میں شادی کے خلاف نہیں تھی مگر کچھ تحفظات تھے

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ وہ شادی کے خلاف نہیں تھیں لیکن اس حوالے سے ان کے کچھ تحفظات ضرور تھے جو عصر ملک کو ملنے کے بعد دور ہو گئے اور انہوں نے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل جب ملالہ نے عصر ملک سے اپنے نکاح کی خبر ٹوئٹر پر پوسٹ کی تو جیسے ایک ہنگامہ ہی برپا ہو گیا اور کچھ صارفین نے انہیں اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ انہوں نے تو شادی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تنقید کا بنیادی پہلوان کا برطانوی فیشن میگزین ووگ کو جون 2021 میں دیے جانے والا انٹرویو تھا جس میں انھوں نے اپنی شادی سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کرنے ہیں۔‘ انکے اسی انٹرویو کے پس منظر میں پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ان پر تنقید کی اور ان کے پرانے بیان اور پھر شادی کی خبر کا موازنہ کرتے نظر آئے۔
تاہم بظاہر اسی نوعیت کی شدید تنقید کا جواب دینے کے لیے ملالہ نے ایک مرتبہ پھر برطانوی فیشن میگزین ووگ کا انتخاب کیا اور شادی کے حوالے سے ایک تفصیلی آرٹیکل اسی میگزین میں لکھ دیا ہے۔ اس آرٹیکل میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ عصر سے کیسے ملیں اور ان کی شادی کا جوڑا اور جیولری کہاں سے آئی۔ ان کے اس آرٹیکل کے بعد ان کے بہت سے ناقدین کی تسلی ضرور ہوئی ہو گی۔
ملالہ کا یہ مضمون شائع ہونے کے بعد صارف آمنہ لودھی نے لکھا کہ ’یہ لو ظالمو۔۔ ملالہ نے ووگ پر آرٹیکل ہی لکھ دیا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر آخر میں ہم وہی کر رہے ہوتے ہیں جس کی ہم نفی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہی زندگی ہے۔ جیو اور جینے دو۔‘ ماریہ نامی صارف نے لکھا کہ ’آپ میں بہت سے لوگ ملالہ کے شادی کے بارے میں اُن کے ماضی کے تبصرے کی بنیاد پر ملالہ کی جان کو اس حد تک آ گئے تھے کہ انھیں وضاحت دینے کے لیے ووگ میں ایک پورا مضمون لکھنا پڑا کہ انھوں نے شادی کیوں کی۔‘
ملالہ نے ووگ میں لکھے گئے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ انکے پچھلے انٹرویو کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ شادی کے خلاف تھیں لیکن رشتہ ازدواج سے متعلق ان کو چند تحفظات ضرور تھے۔ ان تحفظات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’شادی کے بعد خواتین سے سمجھوتہ کرنے کی توقع، دنیا کے مختلف حصوں میں عورت مخالف رویے، قوانین پر ثقافت کے گہرے اثرات اور پدرانہ جڑیں مجھے معاشرے میں اس رشتے کے موجودہ رواج پر سوال اٹھانے پر مجبور کرتے تھے۔‘وہ لکھتی ہیں کہ ’اس خوف سے کہ کہیں میں اس رشتے میں بندھ کر اپنی آزادی، انسانیت اور نسوانیت نہ کھو دوں مجھے یہی درست لگا کہ شادی کے جھنجھٹ سے فی الحال آزاد رہا جائے۔‘ اور یہ تحفظات اور خدشات بلاوجہ نہیں تھے کیونکہ ملالہ نے لکھا ’گرلز ناٹ برائیڈز‘ کے مطابق ہر سال اٹھارہ سال سے کم عمر ایک کروڑ بیس لاکھ لڑکیاں رشتہ ازدواج میں منسلک کر دی جاتی ہیں لیکن ایسی لڑکیوں کی اکثریت کے لیے یہ ایک پارٹنر شپ نہیں بلکہ غلامی ہوتی ہے۔
