نا اہل ترین سیاست کا اہم ترین کردار کیسے بن گیا؟

جہانگیر ترین پاکستان کے وہ واحد سیاستدان ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین ثابت نہ ہوے کے باعث نا اہل قرار دیے جانے کے باوجود اس وقت ملکی سیاست میں اہم ترین حیثیت اختیار کر چکے ہیں.
جہانگیر ترین ایک سیاست دان، ایک صنعت کار، ایک جاگیردار، ایک استاد، ایک بینکر – آخر ایک ہی شخص میں اتنی خصوصیات کیسے پائی جا سکتی ہیں؟ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ترین ان سب خصوصیات کے حامل ہیں اور اس وقت وہ اپنی ہی جماعت، یعنی تحریک انصاف میں، ایک ہم خیال گروپ بنا کر اپنے سابقہ دوست عمران خان کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بنتے جارہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترین گروپ کو کسی طرف سے گرین سگنل مل گیا تو یہ گروپ اکیلا ہی کپتان حکومت کو فسرغ کروانے کا باعث بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس افسر تھے اور سابق صدر ایوب خان کے دور میں ان کے نام کا بہت چرچا رہا۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق تربیلا کے علاقہ سے تھا۔ لیکن ڈیم کی زد میں زمینیں آنے پر انہیں لودھراں میں زمین الاٹ کی گئی۔ اللہ نواز ترین اس زمین پر کاشتکاری کرتے رہے۔
جہانگیر ترین نے سال 1974 میں امریکہ کی نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک دن بھی امریکہ میں رہنے کا نہیں سوچا اور جیسے ہی میری ڈگری مکمل ہوئی میں نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا۔ پاکستان آ کر ترین نے بطور استاد پنجاب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ لیکن والد کی خواہش کے پیش نظر ایک بینک میں ملازمت اختیار کرلی۔ لیکن ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر صبح سے شام تک کام کرنا جہانگیر ترین کو قبول نہ تھا۔ لہٰذا، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے یہ کام بھی چھوڑا اور لودھراں میں اپنے والد کے پاس جا کر کہا کہ وہ کاشتکاری کریں گے۔ کاشتکاری جہانگیر ترین کا پسندیدہ شوق رہا اور پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کا سب سے پہلے ٹرینڈ دینے والے بھی جہانگیر ترین ہی ہیں۔ انہوں نے اپنے لودھراں میں چار سو ایکڑ زمین پر کاشتکاری شروع کی اور جدید انداز میں جدید مشینوں کے ذریعے کئی گنا زیادہ پیداوار حاصل کی۔ اس دوران لودھراں کے قریبی علاقوں میں فوجی افسران کو بنجر زمین الاٹ کی جاتی تھی جس پر کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا تھا۔ جہانگیر ترین نے سستے داموں اس زمین کو خریدا اور اپنی جدید تکنیک سے کامیابی حاصل کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اردگرد کے علاقوں میں ٹھیکے پر زمین حاصل کرنا شروع کی اور بعد میں کئی مقامات پر انہی زمینوں کو منہ مانگی قیمت پر خرید کر اپنے زرعی رقبے کو بڑھاتے رہے۔
زمینوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ان پر کئی الزامات بھی لگے اور بعض مقدمات عدالتوں میں بھی ہیں۔ لیکن، جہانگیر ترین نے بیشتر معاملات کو اپنے پیسے کے زور پر آسانی سے حل کیا اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے زمینوں کی خریداری کرتے رہے اور ان پر جدید تکنیک کی مدد سے کئی گنا منافع حاصل کرتے رہے۔ بلاشبہ اس میں ان کی انتھک محنت اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔
جہانگیر ترین نے جنوبی پنجاب میں گنے کی کاشت زیادہ کی اور سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پورے ملک میں پیدا ہونے والی چینی کا 15 فیصد صرف جہانگیر ترین کی زرعی امپائر سے پیدا ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جہانگیر ترین نے مائننگ سمیت حصص خریداری، بنکوں میں سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور ہر جگہ پر جدت اور سرمایہ کاری کا بہتر استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالیں تو سونا بن جاتا ہے اور جہانگیر ترین اسی انداز میں کامیابی حاصل کرتے رہے۔
