نواز شریف کی ضمانت میں توسیع، پنجاب حکومت کی نئی کمیٹی تشکیل

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی ضمانت میں توسیع یا منسوخی کے حوالے سے رائے دینے کیلئے پنجاب حکومت نے نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے. صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت کی سربراہی میں محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سےقائم کردہ کمیٹی میں وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا بطور ممبر شامل ہیں.کمیٹی میڈیکل رپورٹس کے مطابق درخواست ضمانت پر رائے دے گی۔ تشکیل دی گئی کمیٹی میاں نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر میڈیکل بورڈ کی رائے کی روشنی میں ضمانت کی منسوخی یا توسیع کے حوالے سے اپنی رائے دے گی.
یاد رہے کہ اس سے قبل نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نامکمل ہونے پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، حکومت پنجاب نے نواز شریف کی میڈیکل اور ٹیسٹ رپورٹس فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ محکمہ داخلہ پنجاب پہلے ہی تازہ رپورٹس پر بھی تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی بیرون ملک قیام میں توسیع کے معاملے پر صوبائی وزیر قانون، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی۔
24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ 29 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیراعظم کی 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی تھی۔ ہائیکورٹ کی جانب سے نوازشریف کی ضمانت منظوری اور سزا معطلی کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ نوازشریف کی ضمانت 8 ہفتوں کے لیے منظور اور سزا معطل کی جاتی ہے۔ فیصلے کے مطابق نوازشریف کی طبیعت خراب رہتی ہے تو وہ ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں، طبیعت خرابی پر نوازشریف 8 ہفتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ فیصلے میں حکم دیا گیا کہ پنجاب حکومت کے فیصلہ کیے جانے تک نوازشریف ضمانت پر رہیں گے، اگر نوازشریف پنجاب حکومت سے رجوع نہیں کرتے تو 8 ہفتے بعد ضمانت ختم ہوجائے گی۔
16 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور انہیں علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد وہ 19 نومبر 2019 کو لندن روانہ ہوگئے تھے۔
