طارق بشیر چیمہ کی بیٹی نے باپ کو کیسے پھنسوایا؟


وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے خاندان کو گھر پر کرونا ویکسین لگانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے قاف لیگ کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنی فیملی کو آوٹ آف ٹرن ویکسین لگوانے کے لیے سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا۔ سوشل میڈیا ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد طارق بشیر چیمہ کے خاندان سے ہیں اور یہ ویڈیو انکی بیٹی نے شیئر کی ہے۔
لیکن سوشل میڈیا پر سیاستدانوں سے لے کر صحافی اور عام عوام تک سبھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ابھی تک صرف 60 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد کو صرف حکومتی مراکز میں جا کر ویکسین لگوانے کی اجازت ہے تو پھر کس بنیاد پر وفاقی وزیر کے خاندان کے جوان افراد کو ان کے گھر جا کر کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ دوسری جانب طارق بشیر چیمہ کا دعوٰی ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کو جو ویکسین لگائی گئی ہے وہ ابھی ٹرائل میں ہے اور یہ حکومتی ویکسین نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انھوں نے تین ماہ قبل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ساتھ اپنے خاندان کو رجسٹرڈ کیا تھا۔ چیمہ کا کہنا ہے کہ یہ کین سائنو ویکسین تھی جو ابھی ٹرائل کے مرحلے میں ہے۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کین سائنو ویکسین کے ’فیز تھری‘ یا تیسرے مرحلے کے ٹرائلز ختم ہو چکے ہیں اور اب یہ ویکسین سرکار کی زیر نگرانی 60 برس سے زائد عمر کے افراد کو لگائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ طارق بشیر چیمہ کے خاندان کو کروناویکسین لگائے جانے کی ویڈیو ان کی بیٹی نوال طارق چیمہ نے انسٹاگرام پر ڈالی تھی جو وائرل ہو گئی اور انکے گلے پڑ گئی۔ ویڈیو میں وفاقی وزیر اور ماسک پہنے ایک اور شخص کے علاوہ مختلف عمروں کی بہت ساری خواتین، جن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں، ایک ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہیں جہاں ایک نرس باری باری انھیں ویکسین کے ٹیکے لگا رہی ہیں۔ ویڈیو میں نوال کی جانب سے ایک جگہ واضح طور پر لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے کہ ’میں نے کووڈ -19 کی ویکسین لگوا لی ہے۔‘ اگرچہ اس ویڈیو میں مختلف عمروں کی خواتین موجود ہیں تاہم زیادہ تعداد ایسی خواتین اور نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 40 اور 50 سال سے کم نظر آتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وائرل ویڈیو میں اداکارہ عفت عمر کو بھی ویکسین لگواتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ادکارہ نے ایک ٹویٹ بھی کی جسے شدید تنقید کے بعد اب ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے لیکن انٹرنیٹ پر سکرین شاٹ تو ہمیشہ رہتے ہیں۔ ڈیلیٹ کی گئی ٹویٹ میں عفت عمر نے لکھا تھا: ’میں یہ وضاحت کرنا چاہوں گی کہ یہ کینسائنو ویکسین کا بوسٹر شاٹ تھا۔ اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ یہ خوراک یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے فراہم کی گئی جنھوں نے اس سے قبل پہلے والی خوراک بھی مہیا کی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے پہلے مرحلے میں صحت عامہ سے منسلک افراد جیسے ڈاکٹرز، نرسز اور ہسپتال کے عملے کو ویکسین لگائی گئی تھی اور دوسرے مرحلے میں صرف ان افراد کو ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے جن کی عمریں 60 سال یا اس سے زیادہ ہیں جبکہ 30 مارچ سے 50 سال سے زیادہ عمر والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ویکسین لگانے کے لیے ملک کے کئی اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر متعدد ویکسین مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں جا کر کووڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پاکستان میں کچھ نجی کمپنیاں پرائیوٹ ویکسین کو مارکیٹ میں متعارف کروانے کے مراحل میں ہیں تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بھی ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ ابھی تک ان کے پاس کسی ضعیف العمر شخص کو اس کے گھر جا کر ویکسین لگانے کے متعلق کوئی ہدایات نہیں ہیں اور اسلام آباد کی حد تک ابھی تک کسی کے گھر جا کر اسے ویکسین نہیں لگائی گئی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے بتایا کہ میڈیا نے ویکسین لگانے جانے کی وائرل ویڈیو ان کی سکول میں پڑھنے والی بچی کے انسٹا گرام سے حاصل کر کے تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے کا رنگ دیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ساس کی صحت خاصی تشویشناک ہے، وہ چل پھر نہیں سکتیں اور ان کے لیے گھر کے ایک کمرے کو ہی ہسپتال بنا رکھا ہے، جہاں انھیں کرونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی۔ طارق چیمہ کا دعوٰی ہے کہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی کرونا ویکسین لگائی گئی ہے مگر جو ویکسین لگائی گئی وہ ابھی ٹرائل میں ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انھوں نے تین ماہ قبل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ساتھ اپنے آپ کو رجسٹر کیا تھا اور اب انکی باری آئی۔ دوسری جانب محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کین سائنو ویکسین کے ’فیز تھری‘ یا تیسرے مرحلے کے ٹرائلز اب ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں یہ یاد رہے کہ ویکسین کے یہ ٹرائلز بلائنڈ ٹرائلز ہوتے ہیں جو ایک انتہائی کنٹرولڈ سیٹ اپ کے اندر کیے جاتے ہیں اور کسی کے گھر جا کر اسے ویکسین نہیں لگائی جاتی۔ ان ٹرائلز میں کچھ لوگوں کو اصلی دوائی دی جاتی ہے اور باقیوں کو صرف۔پانی لگایا جاتا ہے۔ مریض کو بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ اسے اصل دوا لگائی گئی ہے یا پانی۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت تو سامنے نہیں آئی تاہم وزیرِاعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی شہباز گل نے اداکارہ عفت عمر کے ویکسین لگوانے پر شدید تنقید کی ہے۔ جس پر سوشل میڈیا پر موجود کئی افراد معاونِ خصوصی پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ ’گل صاحب کچھ جملے اپنے وزیر کے بارے میں بھی بول دیجئیے۔ یا اخلاقیات کا درس صرف اوروں کے لیے ہے؟‘
اس حوالے سے پنجاب حکومت کا موقف لینے کے لیے صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت نے وفاقی وزیر کے اہلخانہ کو ویکسین لگانے سے متعلق کوئی منظوری نہیں دی تھی۔‘ ان کے مطابق ’صوبائی حکومت کی یہ پالیسی ضرور ہے کہ اگر کوئی 80 سال سے زائد عمر کا فرد ہے یا کوئی کسی معذوری کی وجہ سے ہسپتال نہیں آ سکتا تو ہماری ٹیمیں گھر جا کر ایسے افراد کو ویکیسن لگاتی ہیں اور اس مقصد کے لیے 20 ہزار خوراکیں رکھی گئی ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سننے میں آیا ہے کہ طارق چیمہ کے اہلخانہ کو ٹرائل ویکسین لگائی گئی ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ایسی کوئی پالیسی ہے کہ کسی کو اس طرح ویکسین لگائی جائے۔
دوسری جانب معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن نے اس ویڈیو کو شئیر کرتے ہوئے لکھا: ’وفاقی وزیر طارق چیمہ صاحب کی پوری فیملی کو اُن کے گھر پر مکمل پروٹوکول کے ساتھ کرونا ویکسین لگوائی گئی۔ یہ ہے پاکستان کی اشرافیہ کا اصل چہرہ۔ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو، یہ کسی بھی اہم ادارے سے ہوں، پاکستان کے عام آدمی کو یہ پاؤں کی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں، انھیں اپنی شان و شوکت، پروٹوکول اور مقاصد عزیز ہیں۔ عام پاکستانی اور اُس کے بچوں کی زندگیاں اِن کے لیے مذاق ہیں۔‘
ایک اور صارف اویس سلیم نے شہباز گل کی اداکارہ عفت عمر پر تنقید پر لکھا: ’جس اتحادی وزیر کی موجودگی میں اس کے گھر پر ویکسین لگی اور جس کی حکومت میں لگائی گئی، ان کے بارے میں بھی کوئی ارشاد فرمائیں گے؟‘ نوید نامی صارف لکھتے ہیں: ’طارق بشیر چیمہ کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے سنیں تو لگتا پاکستان کا دکھ درد انھیں کھائے جا رہا ہے لیکن پوری فیملی سمیت ویکسین لگوا لی ہے۔‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’اگر تو یہ ویکسین پرائیوٹ ہے تو کوئی ایشو نہیں لیکن اگر اثرو رسوخ کا استمعال کر کے لگوائی گئی ہے تو شرم آنی چاہیے اور پنجاب حکومت کو تحقیقات کرنی چاہییں۔‘ وقاص امجد لکھتے ہیں کہ ’اس کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے پرائیویٹ ویکسین ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی۔ ایسے لوگ ہی حقداروں کا حق مارتے ہیں۔‘ ایخ اور صارف مدثر اکبر نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارے ملک پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘۔ ان جیسے سرمایا کار اپنی دولت اور رتبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سفید پوشوں اور غریبوں کا حق کھاتے ہیں ۔ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘ بیشتر صارفین اس معاملہ کی انکواٸری کروانے اور متعلقہ افراد اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دی نے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button