امریکہ پاکستان تعلقات میں بہتری کی امید کیوں دم توڑ گئی؟

امریکی نائب سیکرٹری خارجہ وینڈی شرمن کے دورہ اسلام آباد سے پاک امریکا تعلقات میں بہتری آنے کی امیدیں تب دم توڑ گئیں جب موصوفہ نے یہ بیان داغ ڈالا کہ انکا دورہ پاکستان بہت مخصوص اور محدود مقصد کے لیے ہے اور واشنگٹن فی الوقت پاکستان سے وسیع البنیاد تعلقات کا متمنی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نظر نہیں آ تا کہ ہم فی الوقت پاکستان سے وسیع البنیاد تعلقات قائم کریں، اور نہ ہی ہمیں کوئی دلچسپی ہے کہ ہم انڈیا اور پاکستان کو ایک ساتھ ملا کر دیکھیں۔ ہم ابھی نہ اس مقام پر ہیں، اور نہ ہی ہم اس طرف جا رہے ہیں۔
سفارتی تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینڈی شرمن کی جانب سے دورہ پاکستان کے مقاصد کو اتنے سخت لہجے میں بیان کرنا سوچا سمجھا فیصلہ لگتا ہے۔ پاکستانی حکام کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی نائب سیکرٹری خارجہ نے یہ باتیں پاکستان پہنچنے سے پہلے دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک کے بگڑتے ہوئے تعلقات میں بہتری لانے کی پاکستانی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے دو روزہ دورے پر آنے والی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ’امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد اور پائیدار تعلقات‘ کے قیام کا خواہاں ہے، تاہم وینڈی شرمن کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ پاکستان کے ساتھ وسیع شراکت داری کا متمنی نہیں۔ وینڈی شرمن نے اپنے وفد کے ہمراہ وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، افغانستان اور علاقائی امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے افغانستان میں تصفیے کے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ کے نقطہ نظر میں ہم آہنگی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ اور منظم ڈائیلاگ کا عمل ہمارے دوطرفہ مفاد کے ساتھ ساتھ مشترکہ علاقائی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔
توقع ہے کہ امریکی نائب سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن پاکستان کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت سے بھی ملاقات کریں گی لیکن اس بارے میں بوجوہ سکیورٹی باضابطہ کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس سے۔پہلے ممبئی میں ہونے والی ایک تقریب سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ پاکستان چند مخصوص وجوہات کی بنا پر ہے اور وہ پاکستانی حکومت سے ان معاملات پر گفتگو کریں گی۔ دورہ پاکستان کے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں وینڈی شرمن کا کہنا تھا کہ سب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں اس وقت کیا ہو رہا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ تمام فریقین افغانستان کے معاملے پر ایک ذہن کے ساتھ چلیں۔ ‘ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ ہم تمام فریقین کی سکیورٹی کو یقینی بنا سکیں، بشمول انڈیا اور امریکہ۔ تو میں پاکستان جا کر مخصوص نوعیت کی گفتگو کروں گی۔‘ طالبان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وینڈی شرمن کا کہنا تھا کہ طالبان نے جن باتوں کا عہد کیا تھا وہ اس پر پورے نہیں اُترے ہیں۔ ’گذشتہ چند ہفتوں میں ہم میں سے کسی نے طالبان کی باتوں پر یقین نہیں کیا تھا، اور نہ ہی ہم ایسا کریں گے۔ ابھی تک انھوں نے جن جن باتوں کے وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں کیے۔‘
وینڈی شرمن کے دورہ پاکستان اور انڈیا میں دیے گئے بیان کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق سفیر آصف درانی نے کہا کہ اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اس وقت سردمہری کا شکار ہیں۔ ’اس بیان سے امریکی جھنجھلاہٹ واضح ہے۔ امریکہ کو اس خطے میں شکست ہو چکی ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں نے ان کو اڈے دینے سے انکار کر دیا ہے اور پاکستان ہی ان کے پاس ایک راستہ تھا افغانستان کے لیے، اور میرا خیال ہے کہ انھیں یہاں پر مکمل شکست ہو چکی ہے۔‘ مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکانات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ اب امریکہ کے رویے پر منحصر ہے۔ ’دیکھنا یہ ہو گا کہ امریکہ اس خطے کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتا ہے۔ اگر ان کا مقصد چین کو انڈیا کی مدد سے شکست دینا ہے تو اس صورت میں پاکستان ان کا اتحادی نہیں رہے گا۔‘
اسی حوالے سے جب صحافی اور تجزیہ نگار سرل المیڈا سے سوال کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کا اختلاف جاری رہے گا اور ممکن ہے کہ پاکستان کے لیے حالات مزید سخت ہو جائیں۔ سرل المیڈا کا کہنا تھا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کے حوالے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ آیا جان کر سخت بیان دے رہے ہیں یا نہیں، ’لیکن وینڈی شرمن کی جانب سے دورہ پاکستان کے مقاصد کو اتنے سخت لہجے میں بیان کرنا ایک سوچا سمجھا فیصلہ لگتا ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ اگر پاکستانی نقطہ نظر سے دیکھیں تو انتہائی پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستانی ریاست، چاہے وہ عسکری حکام ہوں یا سویلین حکام، دونوں کے پاس پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے کے لیے حکمت عملی کا شدید فقدان نظر آ رہا ہے۔
