کیا آریان خان کی گرفتاری کی وجہ ہندوتوا کا نظریہ تھا؟
معروف بھارتی اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت پر رہائی کے بعد اب بھارت میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اگر آریان مسلمان باپ کے مسلمان بیٹے نہ ہوتے تو کیا ہھر بھی ان کو 26 روز ایک مشکوک منشیات کیس میں زیر حراست رکھا جاتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ کنگ شاہ رخ کے 23 سالہ بیٹے آریان خان کیخلاف منشیات کیس میں ہندتوا نظریات غالب نظر آتے ہیں کیونکہ بغیر کسی ثبوت کے اور منشیات کی عدم برآمدگی کے بھارتی قانون میں ایسے گرفتاری اور اتنی لمبی قید ممکن نہیں تھی؟ یاد رہے کہ نہ تو پولیس کے پاس ایسی کوئی ویڈیو تھی جس میں آریان کو منشیات استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہو اور نہ ان سے کوئی منشیات برآمد ہوئیں لہذا کہا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی شاہ رخ خان کو مسلمان ہونے کی سزا دینے اور ہندتووا نظریات کو غالب لانے کے لیے کی گئی؟
شاہ رخ کے بیٹے کی گرفتاری پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ منشیات کے استعمال کا مقدمہ جان بوجھ کر بنایا گیا اور یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا۔ ناقدین کی رائے میں آریان کی گرفتاری دراصل مودی حکومت کی جانب سے بھارتی فلم انڈسٹری میں ہندتوا نظریات کی مخالفت ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ آریان کے تجربے کو لبرل سیکولر فلم سازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے منشیات اور مالیات سے متعلق سرکاری اداروں کا استعمال کیا جا رہا یے اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع یے۔
یاد رہے کہ معروف بھارتی اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے اریان خان کو ایک مشکوک منشیات کیس میں گرفتار کیے جانے کے بعد 26 روز تک حراست رکھا گیا اور اس دوران ان کی ضمانت کروانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ آریان کی درخواست ضمانت دو ذیلی عدالتوں سے منسوخ ہوئی اور پھر بمبئی ہائی کورٹ سے انہیں ضمانت ملی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آریان خان کی گرفتاری نے بھارت کا دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت ہونے کا دعوی بے نقاب کردیا ہے۔ آریان خان کی ضمانت تو ہو گئی ہے لیکن شاہ رخ اور ان کے فیملی ممبرز کو اس بات کا اندازہ باخوبی ہو گیا ہوگا کہ ایک عام بھارتی کے لیے انصاف کا حصول کس قدر مشکل اور پچیدہ ہوگا ہے خصوصا جب وہ ایک مسلمان ہو۔
