ناکے پر فوج کے میجر کو تھپڑ کی اصل کہانی کیا ہے؟


اسلام آباد کے علاقے دامنِ کوہ میں فوج کے میجر کی جانب سے ٹریفک پولیس اہلکار پر تھپڑ مارنے کا الزام جھوٹا نکلا۔ تاہم طاقتور افسر کو قانون سمجھانے کی غلطی کرنے والے غریب ٹریفک اہلکار کی جان چھوٹتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد کے علاقے دامن کوہ میں رونما ہونے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک میجر نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار نے بلاوجہ اسے گاڑی سے اتار کر تھپڑ مارا اور گریباں چاک کر دیا حالانکہ ویڈیو میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا جس سے ثابت ہو کہ ٹریفک اہلکار اس ناقابل معافی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹریفک اہلکار پر میجر کو تھپڑ مارنے کا الزام غلط ہے تاہم غریب پولیس والے کی یہ غلطی ضرور تھی کہ اس نے ایک فوجی افسر کو قانون پر عمل کرنے کی درخواست کی جس پر میجر صاحب نے الٹا اسی پر الزام عائد کردیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قانون کی پاسداری صرف بلڈی سویلینز کی زمہ داری سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس ملک میں ایک باوردی جنرل آئین توڑنے کر صدر بھی بن سکتا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انہی غلط رویوں کی وجہ سے پاکستان قانون و ضابطوں کے بغیر چلنے والا ایک انوکھا معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے سیاحتی مقام دامنِ کوہ کی وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو چند پولیس اہلکاروں کے ساتھ بحث کرتے اور مشتعل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں کچھ پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس اس شخص کا غصہ ٹھنڈا کروانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں ماسک پہنے ایک اہلکار کو مشتعل شخص کو مخاطب کرتے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں غصے سے آگ بگولا ہونے والے شخص کا گریبان بھی پھٹا نظر آتا ہے اور وہ پولیس اہلکار پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے انھیں تھپڑ مارا اور گریبان سے پکڑا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور راہگیروں کے علاوہ وہاں ایک فیملی بھی موجود ہے جو یہ سب منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ٹریفک اہلکار کے ساتھ ایک شخص کی جانب سے بدتمیزی کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پولیس والے کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے مشتعل شخص کو لاک ڈآون کے باعث تفریحی مقام تک جانے سے روکا تھا۔
تاہم یہ معاملہ اب مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ویڈیو میں مشتعل ہونے والے شخص کا تعلق پاک فوج سے ہے اور وزارت داخلہ کے حکام نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعے کی تحققیات کے بعد ذمہ دار کے خلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار کے خلاف تحقیقات ان کا محکمہ ہی کرے گا لیکن فوجی افسر کے قانون شکن رویے کی انکوائری کون کرے گا۔ تاحال افواجِ پاکستان کا شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر اس حوالے سے خاموش ہے۔ اب تک ہونے والی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیو کے واقعات 27 رمضان المبارک کی شام افطار سے قبل پیش آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ویڈیو میں مشتعل ہونے والے شخص نے اپنا تعارف فوج کے ایک میجر کے طور پر کروایا۔ دامن کوہ کے داخلی راستے پر مامور ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کرونا وبا کے باعث حکومت نے ریسٹورانٹس، پارک اور سیاحتی مقامات بند کر رکھے ہیں اور اسی لیے ایک چیک پوسٹ دامن کوہ کے داخلی راستے پر بھی لگائی گئی ہے۔ اہلکار کے مطابق 27 رمضان کو افطار سے قبل ایک گاڑی ناکے پر روکی گئی جس میں ایک میجر اور ان کی فیملی سوار تھی۔ انھوں نے پابندی کے باوجود دامن کوہ جانے کی کوشش کی تو تریفک پولیس اہلکاروں نے انھوں روکا اور بتایا کہ کرونا کی وجہ سے عوامی مقامات بند ہیں اور انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پولیس اہلکار کے مطابق اس کے بعد میجر نے ناکے سے اپنی گاری موڑ لی اور واپس جانے کی بجائے ایک اعر سڑک سے دامن کوہ جانے کی کوشش کی جس پر گاڑی کو دوبارہ روکا گیا تو میجر نے باہر نکل کر ہاتھا پائی شروع کر دی اور گندی گالیاں بھی دیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جس پولیس اہلکار کے ساتھ میجر کی تلخ کلامی ہو رہی ہے وہ دامن کوہ پر لگائے گئے پولیس ناکے کے سابق انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد شہزاد ہیں جنکو قانون کی پاسداری کروانے پر معطل کیا جا چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ایس پی سٹی عمر گنڈاپور موقعے پر پہنچے اور شہزاد کو بغیر کسی انکوائری کے میجر کے کہنے پر معطل کر دیا۔ اگرچہ ویڈیو میں فوجی افسر کو یہ الزام لگاتے سنا جا سکتا ہے کہ شہزاد نے انھیں تھپڑ مارا تاہم اے ایس آئی شہزاد کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجی افسر پر ہاتھ نہیں اٹھایا لیکن بدتمیزی کیے جانے پر تلخ کلامی ضرور ہوئی تھی۔ اے ایس آئی شہزاد کے مطابق وہ اس واقعے کے بارے میں تھانہ کوہسار کے روزنامچے میں رپٹ درج کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ انھیں معطل کر دیا گیا تھا اس لیے وہ ایسا نہ کر سکے کیونکہ پولیس ایکٹ کے مطابق اگر کسی اہلکار کو کسی واقعے کی بنا پر معطل کر دیا جائے تو وہ اس بارے شکایت نہیں کر سکتا۔
سوشل میڈیا پر ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی افسران اپنے آپ کو ملک کے ہر قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات فوجی افسران اور ان کے عزیزواقارب کی جانب سے پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات پیش آتے ہیں لیکن چونکہ انہیں کبھی سزا نہیں دی جاتی اس لیے ایسے واقعات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک بن گیا ہے جہاں ایک باوردی آرمی چیف بندوق کے زور پر صدر بن جاتا ہے اور اگر اعلیٰ عدالتیں اسے غداری کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت بھی سنا دیں تو بھی اسے ملک سے فرار کروا دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button