نئے ڈی جی ISI نے اپنی میڈیا کوریج پر پابندی کیوں لگوائی؟


لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کے برعکس انٹر سروسز انٹیلی جنس کے نئے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک خفیہ ایجنسی کا سربراہ ہونے کے ناطے اپنی شناخت مخفی رکھیں گے اور میڈیا میں بلاوجہ کی پبلسٹی لینے کی بجائے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھی اپنا چہرہ نظر نہیں آنے دیں گے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کردی گئی ہے کہ کسی بھی سرکاری اجلاس میں لی گئیں اُن کی تصاویر یا ویڈیو فوٹیج کسی صورت میڈیا کو جاری نہ کی جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہونے کے باوجود پبلسٹی کے شوقین تھے اور میڈیا پر آنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ تاہم نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی تمام ایس او پیز فالو کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں اہم ترین اصول یہ ہے کہ خفیہ والے کو خفیہ ہی رہنا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس آئی کے اس فیصلے کے بعد تب دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب سوشل میڈیا پر یہ خبر چلی کہ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر ڈی جی آئی ایس آئی نے 28 دسمبر کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
پھر یہ بحث شروع ہوگئی کہ آیا انہیں اجلاس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی یا وہ خود میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ یاد رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا یہ اجلاس ایک نیشنل سکیورٹی پالیسی ترتیب دینے کے لیے بلایا گیا تھا جس میں ڈی جی آئی ایس آئی کی شرکت لازمی تھی۔ اس اجلاس کی جو فوٹیجز ٹی وی پر چلیں اور جو تصاویر میڈیا کو جاری کی گئی ان میں ڈی جی آئی ایس آئی کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق جو پریس ریلیز جاری کی گئی اس میں بتایا گیا کہ شرکا میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، وزیراطلاعات فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیرخزانہ شوکت ترین، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، مشیر قومی سلامتی، اور سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ تاہم اس میں دی جی آئی ایس آئی ندیم احمد انجم کا نام شامل نہیں تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ اجلاس میں شریک ہوئے تھے لیکن ان کی اپنی ہدایات کی روشنی میں ان کی تصویر اور نام میڈیا پر جاری نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزارت اطلاعات کے ایک سینیئر اہلکار نے تصدیق کی تمام متعلقہ اداروں کو ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اُنکی تصاویر یا ویڈیو فوٹیجز جاری نہ کی جائیں۔  یہی وجہ ہے کہ جب سے ندیم انجم نے عہدہ سنبھالا ہے میڈیا میں اُن کی کوئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔
اس معاملے پر  سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس سروس کا یہ بنیادی اصول ہوتا ہے کہ میڈیا کی نظروں سے دور رہا جائے۔ ماضی میں اس اصول کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہی ہے اور حکومتیں انٹیلی جنس چیفس کی مرضی یا اصرار پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز میڈیا کو جاری کرتی رہی ہیں حالانکہ خفیہ ایجنسی کے اپنے ایس او۔پی کے مطابق بھی انٹیلی جنس سربراہان کو میڈیا اور ٹی وی اسکرینوں پر نہیں دکھایا جانا چاہئے۔ پاکستان کے برعکس دنیا بھر میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان اپنی شناخت مخفی رکھتے ہیں اور لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے۔ تاہم سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق، اس بنیادی اصول کو تب پامال کیا گیا جب افغان جنگ کے دوران جنرل اختر عبدالرحمن، جنرل حمید گل اور جنرل جاوید ناصر آئی ایس آئی کے چیف بنے اور میڈیا پبلسٹی کی طرف راغب ہوئے۔ بعد ازاں احمد شجاع پاشا، ظہیر الاسلام اور فیض حمید بھی اسی راہ پر چل پڑے جس کا سب سے زیادہ نقصان آئی ایس آئی کی ساکھ کو پہنچا۔ تاہم اب لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم اس کا ازالہ کرنے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔ اب کم از کم آئی ایس آئی کا سیاسی کردار آگے بڑھانے والوں کا چہرہ نظر نہیں آئے گا۔
ماضی میں آئی ایس آئی پنجاب سے بطور سیکٹر کمانڈر وابستہ رہنے والے میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا ہے کہ موجودہ آئی ایس آئی چیف میڈیا میں تشہیر نہیں چاہتے۔  انہوں نے بتایا کہ جب ندیم احمد انجم کو لاہور میں آئی ایس آئی کا سیکٹر کمانڈر لگایا گیا تھا تو انہیں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ آپ اسی صورت میں ایک اچھے انٹیلی جنس آپریٹر ثابت ہوں گے جب آپ لاہور بھر میں گھومیں لیکن کوئی آپکو پہچان نہ پائے۔ لہذا انہوں نے تب بھی ایسا ہی کیا تھا اور اب بھی ویسا ہی کر رہے ہیں۔

Back to top button