میلوں اور شادیوں کی رونق ڈھول کس طرح تیار ہوتا ہے؟

سر اور ساز سے انسان کا رشتہ صدیوں پرانا ہے، یہی سر کبھی خوشیاں بکھیرتے ہیں تو کبھی انہیں سن کر ہم رقص کی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جب انسان نے کرہء ارض پر جنم لیا، تو اس کا رشتہ نہ صرف خود سے بلکہ اس کے آس پاس موجود پرندوں، جانوروں اور دیگر قدرتی چیزوں سے جڑ گیا۔ کہیں اسے پرندوں کے چہچہانے میں خوشگوار گیت سنائی دیے، تو کبھی آبشاروں کے گرنے کو دلفریب موسیقی سے تشبیہ دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا قدیم ترین ساز بانسری آج سے ہزاروں سال قبل بنائی گئی تھی۔ پہلی بانسری کسی جانور کی ہڈی سے بنائی گئی تھی۔ پھر انسان نے پہلی بار ہاتھی کے چمڑے سے ڈھول بنایا اور اس طرح ساز سے انسان کا ایسا رشتہ قائم ہو گیا جوکہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ شاید اس وقت کے انسان نے بھی اپنی تنہائی کو مٹانے کے لیے ساز ایجاد کیے اور سروں کی ایک نئی دنیا تخلیق کی۔

آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ پاکستان میں سب سے اچھا ڈھول پنجاب کے کس شہر میں تیار کیا جاتا ہے۔ ضلع اوکاڑہ کی سب سے بڑی تحصیل دیپالپور سے نکل کر دریائے ستلج پر ہیڈ سلیمانکی کا رخ کریں تو راستے میں ذہین اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تخلیقی لوگوں کا شہر حویلی لکھا آتا ہے۔ یہاں کے باسی اعلیٰ معیار کا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ حقہ سازی اور موھڑوں کی تیاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ حویلی لکھا سے ہیڈ سلیمانکی روڈ پر تھوڑا آگے بڑھیں تو تقریباً پانچ کلومیٹر کی دوری پر بلوچی سٹاپ کے قریب ایک چھوٹی سی دکان کے باہر مختلف سائزوں کے ڈھول پڑے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ وہی دکان ہے جہاں کے بنے ڈھولوں کی تھاپ پر پنجاب بھر کے نوجوان، بچے اور بوڑھے شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر موقعوں پر دیوانہ وار رقص کرتے ہیں۔لیکن اس دکان میں گذشتہ تین دہائیوں سے ڈھول بنانے والے لیاقت علی کے نام سے ڈھولیوں کے سوا شاید کوئی بھی واقف نہیں۔

ڈھول بنانے کے لیے سب سے پہلے شیشم کی لکڑی کواندر سے کھوکھلا کیا جاتا ہے۔لمبی داڑھی اور درمیانے قد کے مالک لیاقت علی نے بتایا کہ انہیں یہ کام وراثت میں ملا ہے لیکن انتہائی محنت طلب ہونے کے باوجود اب اس میں زیادہ کشش باقی نہیں رہی۔10 برس کی عمر سے اپنے والد محمد اجمل کے ساتھ ڈھول بنا کر گھر والوں کا پیٹ پالنے والے لیاقت علی کے مطابق اب ان کا کام پہلے جیسا نہیں رہا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ڈھول بنانے کے لیے شیشم کی لکڑی استعمال ہوتی ہے مگر درختوں کی بیماری کے باعث پنجاب میں اب شیشم ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اب لیاقت اور ان جیسے ڈھول بنانے والے دیگر ہنرمندوں کو مطلوبہ لکڑی حاصل کرنے کے لیے پورا پنجاب گھومنا پڑتا ہے۔

اردو نیوز ذ کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈھول بنانے کے لیے موٹے سائز کی لکڑی کا ایک ٹکڑا 14 سے 15 ہزار روپے میں آتا ہے۔ اس کے بعد اسے تراشنے اور ڈھول بنانے میں کئی روز کی محنت اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ ڈھول کی تیاری کے لیے سب سے پہلے مشین پر لکڑی کا ٹکڑا کاٹنے کے بعد اسے کلہاڑے کے ساتھ گول کیا جاتا ہے۔ پھر سوراخ کرنے والے اوزار ورمے اور آری کے ساتھ لکڑی کا اندر والا حصہ خالی کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گول کی ہوئی لکڑی کو خراد کی مشین پر لگا کر اس کی اندر اور باہر سے صفائی کی جاتی ہے تاکہ اس کی آواز زیادہ سے زیادہ نکلے۔ جب لکڑی اچھی طرح گول ہو جاتی ہے تو اسے پالش کرکے سوکھنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ لکڑی کو ڈھول کی شکل دینے کے لیے خراد پر چڑھایا جاتا ہے۔

ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد ڈھول کا وزن اور سائز چیک کیا جاتا ہے اور اگر وزن زیادہ ہو تو خراد کی مشین پر اسے مزید تراشا جاتا ہے۔لیاقت بتاتے ہیں کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں مختلف سائزوں کے ڈھول استعمال ہوتے ہیں۔ ’اوکاڑہ میں اڑھائی فٹ کا ڈھول تیار ہوتا ہے جس کا وزن عموماً آٹھ کلو ہوتا ہے جبکہ لاہوری، فیصل آبادی، ملتانی اور گجراتی ڈھولوں کی شکل، سائز اور وزن الگ الگ ہوتے ہیں۔‘ گول کیے گئے ڈھول کی لکڑی سوکھنے کے بعد آخر میں اس پر چمڑا چڑھاتے ہوئے اس کی آواز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈھول کے لیے استعمال ہونے والا چمڑا بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

اس کے لیے بکرے کی کھال استعمال ہوتی ہے اور بکرا بھی ایسا جس کی عمر 10 ماہ سے زیادہ نہ ہو۔ ڈھول کی شکل میں ڈھالنے کے بعد انہیں پالش کیا جاتا ہے۔ لیاقت کا کہنا ہے کہ چھوٹے بکرے کی کھال چونکہ باریک ہوتی ہے اس لیے یہ زیادہ آواز نکالتی ہے، اگر بڑے بکرے کی کھال استعمال کریں گے تو ڈھول صحیح سے آواز نہیں دے گا۔

لیاقت کے مطابق ایک ڈھول کی تیاری کے لیے بیک وقت دو مزدور کام کرتے ہیں، اس کے باوجود یہ کم از کم چھ سے سات دن میں مکمل ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’ہم ایک ڈھول 22 سے 25 ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں، اس طرح ہفتہ بھر کام کرنے کے بعد دو کاریگروں کے حصے میں آٹھ سے 10 ہزار روپے مزدوری آتی ہے جو کہ اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے۔‘ لیکن محنت زیادہ اور مزدوی کم ہونے کی وجہ سے کاریگر اس کام کو چھوڑ رہے ہیں۔

لیاقت علی کہتے ہیں کہ شیشیم کی لکڑی سے بنا ڈھول سو سال تک بھی کارآمد رہ سکتا ہے لیکن نیم کی لکڑی کا ڈھول چند سال نکالنے کے بعد ناکارہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے سے زیادہ تر ڈھولچی بکرے کی کھال کی بجائے ایکسرے شیٹ کا استعمال بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ اس پر محنت نہیں ہوتی اور یہ سستی بھی مل جاتی ہے۔ ایکسرے شیٹ 120 جبکہ بکرے کی کھال کھال 250 روپے میں ملتی ہے، کھال کو سُکھانے اور اس کے اوپر سے بال اُکھاڑنے میں تین سے چار دن لگتے ہیں مگر ایکسرے شیٹ میں یہ سب نہیں کرنا پڑتا اس لیے لوگ کھال کا استعمال کم کرتے جا رہے ہیں۔‘ لیکن لیاقت علی کہتے ہیں کہ کھال اور ایکسرے شیٹ کی آواز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ڈھول کی بہتر تھاپ کے لیے اس لیے بکرے کی کھال سے بنا ڈھول ہیں نمبر ون قرار دیا جاتا ہے۔ لیاقت کہتے ہیں کہ پنجاب میں ڈھول سازی کی صنعت رو بہ زوال ہے۔ محنت زیادہ اور مزدوری کم ہونے کی وجہ سے کاریگر اس کام کو چھوڑ رہے ہیں۔ حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی ڈھول بجانے کی ثقافت اورڈھول سازی سے وابستہ ہنر مندوں کی ترویج کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، لیکن وہ پھر بھی اپنے شوق اور فن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ لیاقت کا کہنا ہے کہ مجھے ساری زندگی ہو گئی یہ کام کرتے ہوئے، اب میں اس فن کو چھوڑ کر کچھ اور کروں بھی تو کیا کروں؟‘

Back to top button