چیئرمین نادرا کے تقرر کے خلاف درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے عثمان مبین کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین کی حیثیت سے تقرری کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کردی۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے سنایا جو کہ عدالت نے اگست میں محفوظ کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات احمد نے دلائل دیے کہ پچھلی حکومت میں منتخب کرنے کے معیار میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت پی ایچ ڈی ہولڈر کے لیے 15 نمبر رکھے گئے تھے جب کہ بیرون ملک سے ماسٹرز کرنے والے امیدوار کے لیے 12 اور مقامی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے والے کے لیے 9 نمبرز رکھے گئے تھے، ساتھ ہی فیلڈ میں تجربے کی بنیاد پر 40 نمبرز رکھے گئے تھے۔
درخواست گزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ عثمان مبین صرف 30 نمبر حاصل کرسکتے تھے اور ان کا نام میرٹ لسٹ میں 5ویں نمبر پر تھا۔ ایڈووکیٹ حافظ عرفات احمد نے کہا کہ بعد میں حکام کی جانب سے معیار میں تبدیلی کردی گئی، جس کے تحت پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل افراد کے لیے نمبرز کی تعداد کو 15 سے کم کرکے 5 جب کہ ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے امیدواراں کے لیے نمبرز کو 12 سے بڑھا کر 15 کردیا گیا تھا اور عثمان مبین کے پاس ماسٹرز کی ڈگری ہے۔وکیل کا مزید کہنا تھا کہ نئے معیار کے تحت عثمان مبین نے سب سے زیادہ نمبر (55) حاصل کیے اور ان کا نام میرٹ لسٹ میں سب سے اوپر رکھا گیا تھا۔ایڈووکیٹ حافظ عرفات احمد نے کہا کہ حکام کی جانب سے کسی بھی طرح عثمان مبین کو منتخب کرنے کے لیے ملازمت کی دیگر شرائط میں بھی تبدیلی کی گئی۔دوسری جانب نادرا کے وکیل نے دلائل دیے کہ عثمان مبین کا تقرر قانونی طور پر کیا گیا تھا، وہ اس عہدے کے لیے تعلیم یافتہ اور اہل بھی ہیں۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عثمان مبین کو سلیکشن بورڈ کے ذریعے انٹرویو لینے کے بعد ملازمت پر رکھا گیا تھا، وہ دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ اور عہدے کے لیے اہل تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے نادرا کے وکیل نے دلائل دیے کہ وفاقی کابینہ پہلے سے کوئی اشتہار دیے بغیر چیئرمین نادرا کے عہدے پر کسی بھی امیدوار کا تقرر کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین نادرا کے عہدے کے لیے قومی میڈیا میں شائع کیے گئے اشتہار کی شرائط سے موازنہ کرنے پر عثمان مبین زیادہ تعلیم اور تجربہ رکھتے ہیں، ‘یہی وجہ ہے کہ انہیں اسکروٹنی کمیٹی نے دیگر امیدواروں کے مقابلے میں منتخب کیا’۔نادرا کے وکیل نے نشاندہی کی کہ عثمان مبین کا انٹرویو سلیکشن بورڈ نے لیا تھا اور ان کا نام وفاقی کابینہ نے بھی منظور کیا تھا۔