جہانگیر ترین کامیاب کاروباری اور کاشتکار تو تھے ہی لیکن اب ایک اور شعبے میں وہ اپنی مہارت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ وہ شعبہ سیاست کا تھا جس میں آنے کے لیے ان کے کاروباری تعلقات ہی کام آئے اور شہباز شریف نے انہیں اپنی حکومت میں سب سے پہلے زرعی ٹاسک فورس کا سربراہ لگا دیا۔ اگرچہ انہیں سیاست میں لانے والے شہباز شریف تھے لیکن وہ عملی اور انتخابی سیاست سے دور رہے ۔ تاہم، سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا اور مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر لودھراں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ ق لیگ کی حکومت میں انھیں وفاقی وزیر بنایا گیا اور شوکت عزیز کے وزیر صنعت و پیداوار بن گئے۔ ان پر الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ زراعت کے محکموں کی سربراہی میں ان کے اپنے زرعی فارمز اور وزیر صنعت و پیداوار کے طور پر ان کی اپنی صنعتوں نے خوب ترقی کی۔ لیکن جہانگیر ترین ان باتوں کا جواب دیے بغیر آگے بڑھتے رہے۔
سال 2008 میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی میں آئے۔ لیکن اس دور میں وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے اور اپنے کاروبار کی نگرانی ہی کرتے رہے کہ سال 2011 میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ تحریک انصاف طاقت کے مراکز میں اپنی اہمیت تسلیم کروا رہی تھی اور ایسے میں جہانگیر ترین کا عمران خان کا ساتھ دینے کا اعلان ان حلقوں اور خود پی ٹی آئی کے لیے بہت خوش آئند رہا۔
ان کے بارے میں سال 2015 میں جسٹس وجیہہ الدین نے الزام عائد کیا کہ جہانگیر ترین پیسے کی سیاست کے ذریعے آگے آئے ہیں۔ لیکن ان کی بات کو کسی نے بھی اہمیت نہیں دی، جس پر انہوں نے خود ہی تحریک انصاف سے الگ ہونا بہتر سمجھا۔ ترین سیاست میں اپنا سفر تیزی سے طے کرتے رہے اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک جا پہنچے۔ ایک وقت میں اکیلے ترین ہی عمران کے بعد سب سے اہم تھے، جنہیں پارٹی کا نمبر ٹو کہا جاتا تھا۔ ترین کو سیاست تو آتی تھی، لیکن عدالتی راہداریوں اور بعض اپنوں کی مخالفت کے باعث ترین انتخابی سیاست کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے آرٹیکل 62 اور 63 کی زد۔میں آ کر نا اہل ہوگئے۔ یہی وہ وقت تھا جب تحریک انصاف میں ان کا زوال شروع ہوا۔
پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ چلنے کی خواہش رکھنے والے جہانگیر ترین کو اپنی حکومت میں شامل بعض طاقتور افراد خصوصا شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ترین اپنی شخصیت کو بہت سنبھال کر آگے بڑھتے رہے۔ ایک استاد، ایک بینکر، ایک صنعت کار اور ایک کامیاب کاشتکار کے طور پر انہوں نے بہت کامیابیاں حاصل کیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے پاکستان میں موجد وہی ہیں۔ انہوں نے مختلف صنعتیں لگائیں اور اپنے عزیز و اقارب کی بھی امپائر کھڑی کی۔ جہانگیر ترین بہت زیادہ ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے اپنی دولت کی مدد سے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے جہاز کا بہت استعمال ہوا یہ سب ان کی سیاسی سوجھ بوجھ کی نشانیاں ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق جب عمران خان وزیراعظم بنے تو حکومت کے اندر دو لابیاں بن گئیں۔ اعظم خان، شاہ محمود، اسد عمر اور شہزاد اکبر کا ایک تگڑا گروپ ان کے خلاف ہوگیا جس نے انکی نمبر ٹو کی حیثیت کو چیلنج کیا اور انہیں جماعت سے نکلوانے میں کامیاب رہے۔ اس سلسلے میں بشریٰ بی بی کا کردار بھی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ترین کے ہم خیال بلاک کے پہلے محدود سیاسی عزائم تھے اور صرف انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لیے یہ گروپ بنایا جارہا تھا لیکن اب جو اقدامات ہو رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ اس گروپ کو اپنی اگلی سیاست کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بقول ان کے، میرا خیال ہے کہ اگر ان کو کہیں سے گرین سگنل مل گیا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گروپ کی مدد سے عمران خان کو کھلی کھلا چیلنج کر دیں اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ بھی لیں۔
جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کے کیسز بننے کے بعد ان کی طرف سے گلوں شکوؤں کے بعد اب تحریک انصاف میں ہم خیال گروپ بن چکا ہے اور 32 ارکان صوبائی اسمبلی اور 10 ارکان قومی اسمبلی کا یہ گروپ کپتان کی راتوں کی نیند حرام کیے ہوئے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی زیر قیادت ہم خیال گروپ کپتان حکومت پر فیصلہ کن حملہ کب کرتا ہے؟
