کیا حکومت نیب قوانین میں ترامیم منظور کروا پائے گی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے 11 نومبر کو بلوایا جانے والا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد نیب قوانین میں ترامیم بارے قانون سازی کا معاملہ لٹک گیا ہے خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید حکومت کو ان ترامیم سے پیچھے ہٹنا پر جائے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چونکہ نیب قوانین میں ترامیم کا مقصد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنا ہے لہٰذا ایسا انتہائی مشکل نظر آتا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی میں کامیاب ہو پائے خصوصا جب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ اس معاملے پر ایک مرتبہ پھر اکٹھی ہو چکی ہیں۔
وفاقی حکومت گزشتہ تقریباً ایک مہینے کے دوران قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دو ترامیم متعارف کروا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی نیب قانون میں ایک تبدیلی کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس کی قانونی عمر 120 روز ہوتی ہے، جس کے ختم ہونے پر وہی آرڈیننس ایک مرتبہ دوبارہ لاگو کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے بعد پارلیمان سے منظوری کے بغیر ایسا قانون خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 11 نومبر کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا تھا، جس کے دوران نیب سے متعلق قانون میں کی گئی ترامیم منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان تھا تاہم ترامیم کے حوالے سے حکومتی جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں میں پائے جانے والے تحفظات کے بعد قانون سازی کا معاملہ لٹک گیا ہے۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ چنانچہ 11 نومبر کے اجلاس سے پہلے دو مرتبہ مختلف ایشوز پر ہونے والی ووٹنگ میں اپوزیشن انے حکومت کو شکست دے دی تھی جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ 11 نومبر کے اجلاس میں بھی ایسی ہی صورت حال نہ پیدا ہو جائے، چنانچہ مشترکہ اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔
دوسری جانب اجلاس ملتوی کرنے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق قانون سازی پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اجلاس موخر کیا گیا ہے۔ تاہم حققیت یہ ہے کہ حکومتی اراکین اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کی وجہ سے چاروناچار حکومت کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا ہے۔
نیب قوانین میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے قومی احتساب بیورو کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ ’نیب کے قانون میں کی گئی تینوں ترامیم کا مقصد موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نہ صرف برقرار رکھنا ہے، بلکہ انہیں حکومتی کنٹرول میں رکھنا بھی لانا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ سارا کھیل ہی چیئرمین نیب کے لیے کھیلا جا رہا ہے۔ نیب قانون میں کی گئی حالیہ ترامیم پر مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے نیب قوانین کو تبدیل کرنے کی حکومتی کوششوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی ان ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا۔ نیب قانون میں مذکورہ ترامیم پر تنقید کرنے والوں کے خیال میں ان صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو دوبارہ اس عہدے پر فائز کرنا چاہتی تھی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اس سال نیب قانون میں ترمیم کا ارادہ کیا اور نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت کے ختم ہونے سے ایک روز قبل سات اکتوبر کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب قانون میں 2021 کی پہلی اور مجموعی طور پر دوسری ترمیم کی گئی۔ دوسری ترمیم کے ذریعے چیئرمین نیب کے عہدے پر فائز شخصیت کی مدت ملازمت ختم ہونے پر انہیں دوبارہ اسی عہدے پر تعینات کیے جانے کو ممکن بنا دیا گیا۔ سال 1999 میں بنائے گئے نیب کے قانون کے تحت ادارے کے سربراہ کی مدت ملازمت چار سال تھی، جس میں کوئی توسیع ممکن نہیں تھی۔
ناقدین کے مطابق کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کو تحفظ فراہم کرنے کا مقصد اس عہدے پر فائز شخصیت کو خوف اور لالچ سے آزاد کرنا تھا۔ یعنی بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کے باعث ممکنہ طور پر ملازمت سے ہٹائے جانے کا خوف اور برسر اقتدار سیاسی جماعت یا با اثر افراد کو احتساب کے عمل سے باہر رکھ کر مدت ملازمت میں توسیع حاصل کرنے کا لالچ۔
دوسری ترامیم واضح طور پر چیئرمین نیب کے عہدے پر فائز جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کو ممکن بنانا تھا۔ اس ترمیم کے باعث موجودہ چیئرمین کی مدت کا تعین نہیں ہے، یعنی وہ لامتناہی عرصے تک بھی کام کر سکتے ہیں، جب تک کہ دوسرے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس نیب کے 1999 کے قانون میں چیئرمین کی ملازمت کی مدت کا تعین تھا، جو اس ترمیم میں اڑا دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ڈسی ہوئی ہیں اس لیے وہ کسی بھی ایسی قانون سازی کو۔کامیاب نہیں ہونے دیں گی جس سے موجودہ چیئرمین نیب کے عہدے میں توسیع ہو اور وہ مکمل طور پر حکومت کی مٹھی میں آجائے۔
