نواز شریف اور ترین کو عدلیہ سے ریلیف کیسے ملا؟

سپریم کورٹ کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق مقدمے میں فیصلے کے بعد نہ صرف نواز شریف اور جہانگیر ترین کے لیے سیاست کے راستے کھل گئے ہیں بلکہ اس کے اثرات مستقبل میں بھی مرتب ہوں گے عدالتی فیصلے سے نہ صرف سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کہ سپرمیسی کو تسلیم کر لیا بلکہ اس بات پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح تو کر سکتی ہے لیکن اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جب چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا تو اسی وقت مبصرین کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس مقدمے میں سیاست دانوں کو ریلیف ملے گا۔
اس فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کی نااہلی ختم ہو گئی ہے اور اب دونوں انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے مستقبل میں ایسے اقدامات کا راستہ روک دیا ہے جن سے سیاستدانوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر طویل عرصے تک پابندی لگائی جا سکے۔
سینیئر قانون دان سینیٹر کامران مرتضٰی نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاست دانوں کے سروں پر لٹکنے والی مستقل نااہلی کی تلوار ہٹ گئی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے دستور کی غلط تشریح کو ختم کر کے درست تشریح کی ہے، جو اچھی بات ہے۔سینیٹر کامران مرتضٰی کے مطابق ’اب کوئی سیاستدان ہمیشہ کے لیے نااہل نہیں ہو سکتا۔‘
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرام چوہدری نے کا کہنا تھا کہ اب نواز شریف صرف ایک صورت میں الیکشن سے باہر رہ سکتے ہیں جو یہ ہے کہ نیب کسی اور مقدمے میں انہیں 10 سال کی سزا دلوا دے۔ تاہم اب الیکشن قوانین کے تحت تاحیات نااہلی نہیں ہو سکتی اور اگر مستقبل میں اس طرح کا کوئی معاملہ آتا ہے تو پارلیمنٹ کو اس بارے میں قانون سازی کرنا پڑے گی۔’اب مستقبل میں کسی تاحیات نااہلی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی اپنی قانون سازی کے ذریعے کرے گی۔‘
خیال رہے کہ آرٹیکل 62 (1) (ایف)، جس میں پارلیمنٹ کے رکن کے لیے صادق اور امین ہونے کی شرط رکھی گئی ہے، وہی شق ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاناما پیپرز کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔تحریک انصاف پاکستان کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی اسی شق کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔نواز شریف کو 2017 میں بددیانتی کا قصوروار پایا گیا اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں نواز شریف سمیت کچھ آئینی دفعات کے تحت مجرم پائے جانے والے افراد پر تاحیات پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اگرچہ نواز شریف نااہل ہونے والے دوسرے سیاست دانوں کی جانب سے دائر کیے گئے تازہ ترین مقدمے میں درخواست دہندہ نہیں تھے لیکن اس فیصلے نے انہیں انتخاب لڑنے کا اہل بنا دیا ہے کیونکہ 2017 میں ان کی سزا کے بعد پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے پارلیمنٹ کی سُپرمیسی کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کےٹرائیکاٹومی فارمولے کو بھی مانا اور اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پارلیمنٹ کے ارکان کی اجتماعی دانش کو تسلیم کیا جانا چاہیے . ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ نے تسلیم کیا اور فیصلہ ہو گیا کہ آئندہ سیاستدانوں کی تاحیات نا اہلی نہیں ہو گی ،سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے کے ذریعے 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل (F)(1)62میں نا اہلی کے لفظ میں’’ تاحیات ‘‘ کا اضافہ کر دیا تھا.سپریم کورٹ نے درست سمت میں فیصلہ دیا کہ عدالت آئین قانون کی تشریح تو کر سکتی ہے لیکن آئین کی تحریر کو بدل نہیں سکتی ، قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کا ہے۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق تاحیات نااہلی آئینی طور پر درست نہیں تھی، سپریم کورٹ نے برسوں بعد نقصان کی تلافی کر دی۔
ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے جبکہ تحریک انصاف عدالتی فیصلے کو ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ دوسری جانب مختلف حلقوں کی طرف سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے کیونکہ عوامی نمائندوں کے لیے تا حیات نا اہلی انہیں تاحیات سزا دینے کے مترادف ہے اور میں تا حیات نااہلی کے خلاف ہوں۔‘‘عابد حسن منٹو کا کہنا تھا کہ آئین میں نا اہلی کی شق کے حوالے سے ابہام تھے۔ ”میرے خیال میں وہ ابہام اب دور ہو جائیں گے۔‘‘
