نون لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد کا اصل مقصد کیا ہے؟

ایم کیو ایم پاکستان اور نون لیگ کے انتخابی اتحاد نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ کچھ مبصرین اسے پیپلز پارٹی کو سندھ میں ٹف ٹائم دینے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق مقتدر حلقوں کی ایما پر یہ اتحاد تشکیل دیا گیا ہے جو جلد آپ ئ انجام کو پہنچ جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے حال ہی میں سیٹ ایڈجسمنٹ کا اعلان کیا ہے اور دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں 2013 کے عام انتخابات کے نتائج جیسی صورتحال چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ ان انتخابات میں کراچی سے ایم کیو ایم کی صوبائی اسمبلی کی 33 اور قومی اسمبلی کی 17 نشستیں تھیں جبکہ مسلم لیگ ن نے صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کی تھیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر امین الحق کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈجسمنٹ لوکل سطح پر کی جائے گی اور یہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگرعلاقوں میں بھی ہوگی تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ کن کن جگہوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی اور منشور کمیٹی کے رکن کھیل داس کوہستانی کہتے ہیں کہ ’ایک خاموش ووٹر ہوتا ہے جو دیکھتا ہے کہ کس کی حکومت آ رہی ہے اور لوگ کس کی طرف ہیں تو وہ ووٹ چلا آتا ہے۔‘’یقینا ایم کیو ایم بھی سمجھتی ہے کہ آنے والے دنوں میں پنجاب میں اکثریت مسلم لیگ ن کی ہو گی تو مرکز میں اور صوبے میں اس کا اتحاد ہوگا، لہذا کراچی کی 23 نشستوں میں سے کچھ مسلم لیگ ن کے پاس ہوں گی اور اکثریت ایم کیو ایم کے پاس ہوگی۔ جو پوزیشن 2013 کی تھی وہی رہے گی۔‘
خیال رہے کہ ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ اپنے قیام سے لے کر تین بار مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت رہی اور تینوں ادوار میں اسے آپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ 2013 کے آپریشن کے دوران ایم کیو ایم دھڑوں میں بٹ گئی جو رواں سال، لندن گروپ کو چھوڑ کر، ایک بار پھر متحد ہو گئی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف حکومت میں بھی شامل تھی اور جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو ایم کیو ایم نے اس کا بھی ساتھ دیا اور بعد میں وہ شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کا حصہ بن گئی۔
ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے دھڑوں کے انضمام کے بعد پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ لیکن سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے پاس محدود آپشن ہیں اور وہ ایک کمزور پارٹنر ہے۔’اگر تحریک انصاف کو سپیس نہیں ملتی تو اس بات کا امکان ہے کہ ایم کیو ایم کا ووٹر واپس آئے گا۔ پیپلز پارٹی کے بعد تیسرا چیلنج تحریک لبیک پاکستان ہے جو اچھا خاصا ووٹ لے سکتی ہے۔ اس صورتحال میں ایم کیو ایم کی قیادت اس جماعت کی طرف جانا چاہتی ہے جس کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کے بھی معاملات آگے جاکر ٹھیک ہو جائیں۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نون لیگ اور ایم کیو ایم کے انتخابی اتحاد کا اصل فائدہ کس کو ہو گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ ’اس اتحاد سے مسلم لیگ ن کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ یہ تاثر دے گی کہ وہ ایک قومی اور وفاقی جماعت ہے نہ کہ پنجاب کی نمائندہ جماعت۔‘’ایم کیو ایم کو یہ فائدہ یہ ہوگا کہ آنے والی حکومت بنتی ہے تو وزارتوں میں شیئر ملے گا کیونکہ کراچی میں اب ایم کیو ایم کے لیے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے دوبارہ کراچی کا حصول دشوار ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے میئرشپ حاصل کرلی ہے لہذا وہ وفاقی حکومت کا حصہ بن کر کچھ وزارتیں لے سکتے ہیں۔‘فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ ’ایم کیو ایم کے لیے یہ اتحاد اس وجہ سے بھی اہم ہے کیونکہ کراچی کا مینڈیٹ اب تقسیم ہو گیا ہے۔ 2013 میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ ابھرتا دیکھا جو 2018 میں مضبوط ہوا اور 2018 میں تحریک لبیک کا مینڈیٹ بھی ابھرا۔ اب ایم کیو ایم کا تسلط اس طرح کا نہیں رہا جو 2013 یا اس سے قبل رہا ہے۔‘’اس لیے ایم کیو ایم کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ قومی سطح پر اس طرح کے اتحاد کر کے سیاسی طاقت حاصل کرے۔ نظر یہ آتا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ موجود ہے، وہ ٹوٹا نہیں ہے، اس لیے ایم کیو ایم مسلم لیگ ن کے لیے یہ اتحاد اہمیت رکھتا ہے۔‘
دوسری جانب بعض تجزیہ نگار اور سیاست دان ایم کیو ایم کے ن لیگ سے اتحاد کو اسٹیبلشمنٹ کی کوشش قرار دیتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں کہا کہ مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے اتحاد کا نقصان خود ان دونوں جماعتوں کو ہوگا کیونکہ ’جو سیاسی اتحاد خود بخود بنتے ہیں وہ اچھے طریقے سے سیاست کرسکتے ہیں لیکن جو اتحاد بنوائے جاتے ہیں تو وہ دونوں اتحاد میں شامل اور اتحاد بنوانے والوں کے لیے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔
دوسری جانب سینئر تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ 2016 کے بعد کی ایم کیو ایم اپنے طور پر فیصلے لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔’وہ جن حلقوں کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی جگہ انھیں واپس لایا جائے کیونکہ تحریک انصاف کو آٹھ دس نشستیں دلوائی گئی تھیں۔ اب تحریک انصاف خود اتنی نشستیں لے سکتی ہے کیونکہ آج کی صورتحال میں ان کے پاس وکٹم کارڈ موجود ہے۔ اگر انھیں سپیس ملتی ہے تو ایم کیو ایم کے لیے مشکل ہوسکتی۔‘
ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایم کیو ایم کسی کی ٹیلیفون کالز پر نہیں چلتی بلکہ ایم کیو ایم اپنا فیصلہ باہمی مشاورت سے کرتی ہے جس میں رابطہ کمیٹی اور ورکرز کنونشن کی تائید شامل ہوتی ہے۔‘
مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کا اتحاد کیا پیپلز پارٹی کے لیے کراچی میں پریشانی کا باعث بن سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نفی میں دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کا تو انھیں فائدہ ہوگا کیونکہ جماعتوں نے اتحاد کیا ہے نہ کے ووٹر نے۔بقول سعید غنی کے ’اگر کوئی گڑ بڑ نہ ہوئی تو پیپلز پارٹی آٹھ سے دس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔‘
