نواز شریف رپورٹس بھیجے بغیر ضمانت میں توسیع طلب کر رہے ہیں

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ قیدی نواز شریف اپنی صحت سے متعلق رپورٹس نہیں بھیجتے اور ضمانت میں توسیع کی درخواست دے رہے ہیں حالانکہ درخواست دینے سے پہلے ہی وہ ضمانت میں توسیع لے چکے ہیں.نواز شریف کو علاج کے لیے انسانی ہمدردی پر ریلیف دیا اور ان کی رپورٹس میں اگر کچھ ثابت ہوا تو مزید ریلیف دیں گے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ‘کبھی غلط بیانی نہیں کی اور نہ آئندہ ایسا کوئی ارادہ ہے اہم یہ ہے کہ نواز شریف کو کچھ ہفتے دئیے گئے تھے کہ اپنی بیماری کی تشخیص کرائیں’۔ انہوں نے بتایا کہ ’25 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان کی ضمانت کی مدت میں توسیع کے لیے رپورٹ جمع کرائی، محکمہ داخلہ نے 27 دسمبر کو ہمیں وہ رپورٹس بھجوائیں جس کے بعد ہم نے بورڈ تشکیل دیا تھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘3 جنوری کو بورڈ کے مکمل ہونے کے بعد جب نواز شریف کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو بورڈ نے بتایا کہ خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں جامع رپورٹ نہیں ہے کہ وہاں کیا ہوا ہے’. وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ‘خواجہ حارث کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس میں ایک پرانی سمری تھی جس میں وہی کچھ لکھا تھا جو پہلے بھی بتایا گیا تھا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ 25دسمبر تک نواز شریف کا پی ای ٹی اسکین بھی نہیں ہوا تھا تاہم 3 تاریخ کو ہی ہم نے واپس رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھیجی اور کہا کہ یہ ناکافی ہیں مکمل رپورٹس منگوائی جائیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس کے بعد 13 تاریخ تک کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا اور پھر میں نے خود نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ٹیلی فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں رپورٹس بھجوادوں گا’۔ انہوں نے بتایا کہ ‘رپورٹس آنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کی جانب سے رپورٹس برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو جمع کرائی جائیں گی جو تصدیق کے بعد محکمہ داخلہ کو بھیجے گا جہاں سے پھر ہمیں موصول ہوگی اور اس کے بعد بورڈ تشکیل دیا جائے گا اور پھر رائے دی جاسکے گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس رپورٹس اب تک نہیں آئی ہیں، نواز شریف صاحب سزا یافتہ قیدی تھے، مہربانی کرکے جلد از جلد اپنا علاج کرائیں اور واپس آجائیں’۔
یاد رہے کہ دو روز قبل سوشل میڈیا پر نواز شریف کی چند تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جس میں انہیں ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی خرابی صحت کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں گزشتہ روز وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو براہ راست خط لکھ دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے آپ کو 48 گھنٹوں میں اپنی میڈیکل رپورٹ فراہم کرنی ہوگی کیونکہ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ بالکل ٹھیک نظر آ رہے ہیں اور سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔
علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔
