نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر غلطی کی

وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کو اپنی حکومت کی غلطی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں یہ حالات بتائے گئے کہ نواز شریف شاید لندن بھی نہ پہنچ سکیں، اگر میڈیکل بورڈ سفارش نہ کرتا تو نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دیتے۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف یہاں بیمار تھے لیکن لندن پہچتے ہی انھوں نے سیاست شروع کر دی، نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر افسوس ہے، انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینا ہماری غلطی ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب نواز شریف کا ایشو سامنے آیا تو ماحول ایسا بن گیا کہ پہلے ڈاکٹروں کی رائے آئی کہ وہ بچیں گے نہیں ان کی جان خطرے میں ہے جس پرکابینہ میں 6 گھنٹے بحث ہوئی کہ کیاکیا جائے، دوسری جانب عدالت نے کہہ دیا کہ انہیں کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ رکھے، شہباز شریف نے عدالت کو ضمانت دی اور وہ باہر چلے گئے، ایک نواز شریف یہاں تھے اور ایک جیسا باہر دیکھا گیا اب ہم پشیمانی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے وہاں سیاست بھی شروع کردی ہے اوربظاہر دیکھنے میں بیمار بھی نہیں لگتے۔عمران خان نے نواز شریف کو این آر او دینے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوشش کی جو ہم کرسکتے لیکن جو ہمارے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ مرسکتے ہیں شاید لندن پہنچ بھی نہ سکیں اور اس صورت میں ہم پر ذمہ داری آنی تھی اس لیے ہم نے جذبہ خیر سگالی کے تحت انھیں باہر بھیجا۔تاہم اب جب وہ سیاست دانوں سے رابطے کررہے ہیں،ہم سب پچھتا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی۔
نواز شریف کی رپورٹ کی تحقیقات کروانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر میں ڈاکٹر یاسمین راشد سے مسلسل رابطے میں تھا اور ڈاکٹر فیصل سے بھی مشورہ کیا جنہوں نے کہا تھا کہ پلیٹ لیٹس کا اتنا مسئلہ نہیں لیکن انہیں لاحق دیگر بیماریوں کے باعث ان کی جان خطرے میں آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے رابطے باہر ہیں لیکن وہ میرے لیے مسئلہ نہیں تھا، اگر طبی رائے میں یہ بات نہ کہی جاتی کہ ان کی جان خطرے میں ہے تو میں کبھی باہر جانے کی اجازت نہ دیتا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پراسمبلی میں جو ڈرامہ ہوا اس میں آپ کو معلوم ہوگا کہ اگر کسی حکومت نے کوئی اسٹینڈ لیا تو کبھی کسی اپوزیشن نے حکومت کو اتنا زیادہ بلیک میل نہیں کیا جتنا اس اپوزیشن نے حکومت کو ہر مرحلے پر کیا۔اپوزیشن نے حکومت کو صرف اس لیے بلیک میل کیا کہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں این آر او دیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف پر اپوزیشن کے این آر او مانگنے کی بات پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ ہمیں 2 کام کردو ایک منی لانڈرنگ کا قانون اس میں سے نکال دو دوسرا نیب کی قبر کھود کر اسے دفنا دیا جائے تاکہ ہم احتساب اور منی لانڈرنگ سے بچ جائیں۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز سینیٹ سے منظور کروانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے ہم پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا رہے ہیں جس میں انہوں نے اگر ہمیں شکست دی تو ملک کے بلیک لسٹ میں جانے کے ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے۔
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں کبھی بھی طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش نہیں کی گئی اور ہمیشہ 2 قانون رہے ایک طاقتور دوسرا کمزوروں کے لیے۔وزیراعظم نے کہا کہ 1985 کے بعد جنرل ضیاالحق نے پاکستان پیپلز پارٹی کو باہر کرنے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کروائے جس کے نتیجے میں لوگ منتخب ہو کر آگئے اور انہیں پارٹی میں پیسے دے کر شامل کروانا تھا، اس وقت سے پاکستان میں رشوت شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت میں 2 مرتبہ آصف زرداری کو جیل بھجوایا گیا، جب ان کی حکومت ختم ہوجاتی تھی وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچ جاتے تھے یعنی جب آپ طاقت میں ہیں تو جو مرضی کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح ان کے کرپشن کیسز کو چھوڑ دیا جائے لیکن جو مرضی ہو جائے احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے، میری حکومت چلی جائے وہ مجھے منظور ہے لیکن ان کو اگر میں نے کرپشن کیسز سے نکال دیا اور این آر او دے دیا تومیں ملک سے غداری کروں گا، مجھے اللہ کو جواب دینا ہے، اپنی آخرت کا سوچنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button