نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئیں

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئیں، رپورٹس میں ان کے صحت مند ہونے تک برطانیہ میں قیام کی سفارش کی گئی ہے۔
نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹس ان کے وکیل امجد پرویز کے معاون وکیل سلمان سرور نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کی طبی رپورٹس لندن میں ان کے دل کے معالج سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے مرتب کی ہیں۔ رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ نوازشریف کی انجیوگرافی فوری طور پر کرائی جائے جبکہ معالجین ان کے پلیٹیلیٹس برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی سرجری بھی ہونا ہے لیکن حالت بہتر ہونے تک سرجری ممکن نہیں۔
رپورٹس میں نواز شریف کے صحت مند ہونے تک ان کے برطانیہ میں قیام کی سفارش کی گئی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ م کے رجسٹرار آفس میں 4 مختلف رپورٹس جمع کرائی گئیں ہیں۔ نواز شریف کی بھجوائی گئی رپورٹس مختلف مواقع کے ٹیسٹوں پر مبنی ہیں، رپورٹس 19 دسمبر، 23 دسمبر اور 13 جنوری کو کیے گئے ٹیسٹوں پر مشتمل ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس حکومت کو بھیج دیں۔
یاد رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے ضمانت میں توسیع کے معاملے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھا تھا، جس میں نوازشریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس فوری بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا میڈیکل رپورٹس کا میڈیکل بورڈ جائزہ لینے کے بعد ضمانت میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا.
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کو بھی لندن میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس موصول ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے اسے محکمہ صحت پنجاب کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،محکمہ صحت ان رپورٹس کو میاں نواز شریف کے علاج کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو بھجوائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ ہو گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز نواز شریف کی لندن کے ہوٹل میں لی گئی تصویر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے 48 گھنٹوں کے اندر نواز شریف سے ان کی میڈیکل رپورٹس طلب کی تھیں۔
۔
