بحریہ آئیکون ٹاورریفرنس کیس، ملک ریاض کی احتساب عدالت طلبی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض، ان کے داماد زین ملک اور دیگر نامزد ملزمان کو بحریہ آئیکون ٹاور کراچی سے متعلق کرپشن ریفرنس میں 13 فروری 2020 کے روز طلب کرلیا ہے۔
احتساب عدلات میں طلب کیے گئے دیگر افراد میں سابق سینیٹر یوسف بلوچ، ڈاکٹر ڈنشا انکل سریا، لیاقت قائم خانی، وقاص رففعت، غلا عارف، خواجہ شفیق، عبدالسبحان میمن، جمیل بلوچ، افضل عزیز، سید محمد شاہ، خرم عارف، عبدالکریم پلیجو اور خواجہ بدیع الزمان شامل ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 13 فروری سے ریفرنس پر باضابطہ کارروائی کا آغاز کریں گے۔
یاد رہے کہ بحریہ آئیکون ٹاور کیس جعلی اکاؤنٹس کیس کا ہی ایک حصہ ہے، یہ پہلا ریفرنس ہے جس میں ملک ریاض کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے مطابق ملزمان نے باغ ابنِ قاسم سے متصل رفاہی پلاٹ پر بحریہ ٹاؤن نے آئیکون ٹاور تعمیر کیا ہے، جسے غیر قانونی طور پر الاٹ کر کے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
واضح رہے کہ یہ بلند و بالا عمارت کراچی میں بحیرہ عرب کے ساحل کے نزدیک واقع ہے جس کی 62 منزلیں ہیں جس میں سے 40 منزلیں مختلف استعمال کی ہیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت کے رجسٹرار کے پاس ریفرنس دائر کیا تھا اور اسکروٹنی کے بعد رجسٹرار آفس نے مذکورہ ریفرنس احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد بشیر کو بھجوایا تھا۔ معمول کے طریقہ کار کے مطابق، ابتدائی کارروائی میں عدالت تمام ملزمان کا ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرتی ہے اور اگلے مرحلے میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے اور پھر باضابطہ ٹرائل شروع ہوتا ہے۔
دوسری طرف بحریہ ٹاؤن کی قانونی ٹیم کے سینئر وکیل کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنس ملک ریاض کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، پراپرٹی ٹائیکون درخواست ضمانت دائر کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف ثبوت کمزور ہیں۔ سینئر وکیل نے کہا کہ حال ہی میں قومی احتساب میں ترمیم سے متعلق نافذ کیے گیے صدارتی آرڈیننس سے بھی ملک ریاض کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ وکیل کے مطابق ملک ریاض پلی بارگین کے تحت بری بھی ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پلی بارگین کے تحت نیب کو متفقہ رقم ادا کرنے کے بعد ملزم رہا ہوسکتا ہے۔ تاہم اس معاہدے کے تحت ملزم سرکاری عہدہ نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ پلی بارگین سے سزا معاف نہیں ہوتی۔
وکیل نے کہا کہ ملک ریاض انتخابات میں حصہ لینے یا سرکاری عہدہ رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو پلی بارگین سے ان کے کاروباری منصوبوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس جون میں سندھ ورکس اینڈ سروسز کے سابق سیکریٹری سجاد عباسی کو آئیکون ٹاور کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا جو بعد میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔
عدالت میں دئیے گئے بیان میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جب ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو تعینات تھے اس وقت انہوں نے یہ رفاہی پلاٹ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا کو فروخت کیا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر ڈشنا انکل سریا نے یہ پلاٹ ملک ریاض کو فروخت کیا جنہوں نے اس پر بحریہ آئیکون ٹاور کی تعمیر کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button