مینار پاکستان والی ٹک ٹاکر عائشہ نے یوٹرن مار لیا

https://youtu.be/Utz5mfz848E

مینار پاکستان پر ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے ہجوم کے ہاتھوں ہراسانی کا نشانہ بننے والی لڑکی عائشہ اکرم نے اب یوٹرن مارتے ہوئے واقعے کی ساری ذمہ داری اپنے ساتھی ریمبو پرعائد کر دی ہے اور یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ اسکی نازیبا ویڈیوز بنا کر اسے بلیک میل کر رہا ہے اور اس سے لاکھوں روپے بٹور چکا ہے۔
اس حوالے سے عائشہ اکرم نے لاہور پولیس کو تحریری بیان جمع کروا دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے کئی انٹرویوز میں عائشہ اکرم نے ریمبو کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مینار پاکستان پر ہجوم کے ہاتھوں اسکی جان بچانے کا کریڈٹ ریمبو کو جاتا ہے۔
اب پولیس کو جمع کروائے گئے اپنے تحریری بیان میں میں عائشہ نے کہا ہے کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ ریمبو نے ہی بنایا تھا اور اسی کی وجہ سے سارا واقعہ رونما ہوا۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری کچھ نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں جن کی بنا پر وہ اسے بلیک میل کرتا رہا ہے اور اب تک اس سے 10 لاکھ روپے ہتھیا چکا ہے۔ اس نے دعوی کیا کہ وہ ہر مہینے اپنی تنخواہ میں سے آدھی رقم بھی ریمبو کو دیتی تھی۔ عائشہ کے بیان کے مطابق ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ایک ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے۔ تاہم لاہور پولیس نے تاحال اس بیان پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
قبل ازیں ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنایا تھا۔ لاہور کی سیشن کورٹ نے گریٹراقبال پارک واقعہ میں عائشہ اکرم اور اس کے ساتھی ریمبو کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست عدم پیروی پر خارج کردی۔ اندراج مقدمہ کی درخواست میاں توصیف احمد کی جانب سے دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاکر خاتون اور اس کا ساتھی پلان کیساتھ مینار پاکستان گئے اور وہاں غیر اخلاقی حرکات کیں لہذا ان کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے، تاہم درخواست گزار نے اپنی درخواست کی پیروی ہی نہیں کی۔ دوسری جانب مقامی عدالت نے ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم کو ہراساں کرنے کے الزام گرفتار چھ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کر دی۔ لاہور کی مقامی عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ نے ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔پولیس نے ملزمان ارسلان ، افتخار اور مہران ، شہریار ، عابد اور ساجد کو پیش کیا اور مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش اور برآمدگی کے لیے مزید ریمانڈ دیا جائے۔ملزمان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ پولیس نے کوئی ریکوری نہیں کرنی، ملزمان پہلے ہی پچیس روز حراست میں گزار چکے ہیں لہٰذاجسمانی ریمانڈ میں توسیع نہ کی جائے۔

Back to top button