن میں مارا گیا۔ بعد ازاں مولانا پر مقدمہ چلا لیکن ایک معاہدے کے بعد ان کو رہا کردیا گیا۔ تاہم انہیں دوبارہ لال مسجد کی امامت کی اجازت نہیں دی گئی۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ لال مسجد کے خطیب اور نائب خطیب کی آسامیاں دو ہفتے پہلے خالی ہوئی تھی جن پر حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی تعیناتی عمل میں نہیں آئی تھی چنانچہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے مسجد پر قبضہ کرلیا اور خود کو مسجد کا خطیب ڈکلئیر کر دیا۔ تاہم اس وقت وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے مسجد کا محاصرہ کررکھا ہے اور مولانا عبدالعزیز اپنی بیوی اور طالبات کے ساتھ اندر موجود ہیں اور مسجد کا قبضہ ختم کرنے سے انکاری ہیں۔
کشمکش کی اس صورتحال میں دونوں فریقین میں سے کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ممکنہ طور پر حکومت کا ردِ عمل جاننے کے لیے مولانا عزیز نے جمعے کا خطبہ بھی دیا تھا۔ لال مسجد شہدا فاونڈیشن کے کرتا دھرتا حافظ احتشام احمد کی جانب سے امامت نہ کرنے کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے خطبہ بھی دیا اور امامت بھی کی۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ مولانا کے ساتھ آخری حد تک نہیں جانا چاہتے کیونکہ اگر بات بڑھی تو دوبارہ خون خرابہ ہونے کا امکان پیدا ہوجائے گا جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔
معاملے کی سنگینی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 4 فروری کو جامعہ حفصہ کی تقریباً 100 طالبات نے سیکٹر ایچ-11 کے مدرسے کی مقفل عمارت پر دھاوا بول دیا۔ نتیجے میں دارالحکومت کی انتظامیہ کے افسران مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کے لیے لال مسجد پہنچے لیکن مذاکرات اس لیے بے نتیجہ رہے کہ مولانا کا اصرار تھا کہ وفاقی وزیر کے عہدے کی سطح کا کوئی عہدیدار ان سے بات چیت کرے۔ مسجد سے موبائل فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ سب وہی پرانی غلطی دہرانے پر کمر بستہ ہیں ۔ یہ لوگ ملک میں شریعت کے نفاذ سے گریزاں ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہمیں دوبارہ آپریشن کرنے کی دھمکی کے ساتھ ایچ-11 میں موجود جامعہ حفصہ خالی کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دی تھی جبکہ خوراک کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے لیکن ہم اسلام کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں’۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد خالی کرنے کا انتباہ دینے کے بعد 4 فروری کی رات سے علاقہ بند کردیا گیا تاہم سخت پابندیوں کے تحت شہریوں کو جمعے کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لیے تمام نمازیوں کو پولیس کے ناکے پر قومی شناختی کارڈ جمع کروانا تھا جو انہیں نماز سے واپسی پر واپس کردیا گیا۔
دوسری جانب مولانا عبدالعزیز نے جمعے کا اشتعال انگیز خطبہ دے کر اپنا ٹریک ریکارڈ برقرار رکھا جس میں بس ریاستی حکام کو اسلام کی حقیقی پیروی نہ کرنے والے اور ملک کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے قرار دینے کی کسر رہ گئی تھی۔ تاہم نماز جمعہ کے بعد کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ صرف خوراک فراہم کرنے کی اجازت اس صورت میں تھی کہ اندر سے کوئی باہر آ کر اسے وصول کرے۔ اسی حوالے سے ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’جمعے کے روز 2 مرتبہ کھانا آیا، خواتین مسجد کی چھت پر بھی دکھائی دیتی ہیں اور وہ کھانا لینے کے لیے باہر بھی آسکتی ہیں لیکن ہم کسی کو اندر جانے نہیں دے رہے کیوںکہ اس طرح کوئی ہتھیار لے کر جاسکتا ہے‘۔ اس ضمن میں کیپیٹل ایڈمنسٹریشن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ 2 ماہ قبل عامر صدیقی کے تبادلے کے بعد سے لال مسجد میں کوئی خطیب اور نائب خطیب نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کا گروپ محکمہ اوقاف کے نامزد کردہ امام کو دھمکیاں دیتا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا کیوںکہ وہ دوبارہ مسجد کے خطیب بننا چاہتے ہیں اور جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے زمین کا بڑا حصہ اور 25 کروڑ روپے بھی چاہتے ہیں اس کے ساتھ انہیں ملحقہ اولڈ چلڈرن لائبریری کے پلاٹ کا قبضہ بھی چاہیے۔ عہدیدار نے کہا کہ ’سب سے پہلے ہم پُرامید ہیں کہ وہ 2 سے 3 روز میں یہ جگہ چھوڑ دیں گے، اگر مولانا عبدالعزیز اپنی حرکت پر ڈٹے رہے تو حکام جی-7 کے جامعہ حفصہ کو سودے بازی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں‘۔ خیال رہے کہ جامعہ حفصہ کی تقریباً یہ تمام جگہ جہاں مولانا موجود ہیں، قدرتی پانی کے ذخیرے کو بند کر کے قبضہ کی گئی زمین پر تعمیر کی گئی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button