نواز شریف نے انکوائری رپورٹ مسترد کر کے کیسے حساب برابر کیا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ کو مسترد کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے مسلم لیگ ن کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکی رائے میں مریم کے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کا فیصل اعلیٰ فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کی مرضی اور منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا لیکن انکوائری رپورٹ کو خفیہ رکھتے ہوئے کارروائی صرف نچلے لیول کے افسران کے خلاف کرتے ہوئے انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نواز شریف نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار کی مبینہ بیحرمتی اور آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے معاملے پر پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو ’مسترد‘ کرتے ہوئے لفظ ریجیکٹڈ استعمال کیا یے جیسا کہ ماضی میں نواز حکومت کے دور میں کروائی گئی ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ترجمان نے 29 اپریل 2017 کو کیا تھا۔ یعنی نواز شریف نے اسی طریقے سے فوج کی جانب سے کروائی گئی انکوائری رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس طریقے سے فوجی ترجمان نے ماضی میں نواز حکومت کی جانب سے دی گئی ہے انکوائری رپورٹ کو مسترد کیا تھا۔
خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر کروائے جانے والی انکوائری رپورٹ تو خفیہ رکھی گئی ہے لیکن اس کی سفارشات کی روشنی میں دوبریگیڈیر اوردو کرنل حضرات کو ان کے عہدوں سے فارغ کر کے معطل کر دیا گیا ہے۔ ڈسپلنری ایکشن کی زد میں آنے والوں میں سندھ میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب اور رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر افضل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان دونوں افسران کے نائب کرنل حضرات یعنی رینجرز کے کرنل شبیر اور آئی ایس آئی کے کرنل علی گوہر کو بھی انکے عہدوں سے فارغ کر کے معطل کر دیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس ایکشن پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تاہم دوسری طرف نواز شریف نے انکوائری رپورٹ اور اس کی روشنی میں لیے جانے والے ایکشن کو مسترد کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں نواز شریف نے کہا کہ ’کراچی واقعے کی انکوائری رپورٹ ایک کور اپ ہے جس کا مقصد جونیئر آفیسرز کو قربانی کا بکرا بنانا اور اصل مجرموں کو بچانا ہے۔ اسکے بعد انہوں نے لکھا: رپورٹ ریجیکٹڈ یعنی انکوائری رپورٹ مسترد کی جاتی ہے۔‘
نواز شریف کی ٹویٹ سے قبل فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انکوائری کے نتیجے میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پاکستان رینجرز کے اُن اہلکاروں کے خلاف ایکشن لے لیا گیا ہے جنھوں نے بانی پاکستان کے مزار کی ‘بےحرمتی’ کے واقعے پر ‘عوامی دباؤ’ کے تحت زیادہ ہی جوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان تمام افسران کو اُن کی موجودہ ذمہ داریوں سے سبکدوش کرتے ہوئے اُن کے معاملات جی ایچ کیو کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔
تاہم ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ عوامی دباؤ کے تحت رنجرز کو ایکشن لینے کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہے۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ افواج پاکستان نے ماضی میں جب بھی ملٹری ٹیک اوور کیا تو اسے بھی عوامی دباؤ کا ہی نتیجہ قرار دیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کراچی واقعے پر اعلامیہ جاری ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین نے اپنی اپنی آرا دینے کا سلسلہ شروع کر دیا اور اور ایک ہی گھنٹے میں ’آئی ایس پی آر‘، ’رینجرز‘ اور ’آئی جی سندھ‘ ٹاپ ٹرینڈز بن گئے۔ تاہم دیگر تمام معاملات کی طرح رائے یہاں بھی منقسم ہی رہی۔ کچھ صارفین اس بات پر سر دھنتے نظر آئے کہ فوج کی جانب سے انکوائری کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بالآخر وفا ہوا اور انصاف کا بول بالا ہوا۔ جبکہ کئی صارفین اس بات پر نالاں نظر آئے کہ جو افسران اور اہلکار اس معاملے میں ملوث نکلے نہ تو ان کے نام سامنے لائے گئے اور نہ ہی انکوائری رپورٹ کو پبلک کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہامیے کہ کیا ایک صوبے کی پولیس کے سربراہ کو ’اغوا‘ کرنے کی سزا صرف عہدے سے سبکدوش کیا جانا ہے؟
