سیاست میں کمیونٹی نوٹس کا پراپیگنڈا کیوں پروان چڑھنے لگا؟

پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا صارفین حریف سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سوشل میڈیا کمیونٹی نوٹس کے ہتھیار کو باخوبی استعمال میں لا رہے ہیں جس سے مخالفین کی سوشل میڈیا پوسٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایکس کے مالک ایلون مسک کے مطابق گمراہ کن اور جھوٹی خبروں سے نمٹنے کا یہ بڑا مفید ’’ہتھیار‘‘ ہے۔لیکن سوشل میڈیا پر غلط معلومات سے نمٹنے والے کمیونٹی نوٹس اس وقت پاکستان میں خود سیاسی میدان بنا ہوا ہے، جہاں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف اور اسے کے حامیوں پر الزام ہے کہ یہ مخالف جماعت مسلم لیگ نواز، نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور پی ٹی آئی کے ناقد صحافیوں کے پوسٹ کے نیچے کمیونٹی نوٹس کی شکل میں اپنا پراپیگینڈہ کر رہے ہیں۔کمیونٹی نوٹس وکی پیڈیا کی طرز پر رضاکارانہ ماڈل پر کام کرتے یعنی کوئی بھی ایکس صارف کمیونٹی نوٹس میں اپنا اندراج کروا سکتا ہے اور اس کے بعد کسی بھی پوسٹ کے نیچے سیاق و سباق دینے کے لیے اپنا کمیونٹی نوٹ لکھ سکتا ہے۔مثال کے طور پر عام انتخابات کے بعد نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے ایکس پوسٹ میں انتخابات کے ’صاف اور شفاف‘ انعقاد پر عوام سکیورٹی فورسز اور الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم اس کے نیچے شائع ہونے والے کمیونٹی نوٹ میں کہا گیا کہ ’انتخابات میں دھاندلی کے کئی الزامات سامنے آئے لیکن یہ نوٹ اس پوسٹ کے نیچے دیکھائی دے گا یا نہیں اور کب تک وہاں برقرار رہے گا اس کے لیے چند شرائط ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ کمیونٹی نوٹس کے چند رضاکاروں کی جانب سے آپ کے نوٹ کو ’ہیلپ فل‘ یعنی ’کارآمد‘ ریٹ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ کا نوٹ ایکس پر اس پوسٹ کے نیچے شائع ہو جائے گا۔ مگر کام یہی نہیں ختم ہوتا۔ اس کے بعد اس پوسٹ کو پڑھنے والوں کو بھی اس نوٹ کو ریٹ کرنا ہوگا کہ آیا یہ سیاق و سباق دینے میں مددگار ثابت ہوا ہے یا نہیں۔ اگر زیادہ لوگ اس کو ’غیر مددگار‘ ریٹ کر دیتے ہیں تو ایکس اس کو پوسٹ کے نیچے سے ہٹا دیتا ہے اور اگر زیادہ صارفین اس کمیونٹی نوٹ کو ’مددگار‘ ریٹ کرتے ہیں تو یہ اس پوسٹ کے نیچے برقرار رہتا ہے۔ کمیونٹی نوٹس میں اپنا اندراج کرنے کے لیے لازم ہے کہ آپ نے کئی پوسٹ کو ایکس پر ریٹ کیا ہو۔ہماری تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایکس پر تحریک انصاف کے حامی نظر آنے والے بہت سے صارفین ’میڈی ٹوئٹس‘ نامی اکاؤنٹ کو ٹیگ کر کے مسلم لیگ نواز اور وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی پوسٹ پر کمیونٹی نوٹ شائع کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور میڈی ٹوئٹس نامی یہ اکاؤنٹ اس پر عمل کرنے کے بعد اپنے فالورز سے گزارش کرتا ہے کہ اس نوٹ کو ’مددگار‘ ریٹ کریں تا کہ ایکس اس نوٹ کو ہٹائے نہیں۔میڈی ٹوئٹس نامی یہ اکاؤنٹ اپنے فالورز کو کمیونٹی نوٹس پر اپنا اندراج کروانے کا مطالبہ بھی کر تا ہے۔ میڈی ٹوئٹس سے تحریک انصاف کے حق میں بھی متعدد پوسٹ کی جاتی ہیں، تاہم معلومات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش میں تحریک انصاف تنہا نہیں ہے، مسلم لیگ نواز کے حامی اکاؤنٹس اور رہنما بھی اپنے سپورٹرز کو یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ تحریک انصاف کے بیانیے سے ہم آہنگ کمیونٹی نوٹس کو ’غیر مددگار‘ ریٹ کریں تا کہ ایکس ان کو ہٹانے پر مجبور ہوجائے، یہ بات افسوسناک اور پریشان کن ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ سے نمٹنے والا کمیونٹی نوٹس اس وقت پاکستان میں سیاست اور معلومات کے غلط استعمال کا ذریعہ بن چکا ہے۔
