نواز شریف نے برے وقت میں پاکستان کو اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ شومئی قسمت ، نواز شریف نے ایسے وقت میں ہتھیار ڈال دیئے جبکہ پاکستان کو انکی اشد ضرورت تھی ۔ ایسے کڑے وقت میں ایک مضبوط سیاسی شخصیت بطور حکمران چاہیے تھی ۔ ملک کے طول و عرض میں نواز شریف اکلوتی شخصیت ہیں جو ایسے سیاسی چیلنجز میں مددگار ہو سکتے تھے ۔ بین الاقوامی سطح پر سازشوں کا مقابلہ بھی ایسی قدآور شخصیت کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ نواز شریف کو کنارہ کشی کی بجائے سامنے آناچاہئے تھا مگر ایسے برے وقت میں نواز شریف بھی ساتھ چھوڑ گئے۔
اپنے کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ دسمبر 2021 تک ملکی سیاست خصوصاً پنجاب کی سیاست کا محور ومرکز نواز شریف ہی تو تھے مگر اب ملکی سیاست کا محور عمران خان بن چکا ہے ۔ اس میں عمران خان کا اپنا کوئی کمال نہیں ، سارا کریڈٹ اسٹیبلشمنٹ کو دینا ہوگا ، جس نے بڑی محنت سے عمران کو اس ’’مقام خواجگی‘‘تک پہنچا یا ہے ۔ حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق عمران خان کے اپنے اعترافی بیانات بھی موجود ہیں کہ’’ میں سیاست میں دھتکارا جا چکا ہوں‘‘ ۔ مگر وہ کونسے عوامل تھے کہ عمران خان جیسے ایک بد ترین ، بدعنوان ، نااہل کرپٹ حکمران کے سیاسی مردے میں جان پڑ گئی ۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ عمران خان کو جیسے ہی منتقل ہوا ، عمران خان کیلئے تریاق ثابت ہوا ۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی جوڑی نے مجرمانہ پلان کے تحت شہباز حکومت کو فارغ کرنے کیلئے عمران خان کے جلسے جلوس ، لانگ مارچ اور بہت کچھ ترتیب دے ڈالا ۔ پنجاب حکومت پی ٹی آئی کے حوالے کی ، ہر مد میں عدالتی فیصلے عمران خان کیلئے ممکن بنائے ۔ ان سب اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ نگراں حکومت قائم کر کے جنرل باجوہ نے اپنے لیے توسیع مدتِ ملازمت ڈھونڈنی تھی ۔ باجوہ نے اپنے ہی ادارے کیخلاف عمران خان کو استعمال کیا اور اسے ناقابل تسخیر طاقت بناڈالا۔ جنرل باجوہ کی حکمت عملی نے جہاں عمران خان کو دیوہیکل سیاستدان بنایا وہاں تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً نواز شریف اور ملکی سیاست، سب غیر متعلقہ بن گئے۔ اس قبیح فعل میں عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتیں بھی بری الذمہ نہیں ، انہوں نے بڑی فراخدلی سے اس سب میں حصہ بقدر جثہ ڈالا ۔ حیف ! چند ماہ کے اقتدار کیلئے نواز شریف کی 40 سالہ سیاست روند ڈالی ۔ حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی حکمت عملی اور ممکنہ حکومتوں کا اسکرپٹ بھی بار بار تبدیل کرنا پڑا۔ عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی سے 8 فروری انتخابات تک، اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ، ہر قدم عمران خان کو مضبوط کر گیا ۔ حتیٰ کہ آج’’سانحہ 9 مئی‘‘ جیسا واقعہ بھی عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا سوشل میڈیا پر جھوٹ کی یلغار میں پاکستان دشمن عناصر گوڈے گوڈے ملوث ہیں مگر اسی یلغار نے ایسا فرضی اور سطحی ہیولا بنایا کہ عوام الناس مع انتخابی انتظامی مشینری باآسانی ترنوالہ بن گئے۔ ملک کی تقدیر 8فروری انتخابات یا نئی حکومت سے نہیں ، عمران خان اسٹیبلشمنٹ لڑائی کے نتیجہ سے متعلق ہے ۔ جب تک عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کا قضیہ جاری ہے اور کسی منطقی انجام سے ہمکنار نہیں ہوتا تب تک سیاسی عدم استحکام پاکستان کی چولیں ہلائے رکھے گا ۔ مسلم لیگ ن اگلے 5 سال میں اپنی پچھلی 16 ماہ حکومت سے غیر مقبولیت میں کسی طور پیچھے نہیں رہے گی عمران خان نے رائے عامہ کو اُکسا رکھا ہے اور سوشل میڈیا کو الاؤ بنا چکا ہے۔ جب تک عمران خان اسٹیبلشمنٹ لڑائی کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھتا اور نواز شریف بھی موجود نہیں، ملک میں سیاسی استحکام ناممکن ہے۔ عمران یا اسٹیبلشمنٹ میں سے ایک فریق کی مکمل یقینی شکست ہی مسئلہ کا واحد حل بن چکا ہے۔ خدشہ ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کا نیا ’’نظام نمبر 37‘‘ مملکت کو کسی بڑے سانحہ سے دوچار کر سکتا ہے