ملالہ نے ووگ میں مزید لکھا کہ ’پاکستان کے جس علاقے میں میری پرورش ہوئی وہاں لڑکیوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ شادی ایک آزاد زندگی کا متبادل ہے۔ اگر آپ پڑھائی نہیں کر رہے، یا اپنا کیریئر نہیں بنا رہے یا امتحانات میں فیل ہو رہے ہیں تو ان تمام مسائل کا حل یہی بتایا جاتا تھا کہ جلدی سے لڑکی کی شادی کر دی جائے۔‘ اس کے بعد ملالہ نے پاکستان میں اپنی زندگی سے کچھ مثالیں پیش کیں کہ کیسے ان کے ساتھ سکول جانے والی نوعمر لڑکیوں کی شادیاں کر دی گئیں جس کے باعث ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔
’ایسی بچیوں کے لیے شادی کا مطلب یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں شادی کے سوا کچھ نہیں کر پائیں۔ ان کی عمر سکول جانے کی ہے لیکن وہ جانتی ہیں کہ اب انھیں اپنے خوابوں کو حقیقیت کا روپ دینے کا موقع کبھی نہیں ملے گا۔‘
ملالہ نے وضاحت کی کہ اسی لیے جب برطانوی فیشن میگزین ووگ کے انٹرویو کے دوران ان سے شادی کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے وہی جواب دیا جو وہ اس سے پہلے دیتی آئی تھیں کیونکہ ان کے مطابق اس وقت انھیں ایسا لگتا تھا کہ شاید شادی کا رشتہ ان کے لیے لیے نہیں۔ انھوں نے مزید لکھا ’لیکن تعلیم اور آگہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بااختیار ہو کر ہم اپنے رشتوں اور خصوصاً رشتہ ازدواج کو نئے معنی دے سکتے ہیں۔ تہذیب اور ثقافت کو بنانے والے انسان ہی ہوتے ہیں اور وہ چاہیں تو انھیں تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں جب میری اپنے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ ساتھ میرے نئے ساتھی عصر سے گفتگو ہوئی تو مجھے آہستہ آہستہ یہ احساس ہوا کہ شادی کے رشتے میں رہتے ہوئے بھی میں انصاف اور مساوات کی بنیادی اقدار کا تحفظ کر سکتی ہوں۔‘
ملالہ نے بتایا کہ اُن کی اور عصر کی پہلی ملاقات 2018 میں تب ہوئی جب عصر اپنے دوستوں سے ملنے آکسفورڈ آئے ہوئے تھے ’کیونکہ عصر کا تعلق کرکٹ سے تھا اس لیے ان سے گفتگو کے لیے بہت سی باتیں تھیں۔‘ ملالہ کے مطابق عصر کو ان کی حسِ مزاح بہت ب ھائی اور ان دونوں کی دوستی ہو گئی۔
’ہم میں بہت سی قدریں مشترک تھیں اور ہم ایک دوسرے کی کمپنی سے محظوظ ہوتے تھے۔ ہم نے خوشی اور مایوسی کے بہت سے لمحات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ اپنی اپنی زندگیوں کے اتار چڑھاو میں ہم نے آپس میں بہت سے دکھ سکھ بانٹے۔‘ انہوں نے لکھا کہ نو نومبر کو ان کا نکاح نہایت سادگی سے ہوا جس میں گنے چنے لوگ ہی شامل تھے۔ نکاح کے لیے جوڑا ان کی امی اور ان کی سہیلی نے لاہور سے تیار کروایا جب کہ زیور عصر کی والدہ اور بہن کی جانب سے دیے گئے تھے۔ ’نکاح سے پہلے میں نے عصر کے ساتھ جا کر اس کے سوٹ کے ساتھ کی پنک ٹائی اور رومال کے ساتھ ساتھ اپنے سینڈل بھی خریدے۔ لیکن اپنے ہاتھوں پر مجھے خود ہی مہندی لگانی پڑی کیونکہ اپنے ارد گرد موجود خاندان اور دوستوں میں سے کسی اور کو یہ کرنا نہیں آتا تھا۔ کھانے کا انتظام میرے والد نے کیا تھا جب کہ فوٹوگرافی اور میک اپ کے لیے میری ٹیم نے بندوبست کیا۔
