آرمی چیف اور سابق گورنر محمد زبیر کی میٹنگ کا ایجنڈا کیا تھا؟

معلوم ہوا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک نمائندے کے مابین ایک حالیہ ملاقات کے دوران جب فوجی سربراہ کو حکومت کی ناکام کارکردگی اور اپوزیشن قیادت کے ساتھ سراسر انتقامی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی لچک دکھانے کی بجائے سخت گیر موقف اپنائے رکھا۔ آرمی چیف کے اسی سخت موقف نے بالآخر نون لیگ کے قائد کو مجبور کیا کہ وہ 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس میں اسٹیبلشمینٹ کو اس کے سیاسی کردار کے حوالے سے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر چارج شیٹ کر دیں۔
تاہم دوسری طرف مریم نواز کا کہنا ہے کہ اُن کے والد نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ اُن کو نہیں معلوم کہ اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کو اس ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں علم تھا یا نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ان معاملات پر سیاسی رہنماؤں کو نہ تو فوج کو بلانا چاہیے اور نہ ہی سیاسی رہنماؤں کو جانا چاہیے۔ مریم نے کہا کہ جس کو اس معاملہ پر بات کرنی ہے وہ پارلیمان آئے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا معاملہ سیاسی اور عوامی نمائندوں سے متعلقہ ہے جسے حل کرنے کے لیے فیصلے پارلیمان میں ہونے چاہییں نہ کہ جی ایچ کیو میں۔ پارلیمانی رہنماؤں کی آرمی چیف سے ملاقات کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات اسلام آباد میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں ہوئی ہے اور وہ اس نوعیت کی ملاقاتوں کے حق میں نہیں ہیں۔
تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سید طلعت حسین نے اپنی خبر کی صداقت پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ دنوں نواز شریف کے ایک نمائندے نے جنرل باجوہ سے ملاقات میں شکوہ کیا کہ فوج کی آشیرباد سے کپتان حکومت مسلم لیگ نون اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے وہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ نمائندے نے نواز شریف کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نون کسی صورت قبول نہیں کر سکتی کہ اسے بلاوجہ مکمل طور پر دیوار سے لگا کر رکھا جائے اور زیادتیوں کی یکطرفہ ٹریفک چلائی جائے۔ طلعت حسین کے مطابق نواز شریف کے نمائندے نے آرمی چیف سے کہا کہ اگر یہی صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہی تو پھر نون لیگ کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں بچے گا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ جواب میں جنرل باجوہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملک درست ٹریک پر چل رہا ہے اور اگر کسی نے سڑکوں پر آکر اسے ٹریک سے اتارنے کی کوشش کی تو ایسے لوگوں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے اس سخت اور بے لچک موقف نے نواز شریف کو سخت مایوس کیا جس سے انہیں یقین ہوگیا کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور اپوزیشن کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اسی دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو مفرور قرار دے کر انہیں مزید مشتعل کردیا۔ لہذا نواز شریف نے ڈیل یا ڈھیل کا انتظار کرنے کی بجائے 20 ستمبر کو اے پی سی خطاب میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کا طبل بجا دیا۔ نوازشریف نے اپنی تقریر میں انتہائی سخت اور سچی باتیں کرتے ہوئے ملکی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں بار بار کی مداخلت کو پاکستان کے مسائل کی بنیادی جڑ قرار دیا۔ انہوں نے کپتان حکومت کو کٹھ پتلی اور نااہل قرار دیا اور کہا کہ انکا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ان کو لانے والوں سے ہے، یعنی نواز شریف کا اشارہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب تھا جن پر عمران خان کی جماعت کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی سے جتوانے اور وزیر اعظم بنوانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔نواز شریف نے اے پی سی کے دوران اپنے طویل خطاب میں کہا کہ عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے جنھوں نے نااہل بندے کو لا کر بٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست ہونے کی بات تو پرانی ہو چکی ہے۔ اب تو حالات اتنے ابتر ہیں کہ معاملہ ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے۔ ملک میں جمہوریت کمزور ہو گئی ہے اور عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو سب جانتے ہیں کہ کیسے اسکے خلاف سازش ہوتی ہے اور قومی سلامتی کے خلاف اقدامات کی نشان دہی کرنے پر انھیں ریاستی اداروں کی طرف سے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ان سوالوں کے جواب لیے جائیں۔
نواز شریف کی اس سخت تقریر کے بعد فوجی ترجمان کی جانب سے تو کوئی ردعمل نہیں آیا البتہ حکومتی وزرا نے سابق وزیراعظم کی خوب مذمت کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی پچھلے ہی ہفتے اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ خفیہ ملاقات سے آرمی چیف کے اس موقف کی نفی ہو جاتی ہے کہ و سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ آل پارٹیز کانفرنس سے چار روز قبل 16 ستمبر کو فوج کی جانب سے اس ملاقات کو آئین و قانون کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آئین پاکستان کے تحت صرف وزیر اعظم پاکستان ہی پارلیمانی رہنماوں کے ساتھ مشاورت کا مجاز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کی تمام پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن نےسی سی پی او لاہور عمر شیخ کے تقرر پر بھی اعتراض اٹھایا تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس اعتراض کو درست ماننے کی بجائے یہ دلیل دی کہ کسی بھی انسان کی زبان سے غلط الفاظ اداسکتے ہیں جس طرح شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے فلور پر بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ جس موٹروے پر عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی وہ بھی مسلم لیگ نون نے بنائی تھی۔ جنرل باجوہ کی بات سن کر شہباز شریف نے وضاحت کر دی کہ وہ یہ بات نہیں کہنا چاہتے تھے تاہم پھر بھی انہوں نے اپنے بات پر معذرت کی۔ شہباز شریف کی وضاحت پر جنرل باجوہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بھی اپنے بیان پر معذرت کرلی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف اور شہباز شریف میں ہونے والے اس مکالمے سے ثابت ہوتا ہے کہ کپتان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ اس حد تک ایک پیج پر ہیں کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے معاملے پر بھی دونوں کا موقف سو فیصد یکساں ہے۔ دوسری جانب جب جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن جماعتوں کو بارہا یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ وہ غیر سیاسی ہیں اور حکومت وقت وقت کی پالیسی کے مطابق انہیں سپورٹ کر رہے ہیں اگر کل کلاں کسی اپوزیشن جماعت کی حکومت آتی ہے تو وہ انہیں بھی اسی انداز میں بھرپور سپورٹ کریں گے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 2018 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے کہا کہ ہمیں آپ سے یہ گارنٹی چاہیے کہ آئندہ عام انتخابات صاف شفاف، آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ اس پر جنرل فیض حمید نے کہا کہ وہ انتخابات کے آزادانہ منصفانہ اور شفاف ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتے تاہم وہ اس بات کی گارنٹی ضرور دے سکتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کے مسائل پیش نہیں آئیں گے۔ جنرل فیض حمید نے بلاول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کا کام انتخابات کی نگرانی کروانا ہرگز نہیں۔ لیخن فیض حمید کے دعوے کے برعکس یہ کھلی حقیقت ہے کہ الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کے رہنما آئی ایس آئی کی طرف ہی دیکھتے ہیں اور 1990 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ آئی ایس آئی نے ایک خصوصی الیکشن سیل بنایا تھا جس کے ذریعے پیپلز پارٹی مخالف سیاستدانوں میں پیسے بانٹے گئے اور آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے نوازشریف کو وزیراعظم منتخب کروایا گیا۔
