مہوش حیات کی عالمی پلیٹ فارم پر بالی وڈ انڈسٹری پر تنقید

اداکارہ مہوش حیات ان دنوں ہالی وڈ اور بالی وڈ میں پاکستان کو غلط انداز میں پیش کیے جانے پر عالمی سطح پر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحت اور تعلیم پر بھی کام کررہی ہیں۔
I was honoured to address distinguished guests in Oslo & talk abt film & peace.Also spoke abt how films frm Hollywood & our neighbours hv vilified Pakistan to a point that even I don't recognise the country that they show.Y is nobdy showing the sacrifices we hv made war on terror pic.twitter.com/hA6V1Q5m0q
— Mehwish Hayat TI (@MehwishHayat) August 11, 2019
اس حوالے سے اداکارہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بالی وڈ میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں، بالی وڈ ہالی وڈ پر تنقید اور اپنی آنے والی فلموں پر بات کی۔مہوش حیات نے رواں سال اوسلو میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلموں میں پاکستان کو متنازع انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے انٹرویو میں مہوش حیات سے سوال ہوا کہ اگر ان کے اس بیان سے کوئی ایسا شخص ناراض ہوجائے جو مستقبل میں انہیں کوئی اچھی آفر کرنے والا ہو تو اس پر وہ کیا کہیں گی؟مہوش حیات کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘اگر میرے سچ بولنے سے وہ مجھے کاسٹ نہیں کریں گے تو میرا پہلا انتخاب سچ بولنا ہی ہوگا، نہ کہ وہ مجھے کاسٹ کریں’۔
مہوش حیات نے بالی وڈ میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ بھارت میں کیے گئے سلوک کے حوالے سے بتایا کہ ہمارے اداکاروں نے ان کی فلموں میں زبردست کام کیا، لیکن انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے نہ تو ہمارے اداکاروں کو ویزا دیے، نہ فلموں کی پروموشنز کا حصہ بنایا، بس اپنا کام نکالا اور ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا، لیکن میرے لیے میری عزت نفس سب سے اہم ہے، ایمانداری سے بات کروں تو ہمیں بالی وڈ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بالی وڈ کو ہماری ضرورت ہے، ان کی انڈسٹری بہت بڑی ہے اور ہمیں اپنی انڈسٹری کے لیے کام کرنا چاہیے’۔
یاد رہے کہ پاکستان کے دو کامیاب اداکاروں فواد خان اور ماہرہ خان نے بالی وڈ کی کامیاب فلموں میں کام کیا، البتہ پاک بھارت تنازع کے دوران فواد کی بالی وڈ فلم ‘اے دل ہے مشکل’ اور ماہرہ کی ڈیبیو بالی وڈ فلم ‘رئیس’ بھی مشکل میں پڑ گئی تھی۔
یہ دونوں فلمیں ہٹ تو ہوئیں البتہ فواد خان اور ماہرہ خان ان فلموں کی تشہیر نہیں کرسکیں۔
مہوش حیات اداکاری کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
اداکارہ پینی اپیل نامی فلاحی تنظیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں بچوں کی تعلیم پر کام کررہی ہیں۔
اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘ایسے وقت میں صرف اداکار یا اداکارہ ہونا کافی نہیں، اپنی آواز ان مسائل کے لیے اٹھائیں جو ضروری ہیں، چاہے پھر وہ سماجی ہو یا سیاسی، اداکار مل کر امن کی بات کریں تو دو ممالک کو باآسانی قریب لاسکتے ہیں، ایک فنکار کو امن کے لیے کام کرنا چاہیے’۔
مہوش حیات نے اپنے کیریئر میں ماڈلنگ، ڈرامے، فلمیں، گلوکاری ہر طرح کا کام کیا ہے، تو اگر انہیں موقع ملتا تو وہ اپنے ماضی سے کچھ بدلنا چاہیں گی؟
اس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ‘کچھ بھی نہیں، میں نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے میں آج یہاں بیٹھی ہوں، مجھے لگتا ہے کہ سب کچھ صحیح کیا ہے، مجھے کوئی افسوس نہیں’۔
مہوش حیات کو رواں سال پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنی کارکردگی پر تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔
اس موقع پر سوشل میڈیا پر اداکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، جبکہ کئی افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ مہوش حیات آئٹم سانگز پر ڈانس کرتی ہیں جس کے باعث انہیں تمغہ امتیاز نہیں دینا چاہیے تھا۔
اس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ ‘جو آج کا دور ہے، اسے دیکھتے ہوئے لوگوں کو اپنی سوچ کو آگے بڑھانا چاہیے، سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد کے سائز سے زیادہ اہم ذہن کا سائز ہے، یعنی آپ کی سوچ بڑی ہونی چاہیے، اس میں اتنی جگہ ہونی چاہیے، کہ میرا بلی اور تمغہ امتیاز دونوں فٹ آسکیں’۔
مہوش حیات نے یہ بھی بتایا کہ وہ بےنظیر بھٹو کی زندگی پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار نبھانے جارہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی اس فلم کا اسکرپٹ تحریر کیا جارہا ہے اور یہ کافی مشکل فلم ہوگی، لیکن وہ بےحد پرجوش ہیں۔
مہوش حیات نے یہ بھی بتایا کہ وہ فلموں کے علاوہ مستقبل میں ایک ڈراما سائن کرنے جارہی ہیں۔
https://youtu.be/kkweRSdM0-4
