میڈیا کی آزادی مالکان کا نہیں، صحافیوں کا مسئلہ ہے

معروف اینکرپرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ دور میں پاکستانی تاریخ کی سخت ترین میڈیا سنسرشپ دیکھنے میں آئی اور اختلافی نظریات رکھنے والے صحافی حضرات کو نشان عبرت بنا کر باقیوں کو بھی حق اور سچ کی آواز بلند کرنے سے روکنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کا مفاد ایک تھا لہذا دونوں نے مل کر آزاد صحافت کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی اور ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیا
وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی نے کہا کہ پاکستانی صحافی پارلیمانی جمہوریت اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہیں، آئین کے طرفدار ہیں، قانون کی حکمرانی کے حامی ہیں۔ لہذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں اور کسی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین برس میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ادیب، لکھاری اعر دانشور سب ہی ہائبرڈ نظام کے عتاب کا نشانہ بنے ہیں۔ ایک میڈیا ہاؤس کے مالک کو 10 ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا۔
اپنے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ نے کہا کہ انہیں تحریک انصاف حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل ٹرولنگ کا سامنا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا کرتے وقت ٹرولز اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ریاستی ٹولز کے علاوہ پی ٹی آئی کا اپنی سوشل میڈیا “ٹرول بریگیڈ” بھی موجود ہے ہے، ہمارے خلاف ٹرولنگ بھی ایک منظم مہم کی طرح ہوتی ہے۔ میرے خلاف مہم بھی انہی بریگیڈز کی جانب سے چلائی جاتی ہے۔ میعے خلاف مہم میں تو وفاقی وزرا نے بھی حصّہ لیا۔ دو دفعہ تو میرے گھر کے اندر لوگ آ دھمکے۔ لیکن ہم لوگ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔صحافیوں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی حمایت کے سوال پر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ہم جیسے صحافی آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کھڑے ہیں لہذا اگر کوئی سیاسی جماعت ہمارے ایجنڈے پر چلتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم لوگ اس جماعت کا حصہ بن گئے۔
پاکستان میں آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ابصار عالم نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کی جانیں ملازمتیں، اور روزگار سب خطرے میں ہے۔ یاد رہے کہ 20 اپریل 2021 کو ابصار پر اسلام آباد جیسے شہر میں تب قاتلانہ حملہ ہوا، جب وہ ایک پارک میں چہل قدمی کررہے تھے۔ ان کے پیٹ میں گولی ماری گئی لیکن وہ معجزانہ طور پر بچ گے۔ ان کے بقول، سیاسی جماعتیں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سب ہی صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے میں ملوّث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین برس سے پاکستانی میڈیا پر مثبت رپورٹنگ کے لیے دباؤ ہے لیکن میرا سوال ہے کہ اس مثبت رپورٹنگ سے کیا ملکی معیشت بہتر ہوگئی، مہنگائی کم ہوگئی اور عوام کے مسائل ختم ہوگے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر میڈیا پر پابندیوں سے کیا فائدہ ہو گا؟”
ابصار عالم نے کہا کہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی حکمراں اشرافیہ کا اس ملک میں کچھ بھی داؤ پر نہیں ہوتا۔ وہ تو باہر کی شہریت رکھتے ہیں، ریٹائر ہوتے ہی ملک سے چلے جاتے ہیں اربوں روپے بھی لے جاتے ہیں۔ ہماری صحافتی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ بھی قصور وار ہیں۔ اگر عدلیہ اور صحافی بدعنوان ہوجائیں تو یہ مالی بدعنوانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے مگر افسوس کہ ایسا ہو چکا ہے۔ لیکن ان کے بقول اس میں ذرائع ابلاغ کے مالکان کا بھی قصور ہے، اور صحافیوں کا بھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل کی ملکیت کا لائسنس سرمایہ کاروں کے لئے اپنے کالے دھندے کی انشورنس پالیسی بن گیا ہے۔ اب ٹی وی چینلز اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ اشرافیہ کے ساتھ تعلقات بنائے جا سکیں اور اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ لہذا میڈیا مالکان بھی انتظار میں ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی طاقتور فرمائش ڈالے اور وہ سینسر شپ عائد کردیں۔ لہذا میرے خیال میں میڈیا کی آزادی مالکان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان صحافیوں کا ہے جو حق اور سچ کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے آج کے دور میں وہ سچ بولنے کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔
