نواز شریف کو مائنس کرنے کا پیچیدہ منصوبہ کیوں بنایا گیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سید حماد غزنوی نے کہا ھے کہ الیکشن 2024 ءکا ایک بڑا ہدف ’لاڈلے‘ نواز شریف کو وزیرِ اعظم ہائوس سے باہر رکھنا بھی تھا ، یہ منصوبہ نہایت پیچیدہ تھا۔ پاکستانی سیاست کا ہر طالبِ علم جانتا ہے کہ مسلم لیگ کا ووٹ بینک نواز شریف کا مرہونِ منت ہے نہ کہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا۔ نواز شریف ہار گیا اور باقی سارا خاندان جیت گیا، بات کچھ ہضم نہیں ہوئی۔ اس ساری نقشہ سازی کا مقصد ’سیاست‘ میں سے سیاست کا عمل دخل ختم کرنا ہی نظر آتا ہے، جس کے لیے مائنس ٹو ضروری سمجھا گیا۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، ورنہ آپ کو اچھوت قرار دے دیا جاتا ہے۔ ملکوں کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کو انتخابات اس لئے کروانے پڑے ہیں، تاکہ پاکستان بارے ایک ’سیدھا سادھا جمہوری ملک ہونے کا التباس باقی رہے۔ ورنہ تو نہ آئی ایم ایف قرض دینے پر تیار تھا، نہ مغرب کوئی تعلق رکھنے پر، لہٰذا چاروناچار، خواہ مخواہ انتخابات کا انعقاد کروانا پڑ گیا۔ جمہوری ممالک میں شفاف انتخابات سیاسی استحکام کا باعث ہوا کرتے ہیں، جب کہ متنازع انتخابات تو بہ ذاتِ خود ایک مسئلہ ہوتے ہیں جو مزید سیاسی انارکی کو جنم دیتے ہیں۔ انتخابات تو ہمارے ہاں اکثر الٹے سیدھے ہی ہوئے ہیں، مگر الیکشن 2024 ء نے تو کمال ہی کر دیا ۔مثلاً، 2018 ءکے انتخابات میں ایک سیدھا سادہ ہدف تھا، عمران خان کو الیکشن جتانا تھا، نواز شریف کو الیکشن ہرانا تھا، زیادہ گنجل، گرہیں نہیں تھیں۔ مگر حالیہ انتخاب تو کسی عجیب الخلقت بچھڑے سے مشابہت رکھتے ہیں، دو منہ اور تین آنکھوں والا بچھڑا، جسے دیکھ کر خلقِ خدا دنگ رہ جاتی ہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ حالیہ الیکشن سے پہلے عمران خان جیل میں تھے، انہیں سزائیں سنائی جا رہی تھی، ان کی جماعت میں توڑ پھوڑ ہو رہی تھی، یعنی لگ بھگ وہی صورتِ احوال تھی جو 2018ءمیں نوا شریف اور ان کی جماعت کو درپیش تھی۔ مگر فرق یہ تھا کہ 2018 میں مسلم لیگ کے الیکٹیبلز کو ہانک کر بطور ایک گروہ پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا، جب کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو ٹکڑیوں کی صورت میں، مختلف علاقوں میں، مختلف سیاسی جماعتوں میں داخل کیا گیا۔سیاست کے طالبِ علم بھانپ گئے تھے کہ نقشہ سازوں کے دل میں کوئی پیچیدہ ڈیزائن ہے۔ اس عجیب الخلقت بچھڑے کے خدوخال پر ایک نظر ڈالیے۔ نواز شریف کی لاہور سے نشست کو مشکوک بنانے کے لیے کیسے کیسے جتن کئے گئے، جب کہ لاہور میں ساتھ والے حلقوں سے شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور مریم نوازکی انتخابی جیت پر ہم نے کوئی بلند آہنگ اعتراض نہیں سُنا۔ہماری سیاست خالصتاً بیبے بچوں کا کھیل ہے، اشتراکِ اقتدار کا ایک اور تجربہ ا ٓغاز کیا جا رہا ہے جس میں سیاست دانوں کا کردار مزید واجبی سا نظر آتا ہے، خارجہ امور پہلے بھی سیاست دانوں کی پہنچ سے باہر ہوتے تھے، اب داخلہ امور بھی محسن نقوی دیکھیں گے، ایس آئی ایف سی نامی فورم مالی اور اقتصادی امور کا نگراں ہو گا، اور سونے پر سہاگے کا کردار نیدر لینڈ کے ایک شہری اورنگ زیب رامے بہ طور وزیرِ خزانہ انجام دیں گے۔
حماد غزنوی کے مطابق غالباً، سیاست دانوں نے میثاقِ معیشت کرنے میں بہت دیر لگا دی۔اب آپ ہی بتائیں کہ خارجہ، داخلہ اور اقتصادی امور نکال کر پیچھے کیا بچا؟ چھان بُورا؟ بس اس چھان بورے کی راکھی بیبے سیاست دانوں کی ذمہ داری قرار پائی ہے۔اس سے بڑھ کر کچھ سوچنے والے سیاست دانوں کے پر کترنے کا مناسب بندوبست موجود ہے، ریاستی قینچیاں اور اُسترے مزید تیز کیے جا رہے ہیں، فضا میں کچا کچ کا شور بلند تر ہونے کو ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک خبر آئی کہ تین افغان دہشت گرد اڈیالہ جیل پر حملہ کرنے چاہتے تھے، ان کے پاس سے اسلحہ اور جیل کے نقشے بھی برآمد ہوئے، خبر درست تھی یا نہیں، مگر اس کی آڑ میں عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ادھر کور کمانڈرز کانفرنس میں نو مئی کے ملزموں سے نبٹنے کے عزمِ صمیم کا اظہار کیا گیا ہے۔ عرض یہ ہے کہ حالات ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہیں۔ بلا شبہ، یہ طے کر لیا گیا ہے کہ پاکستان سیاست نام کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا، الیکشن بین الاقوامی دبائو کے تحت ایک مجبوری تھے سو ہو گئے۔