سرکاری ماؤتھ پیس اور ساکھ کے بحران کا شکار ٹی وی اینکر کامران خان کی طرح کئی سوشل میڈیا صارفین کیپٹن صفدر کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی منسوخی اور سکیورٹی اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹانے پر خوش دکھائی نہیں دیے۔ تاہم دوسری طرف صارفین ایسے بھی تھے جو یہ یاد کرواتے رہے کہ سندھ آئی جی کے اغوا کی ’کہانی گھڑی نہیں گئی تھی بلکہ اس میں کچھ حقیقت بھی تھی تبھی تو ایکشن لیا گیا‘۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اس معاملے کی اطلاع شاید ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران ملی۔ گلگت بلتستان کے علاقے نگر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس معاملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا اور اب مجھے خوش خبری مل رہی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے انکوائری بھی کی اور ایکشن بھی لیا۔ ہمیں اس کو ویلکم کرنا چاہیے۔ اس قسم کے ایکشن سے اداروں کی انٹیگریٹی میں اضافہ ہوتا ہے اور جمہوری طریقہ کار بھی یہی ہے کہ جو بھی غلطی ہو اس کی تحقیقات ہوں اور ایکشن لیا جائے۔ جمہوریت کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا۔‘
خاتون صحافی عاتکہ رحمان نے لکھا کہ فوج کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ کہنا کہ ’آئی ایس آئی/رینجرز کے افسران کو تحمل اور احتیاط سے کام لے سکتے تھے‘ اس واقعے کی سنگینی کو کم کرنے کے مترادف ہے، ایک ایسا واقعہ جس نے سول اداروں اور قانون کی بالادستی کے تصور کی تضحیک کی۔ جبکہ کچھ لوگ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کی تحریر پر بھی تنقید کرتے نظر آئے۔ صارف محمد کامران نے لکھا کہ محفوظ اور محتاط انداز میں پریس ریلیز لکھنے کی ایک شاندار مثال۔ صارف ندیہ اطہر نے ٹویٹ کی ’نامعلوم افسران کو، نامعلوم عہدوں سے ہٹا کر، نامعلوم انکوائری کے لیے جی ایچ کیو بھیج دیا۔ چلو جی مٹی پاؤ!‘ سردار شرافت نامی صارف نے لکھا کہ ’یعنی گوجی افسران کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں کی جائے اور باقی سب مائع ہے۔ عدالتیں صرف سیاستدانوں کے لیے ہیں باقی ہم اپنے گھر میں ساری کارروائی مکمل کریں گے۔‘
دوسری طرف چند صارف عمران خان کا اس معاملے پر نجی ٹی وی کو دیے گئے اس انٹرویو کے کلپ شیئر کرتے رہے جس میں وہ آئی سندھ کے مبینہ اغوا کی خبر کو ’کامیڈی‘ قرار دیتے ہوئے ہنس رہے ہیں۔ مشاق نامی صارف نے لکھا کہ اس معاملے میں فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، وزیر اعظم اس کو ’کامیڈی‘ قرار دے رہے تھے جبکہ فوجی اسٹیبلیشمٹنٹ نے انہی کے ساتھ مذاق کر دیا ہے اور شرمندہ کر کے رکھ چھوڑا ہے۔
جیو ٹی وی سے وابستہ اینکر حامد میر وہ شخص تھے جنھوں نے سندھ آئی جی کے مبینہ اغوا کی خبر ٹوئٹر پر سب سے پہلے شیئر کی تھی۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس ریلیز کے اجرا کے بعد انھوں نے ٹویٹ کی اور ان لوگوں کے لیے ’دعا گو‘ ہوئے جنھوں نے ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں انھیں برا بھلا کہا تھا۔
تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے کراچی واقعے کی فوجی انکوائری رپورٹ مسترد کئے جانے کے باوجود ایک بات طے ہے کہ نواز شریف نے اپنا بیان یہ ثابت کردیا ہے اور جنرل قمر باجوہ کے حکم پر کروائے جانے والی انکوائری میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ آئی ایس آئی اور رینجرز کے ادارے ان کی بیٹی اور داماد کے خلاف انتقامی کاروائی میں استعمال ہوئے۔
