مہاجر پرندوں کی نسل کشی سے انسان کیسے تباہ ہو جائیں گے؟

پرندوں کی لگ بھگ دس ہزار اقسام میں سے بیس فیصد یعنی دو ہزار اقسام ہر سال سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی جانب اور پھر واپس ہجرت کرتے ہیں مگر انسان کی دائمی بھوک، پرندے قید کرنے کے شوق یا انہیں پکڑ کے فروخت کرنے کے لالچ کے ہاتھوں کئی ہجرتی پرندوں کی نسلیں ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں حالانکہ یہ محض مہاجر پرندے نہیں بلکہ انسانی بقا کی زنجیر کی بنیادی کڑیاں ہیں۔ سینئر صحافی وسعت الله خان اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ ہماری تہذیب میں مہمانوں کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کے آرام و قیام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔مگر یہ کلیہ مہمان پرندوں پر شاید ہی لاگو ہوتا ہو جو ہر برس اپنے مخصوص موسموں میں شمالاً جنوباً خوراک کی تلاش یا افزائش نسل کے فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں۔
راستے میں جگہ جگہ آرام اور خوراک کے لیے قیام کرتے ہیں اور ہم ان کا استقبال گولیوں اور طرح طرح کی رکاوٹوں سے کرتے ہیں۔

کونجوں کی ڈار ہماری لوک داستانوں اور شاعری میں محبت و خوش بختی کی علامت ہے۔ منڈیر پر بیٹھا کوا مہمانوں کی آمد کا نقیب سمجھا جاتا ہے۔مگر تلور، مرغابی ، بگلے ، چڑیوں سمیت ایسے کسی پنچھی کو مہمان نہیں سمجھا جاتا جو حلال پرندوں کی فہرست میں شامل ہو۔

حالانکہ ہجرتی پرندوں اور جانوروں کے تحفظ و بہبود کے عالمی کنونشن کے تحت ہر برس لاکھوں کی تعداد میں موسمی ہجرت کرنے والے جان داروں کے تحفظ و دیکھ بھال کی ذمے داری ان تمام ریاستوں پر قانوناً عائد ہوتی ہے جنھوں نے اس کنونشن پر دستخط کیے ہیں یا جن ریاستوں کی حدود سے یہ پرندے گذرتے یا ٹھہرتے ہیں۔

ہر سال سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی جانب اور پھر واپس ہجرت کرنے والے پرندوں کی تین بڑی پروازی راہداریاں ہیں۔جو افریقہ ، یورپ ،ایشیا آسٹریلیا اور امریکہ کے براعظموں سے گزرتی ہیں عام طور پر یہ پرندے غول کی شکل میں سفر کرتے ہیں اور کھلے سمندر پر پرواز کرنے کے بجائے ساحل کے ساتھ ساتھ یا پھر ایسی جگہ سے سمندر پار کرتے ہیں جو آبنائے کی صورت ہو۔

ان ہجرتی پرندوں میں بری، بحری اور شکاری سب ہی طرح کے پرندے شامل ہیں۔ضروری نہیں کہ تمام پرندے ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے ہی کریں۔کئی اقسام موسم کی شدت سے بچنے یا افزائشِ نسل یا آب و دانہ کی تلاش کے لیے سیکڑوں میل کی آمد و رفت پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔

کئی پرندے ایسے بھی ہیں جو کرہِ شمالی سے کرہ جنوبی تک ( سفر بھی کرتے ہیں یہ اس لیے ممکن ہے کہ پرواز سے قبل ان کا آدھا وزن چربی پر مشتمل ہوتا ہے جو انھیں پورے راستے توانائی فراہم کرتا ہے اور جب وہ منزل پر اترتے ہیں تب تک چربی پگھلنے کے سبب ان کا وزن نصف رہ جاتا ہے

مگر ہمیں ان پرندوں کی سالانہ ہجرت کا کیا فائدہ ہے؟ وہ راستے میں جہاں جہاں قیام کرتے ہیں فصلوں کے لیے مضرِ صحت کیڑوں کو چٹ کر جاتے ہیں۔

درحقیقت یہ پرندے پورے راستے میں نباتاتی پھول ، بیج اور زمین کے صحت بخش زرخیز اجزا پھیلاتے اور گراتے چلے جاتے ہیں اور یوں پولی نیشن کے عمل سے جنگلی حیات کو حیاتِ نو بخشنے کا بنیادی وسیلہ بنتے ہیں۔

ترقی کے نام پر بے لگام انسانی سرگرمیاں، اونچی عمارات، بجلی کی تاریں، پلاسٹک زدہ آلودگی، موسمی تسلسل میں اچانک بدلاؤ، شکار، قید، راستے میں پڑنے والے آبی ذخائر کا خشک ہو جانا، خشک سالی، بے وقت برسات، جنگلاتی آتشزدگی، کییمکل زدہ زمین و نباتات سمیت بیسییوں اسباب ان مہمان پرندوں کی اموات ، زخموں اور راہ بھٹک جانے کا سبب بنتے ہیں۔

لہٰذا واپسی کے سفر میں بہت سے پرندے کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔اسی لیے ان کے قیام و طعام و نسلی افزائش کے لیے وسیع جنگلاتی و بیابانی رقبے ، آبی ذرایع اور نسلی تحفظ کے لیے شکار اور پکڑ پر کڑی پابندی سمیت ملکی و بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ازبس ضروری ہے۔یہ محض ہجرتی پرندے نہیں بلکہ ہماری اپنی بقائی زنجیر کی بنیادی کڑیاں ہیں۔

ان ہجرتی پرندوں کو ان کے تحفظ کے عالمی کنونشن (سی ایم ایس)، بقائی خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی غیرقانونی خرید و فروخت کی روک تھام کے کنونشن (سائٹس)، دلدلی علاقوں کے تحفظ کے کنونشن (رامسر) اور ملکی قوانین کی ڈھال میسر ہے۔مگر اس ڈھال میں بدنیتی اور موشگافیوں کے اتنے چھید ہیں کہ خود یہ قوانین شدید زخمی اور معذور ہیں۔

مثلاً پاکستان میں ہر سال موسم ِ سرما میں وسطی ایشیا اور مغربی چین سے اترنے والے تلور کو نسل کشی سے بچانے کے لیے اس کے شکار پر مکمل پابندی ہے۔پھر بھی عرب شکاریوں کو ہر سال پرمٹ جاری ہو جاتا ہے۔جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تلور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔

اسی طرح سندھ کی جھیلوں پر ہر موسمِ سرما میں سائبیریائی پرندوں کا جھنڈ اتنی تعداد میں اترتا تھا کہ جھیل ان کے پروں تلے چھپ جاتی تھی۔ جب سے جھیلیں آلودہ پانی ا ور فضلے سے زہریلی ہو گئی ہیں۔مہمان پرندے اپنی ان سابقہ آرام گاہوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے سرحد پار راجھستان اور گجرات میں اتر جاتے ہیں۔

Back to top button