نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں جعل سازی کا الزام جھوٹا نکلا


وزیر اعظم عمران خان کے نالائق مشیران انکی سبکی کا سبب بننے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور حکومتی ترجمان شہباز گل نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کو جعلسازی پر مبنی قرار دیا تھا لیکن ان کے بلند و بانگ دعووں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب ان کے اپنی جماعت کی وزیر صحت یاسمین راشد اورسابق وزیر اعظم کاعلاج کرنے والے ڈاکٹروں نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے نواز شریف کی رپورٹس کو اصل قرار دے دیا۔
یاد رہے کہ مرزا شہزاد اکبراور شہباز گل نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ نواز شریف نے ملک سے باہر جانے کے لیے اپنی میڈیکل رپورٹس میں ہیرا پھیری کروائی۔ تاہم پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد اور دیگر طبی ماہرین نے ان الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیمپل ٹیوب میں موجود ای ڈی ٹی اے نامی کیمیکل کی مقدار میں کمی یا زیادتی پاکستان میں ممکن نہیں کیونکہ تمام پاکستانی لیبارٹریز ایک ہی کمپنی کی تیار کردہ سیمپل ٹیوبزاستعمال کرتی ہیں اور نواز شریف کے ٹیسٹ دو مختلف لیبارٹریز سے کرائے جاتے تھے جو ہمیشہ آپس میں میچ ہوئے۔ ان کامؤقف ہے کہ ٹیسٹ رپورٹس کے نتائج میں ردوبدل کسی بھی صورت ممکن نہیں اس لئے حکومتی عہدیداران کو پائلٹس کی ڈگریوں کی طرح پاکستانی ڈاکٹرز اور لیبارٹریز بارے میں غیر ذمہ دارانہ اورغیر محتاط بیانات دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر فواد چودھری کی جانب سے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پر شکوک کا اظہار کرنے پر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کی میڈیکل رپورٹس کی ایک سو بار انکوائری کروالیں، یہی ثابت ہوگا کہ وہ رپورٹس اصلی تھیں۔ یاسمین راشد نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ چونکہ فواد چوہدری ڈاکٹر نہیں، اس لئے ان کیلئے میڈیکل رپورٹس کو سمجھنا مشکل ہوگا۔
خیال رہے کہ شہباز گل اور شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ نواز شریف کے پاکستان میں ہونے والے ٹیسٹوں میں استعمال ہونے والی سیمپل ٹیوبزمیں ای ڈی ٹی اے نامی کیمیکل کی مقدار بڑھا کران کے خون کے سیمپل لئے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے پلیٹ لیٹس میں کمی سامنے آتی رہی۔ تاہم طبی ماہرین وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کے دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ خون کو جمنے سے روکنے کیلئے سیمپل ٹیوبز میں موجود ای ڈی ٹی اے کیمیکل کی مقدار کم یا زیادہ کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کی تمام مستند لیباریٹریاں بیکٹن ڈکسن نامی مشہور کمپنی کی تیار کردہ ای ڈی ٹی اے کی سیمپل ٹیوب استعمال کرتی ہیں۔
دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے ٹیسٹوں میں ردو بدل اس لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ نواز شریف کے سروسز اسپتال لاہور میں علاج کے دوران خون کے تمام ٹیسٹ سروسز اسپتال لاہور کی اپنی لیباریٹری اور کراچی میں واقع ایک بڑے نجی اسپتال کی لاہور میں موجود لیبارٹری سے کروائے جاتے تھے۔ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم تھے یا نہیں اس حوالے سے نواز شریف کا علاج کرنے والے معروف ماہر امراض خون ڈاکٹرطاہر شمسی کے مطابق خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کو چانچنے کیلیےخون کا سیمپل ایک پوٹیشئم ای ڈی ٹی اے ٹیوب میں لیا جاتا ہے جس میں ای ڈی ٹی اے نام کا کیمیکل خون کو جمنے سے روکنے کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں تمام مستند لیبارٹریوں میں بیکٹن ڈکسن نامی مشہور کمپنی کی تیار کردہ ای ڈی ٹی اے ٹیوب استعمال کی جاتی ہیں۔ اس میں 1.8 فیصد ای ڈی ٹی اے استعمال کیا جاتا ہے جو بین الاقوامی معیار کی عین مطابق ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ ٹیوب ملکی سطح پر مقامی لیباریٹریاں نہیں بناتیں اور نہ ان درآمد شدہ ٹیوب کے اندر بیرونی طور پر ای ڈی ٹی اے نامی کیمیکل داخل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ای ڈی ٹی اے کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کی تعداد مصنوعی طور پر کم ہوگئی ہے لیکن اس کے برخلاف ایک بیمار شخص جس کے پورے جسم پرپلیٹ لیٹس کی شدید کمی کی وجہ سے نیل پڑے ہوں دانتوں اور مسوڑھوں سے خون جاری ہو اور ٹانگوں پر سرخ رنگ کے دھبے ہوں تو پلیٹ لیٹس کی کمی کی رپورٹ درست تسلیم کی جاتی ہے۔
دوسری طرف نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں جعلسازی کے بارے میں نیب حکام کا کہنا ہے کہ بیورو ایک تحقیقاتی ادارہ ہے جس کے پاس اس کے اپنے ڈاکٹرز نہیں ہوتے’۔ ‘نیب تفتیشی افسران، پراسیکیوٹرز اور مختلف شعبوں کے کچھ ماہرین کو تعینات کرتا ہے لیکن نیب نے کبھی بھی ڈاکٹروں کی خدمات حاصل نہیں کی’ نیب ملزمان کا طبی معائنہ یا علاج پنجاب حکومت کے مختص ڈاکٹرز ہی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف سے متعلق پہلی پیتھولوجیکل ٹیسٹ رپورٹ سروسز ہسپتال لاہور سے طلب کی گئی، جس میں نواز شریف کی پلیٹ لیٹس گنتی میں نمایاں کمی کی تصدیق ہوئی تھی اور اس کے نیب نے نواز شریف کو مزید لیبارٹری ٹیسٹ اور طبی علاج کے لیے سروسز ہسپتال پہنچایا گیا اس لئے اگر رپورٹس میں کوئی جعلسازی ہوئی ہے تو پنجاب حکومت سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button