نون لیگ عثمان بزدار کو گھر بھجوانے پر راضی کیوں نہیں ہو رہی؟


حالیہ دنوں بلاول بھٹو کی جانب سے عثمان بزدار کی چھٹی کروانے کے مشن کو ن لیگی قیادت اصل میں اسٹیبلشمنٹ کی چال قرار دے رہی ہے تاکہ پرویز الہی کو اقتدار میں لایا جاسکے۔تاہم پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اپنے کزن حمزہ شہباز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کے حق نہیں اسی لئے بزدار ہٹاؤ مشن کو کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس الزام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ حالیہ دنوں اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر بزدار حکومت گرانے کا مشن شروع کیا تھا تاہم نواز شریف کی جانب سے یہ تجویز مسترد کئے جانے پر منصوبہ ادھورا رہ گیا اور پھر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے استعفوں کے معاملے پر ن لیگ اور ییپلزپارٹی میں اختلافات کے بعد پنجاب میں تبدیلی کا چیپٹر ہی کلوز ہوگیا۔
پاکستان کی سیاست میں گزشتہ دنوں اسوقت خاصی ہلچل پیدا ہوئی تھی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بزدار سرکار کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز سے لاہور میں ملاقاتیں کیں۔ بلاول نے چوہدری پرویز الٰہی سے بھی ملاقات کی جس میں پنجاب حکومت کے معاملات بھی زیر بحث آئے تاہم فریقین کی جانب سے زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف ق لیگ کی درپردہ حمایت سے تحریک عدم اعتماد لانے کا آپشن لیگی رہنماؤں کے سامنے رکھا تھا جسے مسترد کر دیا گیا۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول کے پلان کے مطابق ق لیگ کے کرتا دھرتا اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کو بزدار کی جگہ وزیراعلی بنوانے کی کوشش کی گئی تھی جسے نواز شریف نے اس بنیاد پر ویٹو کر دیا کہ پرویز الہی کا تعلق بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قبیلے سے ہے لہذا اگر ڈھائی سال بعد بھی پنجاب میں تبدیلی لانی ہے تو ایک مہرے کو ہٹا کر دوسرا مہرا لگانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ نواز شریف ہر صورت نئے انتخابات چاہتے ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ اگر پرویز الہی کو وزیراعلی لگا دیا تو پیپلزپارٹی اور ق لیگ دونوں جماعتیں پنجاب میں ن لیگ کی جڑیں کاٹنا شروع کردیں گی لہذا لیگی قیادت کے انہی تحفظات کے باعث یہ مشن ادھورا رہ گیا۔
اس مہم کی ناکامی کے چند روز بعد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ن لیگ اور ییپلزپارٹی میں استعفوں کے معاملے پر دوریاں پیدا ہونے کر پس منظر میں اب لیگی رہنماؤں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بزدار کی جگہ پرویز الہی کو لانا چاہتی تھی جو مسلم لیگ ن کے لئے قطعاً قابل قبول نہ تھا ۔ مریم نواز نے تو میڈیا سے گفتگو میں باقاعدہ یہ دعوی کر دیا کہ آصف زرداری کی جانب سے نواز شریف کو یہ تجویز دی گئی تھی کہ پنجاب میں بزدار کو ہٹا کر پرویز الہی کو وزیر اعلی لایا جائے تاکہ مرکز میں حکومت پر حملے کی تیاری کی جا سکے۔
تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے بزدار سرکار کو ہٹانے کے حوالے سے صرف پرویزالٰہی کا آپشن سامنے نہیں رکھا تھا بلکہ بلاول بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ پنجاب میں حکومت بنانے کا حق نون لیگ کو ہے اور اگر واقعی نون لیگ کے پاس پندرہ سے بیس تحریک انصاف کے ایم پی ایز کے ووٹ ہیں تو وہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلی منتخب کروانے کے لیے پیپلز پارٹی کے سات ووٹ دلوانے کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ذرائع نے یاد دلوایا کہ بلاول نے اپنے حالیہ دورہ لاہور میں حمزہ شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی اور جس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے یہ کہا تھا کہ پنجاب میں بطور اپوزیشن لیڈر وزارت اعلیٰ حمزہ شہباز کا حق ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت بالخصوص مریم نواز اس حق میں نہیں ہیں کہ حمزہ شہباز پنجاب کے وزیر اعلی بنیں۔ اس سے پہلے میڈیا پر مریم نواز اور حمزہ شہباز کے باہمی اختلافات کے حوالے سے بھی خبریں آتی رہی ہیں جن کی مریم نے سختی سے تردید کی ہے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے نوازشریف کہتے ہیں کہ گزشتہ ڈھائی سال میں بزار سرکار کی ناکامیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہ پانچ سال پورے کرنے کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کا خواب بھی نہ دیکھیں۔
پیپلزپارٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی عثمان بزدار سے خوش نہیں اور مرکز میں عمران خان کی حکومت گرانے سے پہلے پنجاب ھکومت گرانا ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو یہ پلان مناسب لگا کہ پہلے بزدار سرکار گرائی جائے تاکہ مرکز میں حکومت چلانا اممکن ہو جائے۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اگر حکومت گرائی جائے گی تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ نواز لیگ کا ہوگا اور اس سارے پلان میں پیپلز پارٹی کا کوئی ذاتی مفاد شامل نہیں ہے۔
تاہم ن لیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھنے اور اپنی جماعت میں اختلافات کی وجہ سے پنجاب میں تبدیلی کا خواب ادھورا رہ گیا لگتا ہے۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا سرکاری موقف یہی ہے کہ وہ بزدار کی جگہ پرویز الہی کو پنجاب کی کرسی نہیں دینا چاہتے مگر حقیقت یہ ہے کہ نواز لیگ کی مرکزی قیادت اسمبلی شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کو وزیراعلی پنجاب بنوانے کے لیے تیار نہیں۔
واضح رہے کہ 371 اراکین پر مشتمل پنجاب اسمبلی کے ایوان میں تحریک انصاف کے 181 کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے 165 ارکان ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کو بزدار کو فارغ کرنے کے لیے صرف 7 ایم پی اے کی حمایت حاصل ہے۔ اگر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کے پاس دس سے پندرہ حکومتی ایم پی ایز کے ووٹ ہوں تو عثمان بزدار کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کرنا کوئی مشکل کام نہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ن لیگ ہی بزدار کو ہٹانا نہیں چاہتی۔
پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما سید حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ ہم نے پنجاب میں تبدیلی کے لیے باضابطہ طور پر اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں اور عیدالفطر کے بعد اس میں شدت پیدا ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن عثمان بزدار کے متبادل کے طور پر اپنا امیدوار لائے تو پیپلزپارٹی اسکا بھرپور ساتھ دے گی۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے حسن مرتضیٰ کے عید الفطر کے بعد پنجاب میں تبدیلی کے بارے میں بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حسن مرتضیٰ کو اس طرح کی تبدیلی کا طریقہ کار واضح کرنا چاہیے۔
پنجاب میں ن لیگ کے سابق وزیر طاہر خلیل سندھو بھی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک غیر ضروری عمل ہو گا۔ انکامکہنا یے کہ ہماری پارٹی کے نزدیک اس وقت یہ سوچ ہے کہ کیوں ایک ایسے سیاسی عمل میں پڑا جائے جو ہمارے کسی کام کا نہیں؟ انکا کہنا تھا کہ بزدار کو ہٹانے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ پنجاب کا جو حال بزدار دور میں کر دیا گیا ہے اس میں سارا ملبہ اس پر آئے گا جو اب حکومت کو ہٹائے گا یا سنبھالے گا۔ تو میرے خیال میں یہ نہیں ہو گا اور نہ ہی مسلم لیگ ن ایسا کرے گا۔ تارڑ کا کہنا تھا کہ ویسے بھی اب جو کچھ سینیٹ میں ہو چکا ہے اس کے بعد تو ایسی بات سوچنا بھی مشکل ہوگی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن جو سیاست کر رہی ہے اس میں نواز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ نئے انتخابات ہی اب اصل حل ہیں۔ لیگی رہنما نے کہا کہ میرے خیال میں اب بزدار کو ہٹانے کی بحث پرانی ہو گئی ہے، انکو تحریک انصاف خود ہی ہٹائے تو ہٹائے۔
مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار سہیل ورائچ سے جب پوچھا گیا کہ ن لیگ پنجاب میں تبدیلی کیوں نہیں چاہتی تو انہوں نے کہا کہ بزدار ایک کمزور وزیر اعلی ہیں، ان سے نہ تو بیوروکریسی ہسنبھل رہی ہے اور نہ ہی سنبھلے گی کیونکہ بیوروکریسی میں ن لیگ کے اب بھی بہت مضبوط روٹس ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ بزدار ن لیگ کی انشورنس پالیسی ہیں۔ وہ اپنی پالیسی کیوں ختم کریں گے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ بالکل بھی بزدار کو ہٹانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگر چوہدری پرویز الہی جیسا مضبوط وزیر اعلی آگیا تو نہ صرف بیورکریسی سیدھی ہو جائے گی بلکہ ن لیگ میں بھی شگاف پڑ سکتا ہے۔ تو میرے خیال میں اس وقت ن لیگ ہی سب سے بڑی حامی بزدار کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button